اشوک نگر: عظیم شہنشاہ اشوکا کی یاد میں بسایا گیا شہر


اشوک نگر دریائے سندھ (سندھ نام کا ایک چھوٹا ساتھ دریا اس علاقے میں بھی ہے ) اور بٹوا کے درمیان، مدھیہ پردیش کے شمال میں واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح مرتفع مالوا کا بھی ایک حصہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عظیم شہنشاہ اشوکا یوجین فتح کرنے کے سفر کے دوران ایک رات کے لیے اس جگہ ٹھہرا تھا اس وجہ سے اس علاقے کا نام اشوک نگر رکھا گیا۔ اس بات میں کہاں تک صداقت ہے۔ معلوم نہیں لیکن ایک بات درست ہے کہ اس شہر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ شہر مہا بھارت کی تاریخ جتنا پرانا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں یہ علاقہ گوالیار کے حکمرانوں کے ماتحت بھی رہا۔ اس وقت اسے ایشگڑھ کہتے تھے، بعد میں اس کا نام اشوک نگر رکھا گیا۔ یہ شہر بندیل کھنڈ کے علاقے میں واقع ہے جو بھارتی ثقافت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں کئی جین مندر بھی پائے جاتے ہیں۔ جین مذہب میں بارہا اس علاقے کا ذکر آتا ہے۔ اس شہر کے قریب ”چندری“ نامی ایک چھوٹا شہر بھی واقع ہے جو پرانے وقتوں میں چنڈی کہلاتا تھا۔ محکمہ آثار قدیمہ نے یہاں سے قدیم بت بھی حاصل کیے جن کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ شہر بھی کئی ہزار سال پرانا ہے۔ اس بارے میں مزید تحقیق جاری ہے۔

اشوک نگر کے بارے میں National Informatics Centre | Govt۔ of Indiaمیں جو لکھا ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے 1۔

قبل مسیح دور میں موجودہ اشوک نگر ضلع کا علاقہ شیشو پال کی چیڈی بادشاہت کا ایک اہم حصہ تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بھی یہاں کے علاقے چیڈی جنپا داس کے ماتحت تھے۔ کسی وقت میں یہ علاقہ نندا، موریہ، سنگا اور مگدھ بادشاہت کا بھی حصہ تھا۔ یہ بات کئی جگہ لکھی ہے کہ عظیم شہنشاہ اشوکا، جب کہ اجین کو فتح کرنے کے سفر میں تھا، ایک رات اشوک نگر میں گزاری تھی، اس لیے اس علاقے کا نام اشوک نگر رکھا گیا۔ اس کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ آٹھویں اور نویں صدی عیسوی میں اس علاقے پر پرتھارا راجپوت خاندان نے حکومت کی۔ ان ہی کی اولاد نے دسویں صدی عیسوی میں چندری شہر کی بنیاد رکھی اور اسے اپنا صدر مقام بنایا۔ محمود غزنوی نے اس علاقے پر حملے کیے جس سے مقامی ریاست کمزور ہو گئی۔ بعد میں سلاطین دہلی، افغانوں اور مغلوں نے اس علاقے پر حکومت کی۔ یہاں کے ایک راجہ مردن سنگھ کا ذکر تاریخ میں بارہا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے رانی جھانسی کا ساتھ دیا اور انگریزوں سے جنگ لڑی۔ انہوں نے یہاں پر ایک قلعہ بھی بنوایا۔

میرے علم کے مطابق راجہ مردن سنگھ ان چند حکمرانوں میں شامل ہے جس نے اپنی ریاست کی پرواہ نہیں کی بلکہ ہندوستان کی آزادی کو ترجیح دی۔ ایسے لوگوں کی عظمت کو سلام۔ ان کا نام اب بھی علاقے میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ کیوں نہ لیا جائے؟ یہی لوگ تو ہیں جو آزادی ہند کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔

اس بارے میں اے یو صدیقی کی کتاب Indian Freedom Movement in Princely States of Vindhya Pradesh پڑھنے کے قابل ہے۔ اس میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح راجہ مردن سنگھ اور رانی جھانسی نے مل کر انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ وہ جیت تو نہ سکے البتہ انھوں نے ایک حوصلہ تو ضرور دیا جو بعد میں جنگ آزادی میں لوگوں کے کام آیا۔

اشوک نگر سے کچھ فاصلہ پر ایک مشہور ماتا مندر بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں رام اور سیتا ماتا کے بیٹے پیدا ہوئے تھے۔ اس وجہ سے یہ مقام ہندوؤں کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔ یہاں ہر سال ایک بڑا میلہ بھی لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہاں بے شمار مذہبی مقامات موجود ہیں۔ بھارت میں جو شہر جتنا پرانا ہے اتنے ہی وہاں پر مذہبی مقامات بھی ہیں جس سے یہ لگتا ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کی زندگی میں مذہب کبھی بھی کم اہم نہیں رہا۔

چندیری قلعہ جس کا ذکر البیرونی نے بھی کیا

اس علاقے میں واقع قصبہ چندیری میں ایک قلعہ موجود ہے جس کا ذکر البیرونی نے بھی کیا ہے۔ اپرانا کباڈیا نے ایک مضمون What the story of Medini Rai، the man who once took on Babur، tells us about biography and history کے نام سے لکھا ہے جو سکرول انڈیا کی ویب پر موجود ہے جو 18 نومبر 2019 ء کو شائع ہوا۔ اس مضمون میں اس علاقے کی تاریخ تفصیل سے لکھی ہوئی ہے۔ اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

اس مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ غیاث الدین بلبن نے دلی کے سلطان ناصر الدین محمود کی طرف سے ایک جنگ لڑی جس کے نتیجے میں اس نے اس شہر پر قبضہ کیا۔ بعد ازاں سلطان محمود خلجی نے کئی مہینوں کے محاصرے کے بعد اس شہر پر قبضہ کر لیا۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک مرتبہ یہ شہر رانا سانگا کے ماتحت بھی رہا۔ مغل شہنشاہ بابر نے بھی اس شہر پر حملہ کیا اور اسے مقامی راجپوت حکمران سے چھین لیا۔ شیر شاہ سوری بھی کسی سے پیچھے نہ رہا اور وہ بھی یہاں قابض رہا۔ مغل شہنشاہ اکبر بھی اس شہر کا دیوانہ تھا اور اس نے بھی اسے اپنی سلطنت میں شامل رکھا۔ مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے نتیجے میں بنڈیلہ راجپوتوں نے اس شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس شہر پر قبضے کے لیے مرہٹوں نے بھی کئی لڑائیاں لڑیں۔ آخر کار 1844 ء میں انگریزوں نے اس شہر پر قبضہ کر لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شہر ان شہروں میں شامل ہے جہاں 1857 ء کی بغاوت کے دوران انگریزوں کا کنٹرول ختم ہو گیا تھا لیکن زیادہ دیر تک ایسا نہ رہ سکا اور جلد ہی انگریزوں نے دوبارہ قبضہ کر لیا اور ایک معاہدے کے مطابق اسے ریاست گوالیار کا حصہ بنا دیا گیا۔

چندیری فورٹ کی تعمیر، سلاطین دلی اور مغل حکمرانوں کا مشترکہ کارنامہ ہے۔ یہ ایک وسیع قلعہ ہے۔ قلعے کے مرکزی دروازے کو خونی دروازہ کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے یہاں موسم بہت خوشگوار ہوتا تھا۔ میرے خیال میں اس کی یہی خوبی مغلوں کو بہت پسند تھی جس کی وجہ سے انھوں نے اس کی تعمیر میں دلچسپی لی۔ اس شہر میں ایک محل بھی موجود ہے جسے کوشک محل کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ 1445 ء میں مالوا کے محمود شاہ خلجی اس علاقے سے گزر رہے تھے کہ یہ