قلعہ بند پاکستان


تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے صرف اسلام آباد و راولپنڈی کو ہی حصار بند نہیں کیا گیا بلکہ ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے مظاہرین کو روکا گیا۔ احتجاج ناکام بنانے کے لئے گرفتاریاں اور گھروں پر چھاپے مار کر قبل از وقت حراست کا سلسلہ اس کے علاوہ ہے۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اور متعدد وزرا لوئر کرم میں خوں ریزی کے مسئلہ سے نمٹنے کی بجائے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

رات گئے تک کوئی قافلہ اسلام آباد نہیں پہنچا تھا۔ یا دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ حکومتی انتظامات کے سبب احتجاجی مارچ میں شامل ہونے والے لوگوں کو مختلف مقامات پر پولیس نے روک کر یا تو گرفتار کر لیا یا مار دھاڑ کے بعد منتشر ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری تھا۔ اس دوران علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں دارالحکومت پہنچنے کے لیے روانہ ہونے والا قافلہ ابھی راستے میں تھا۔ تحریک انصاف اور کے پی حکومت کے ترجمان واضح کرچکے ہیں کہ یہ لوگ بھاری مشینری ساتھ لے کر چل رہے ہیں تاکہ رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھنے کا راستہ بنایا جائے۔

وفاقی حکومت نے غیر ملکی مہمانوں کی آمد کے موقع پر اسلام آباد میں احتجاجیوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ اس عذر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے تقویت بھی پہنچائی جس کی بنیاد پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی کو مطلع کیا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد کسی احتجاج کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے، اس لیے یہ احتجاج اور ریلیاں اسلام آباد لانے کا ارادہ ترک کر دیا جائے۔ حکومتی ترجمان یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف خاص طور سے اسی وقت اسلام آباد میں احتجاج کے لیے کیوں آنا چاہتی ہے جب کوئی غیر ملکی ممتاز شخصیت پاکستان آ رہی ہوتی ہے۔ آج بیلا روس کا وفد سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچا ہے۔ سوموار کو بیلا روس کے صدر دارالحکومت پہنچنے والے ہیں۔

تاہم حکومتی ترجمانوں کی یہ عذر خواہی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ حکومت کسی بھی حالت میں تحریک انصاف کو جلسہ کرنے یا کسی دوسرے طریقے سے احتجاج کا کوئی موقع دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ فروری میں انتخابات کے بعد سے مسلسل یہ سلسلہ جاری ہے۔ سڑکوں پر احتجاج یا شہروں میں جلسہ تو ایک الگ بات ہے، موجودہ حکومت تو تحریک انصاف کے معاملہ میں اس حد تک حساس ہے کہ میڈیا پر اس کی خبروں پر پابندی ہے اور سوشل میڈیا پر عمران خان کی حمایت میں کی جانے والی مہم جوئی کو روکنے کے لیے سرکاری ادارے متحرک رہتے ہیں۔ متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں ممنوع ہیں یا انہیں مختلف اوقات میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہفتہ کے روز سے ہی ملک کے مختلف حصوں میں موبائل اور انٹر نیٹ سروسز معطل تھیں یا نہایت سست روی سے کام کر رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر مخالفانہ آرا کے اظہار پر گرفت کرنے اور انہیں ملک دشمنی سے تعبیر کہنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔

حکومتی رویہ کو مسترد کرنے کے باوجود یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ تحریک انصاف نے سوشل میڈیا مہم جوئی اور احتجاج منظم کرنے کے حوالے سے کسی ضابطہ یا اصول کو ماننے سے مسلسل انکار کیا ہے۔ عمران خان سمیت پارٹی کے سب لیڈر موجودہ حکومت کو ناجائز اور فارم 47 کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ موقف اسی وقت قابل قبول ہو سکتا ہے اگر تحریک انصاف کے لیڈر اپنے رویہ اور قول و فعل سے قانون پسند ہونے میں کامیاب ہو رہے ہوں۔ لیکن وہ بھی ہر ایسے قانون کو جوتی کی نوک پر لکھنے کا اعلان کرتے ہیں جو ان کی مرضی و منشا کے خلاف ہو۔ ایسے رویہ کے ساتھ پی ٹی آئی کی اس بات کو کیسے وزن دیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت چونکہ غیر قانونی ہے اور دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے طاقت کے ذریعے گرانا ضروری ہے۔ ’غیر قانونی‘ طریقوں کو اسی وقت غیر قانونی مانا جاسکتا ہے اگر اس کی نشاندہی کرنے والے عناصر خود قانون پر عمل کرنے کی عمدہ مثال پیش کر رہے ہوں۔ تحریک انصاف کا دامن اس حوالے سے خالی ہے۔

تحریک انصاف حکومت پر طعن زنی کرتے ہوئے یہ بھول جاتی ہے کہ وہ ایک سیاسی پارٹی ہے جو ملک میں مروج آئینی انتظام کے تحت اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ فروری کے انتخابات کے بعد اس کا یہی موقف رہا ہے کہ موجودہ حکومت چونکہ انتخابی دھاندلی سے اقتدار تک پہنچی ہے لہذا اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھاندلی زدہ حکمران ٹولے کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ کیا اس کا یہی طریقہ ہے کہ جس صوبے میں ایک پارٹی کی حکومت ہو، وہاں کے وسائل کو احتجاج منظم کرنے کے لیے صرف کیا جائے اور وفاق کی ایک اکائی کو مرکز سے لڑایا جائے؟ تحریک انصاف یہ طریقہ اختیار کر رہی ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتی ہے کہ خیبر پختون خوا میں اس کی حکومت بھی انہیں انتخابی نتائج کی وجہ سے قائم ہوئی ہے جن کے تحت دیگر صوبوں یا مرکز میں دوسری پارٹیوں کی حکومتیں قائم ہیں؟ کے پی کے انتخابات بھی اسی الیکشن کمیشن نے کرائے تھے جسے جانبدار قرار دے کر پورے انتخابی عمل کو ناجائز اور دھاندلی زدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کون سی دلیل لائی جائے گی کہ اگر سکندر سلطان راجا کے زیر قیادت کام کرنے والے الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی تین چوتھائی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا تو کیا وجہ ہے کہ اسی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں خیبر پختون خوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت مل گئی؟ کیا اس میں بھی کچھ گھپلا ہے یا جہاں اپنا فائدہ ہو وہاں دھاندلی قبول ہے اور جہاں حکومت نہ ملے وہاں انتخابات کو جعلی قرار دیا جائے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت اقتدار پر قابض پارٹیاں 2018 کے انتخابات کو جعلی قرار دیتی تھیں اور عمران خان کو نامزد وزیر اعظم کہا جاتا تھا لیکن اپوزیشن نے کوئی ایسا احتجاج منظم نہیں کیا جس کا مقصد حکومت گرانا ہو۔ بلکہ یہ مقصد اپریل 2022 میں اس وقت حاصل کیا جا سکا تھا جب پی ٹی آئی کا ساتھ دینے والی چھوٹی پارٹیاں حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو گئیں اور اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد میں کامیابی حاصل ہوئی۔ البتہ عمران خان جیسے 8 فروری کے انتخابات کو دھاندلی زدہ کہتے ہیں، اسی طرح اپنے خلاف عدم اعتماد کو بھی سازش کہہ کر مسترد کرتے ہیں۔ حالانکہ اسمبلی میں اکثریت کے لیے ارکان گنے جاتے ہیں اور عمران خان اس گنتی میں ہار گئے تھے۔ اس بحث سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کسی غیر قانونی کام کو تبدیل کرانے کے لیے قانونی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ اگر نام نہاد فارم 47 والی حکومت ناجائز ہے تو اسے ختم کرنے کے لیے صرف قانونی راستہ اپنا کر ہی یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ انگشت نمائی کرنے والے خود قانون پسند ہیں لیکن ان کا مقابلہ غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرنے والوں سے ہے۔ البتہ اس مقابلے میں لاقانونیت کا مقابلہ قانون شکنی سے کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ایک جائز اور درست مطالبہ بھی غلط ثابت ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف خود کو جائز اور حکومت کو غیر قانونی ثابت کرنے کی جد و جہد میں ناکام ہو رہی ہے کیوں کہ اس مہم کو غلط بنیاد پر استوار کیا جا رہا ہے۔ ایک صوبے میں اقتدار ملنے کے بعد اس اختیار کو خیبر پختون خوا ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے عوام کے سامنے یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا کہ درست سیاسی پارٹی چننے سے کیسے عوامی بہبود کے کام ممکن بنائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس صوبائی حکومت اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے زمین آسمان ایک کرنے اور ایک پارٹی کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہے۔ یہ طریقہ کار ملکی آئین اور جمہوری روایت کے برعکس ہے۔ دیانت داری کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان کی سیاسی عاقبت نا اندیشی، غلط فیصلوں اور جذباتی اقدامات کی وجہ سے تحریک انصاف شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ پارٹی کا کون سا لیڈر عمران خان کا وفادار ہے اور کون کسی درپردہ ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ پارٹی تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے ہی تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی صوبے میں کوئی احتجاج منظم کرنے یا جلوس نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ عمران خان کی اہلیہ 24 نومبر کے احتجاج کے بارے میں پرجوش مہم جوئی کرتی رہی ہیں، ان کا تعلق پنجاب سے ہے لیکن جیل سے رہا ہونے کے بعد انہوں نے پنجاب میں پارٹی منظم کرنے اور اپنی سیاسی طاقت دکھانے کی بجائے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کو اپنی سیاسی مصروفیات کا مرکز بنایا۔ اور اب پشاور سے ہی احتجاجی جلوس کی قیادت کر رہی ہیں جبکہ پارٹی پنجاب میں کوئی قابل ذکر مظاہرہ نہیں کر سکی۔

پاکستان کو ہر طرف سے حصار میں لے کر شہریوں ہی کی مشکلات میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے بتایا ہے کہ ایک دن کے احتجاج پر ملکی معیشت کو 19 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس نقصان میں شاید وہ اخراجات شامل نہیں ہوں گے جو احتجاج روکنے کے لیے کیے جانے والے انتظامات پر صرف ہوتے ہیں اور مختلف سرکاری پابندیوں سے افراد، تاجروں، کمپنیوں اور اداروں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی اگر وزیر خزانہ کے تخمینہ کو حتمی ما نا جائے تو پاکستانی عوام کو اس سوال کا جواب چاہیے کہ وہ اس نقصان کی تلافی کس سے طلب کریں۔ کیا اس کا بل تحریک انصاف کو بھیجا جائے یا شہباز شریف کی حکومت یہ نقصان پورا کرے گی؟

تحریک انصاف اس وقت عمران خان کی رہائی کے لیے سراپا احتجاج ہے لیکن اگر عمران خان رہا ہو جاتے ہیں تو کسی دوسرے عذر پر ملک بند کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ ملک کے شہریوں کی سہولت اور قومی معاشی فائدے کے لیے احتجاج اور جنگ جوئی کا موجودہ ماحول ختم کر کے سیاسی طور سے معاملات طے کرنا ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ جو فریق بھی یہ اصول ماننے سے گریز کرتا ہے، اسے عوام دوست کہنا مشکل ہو گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali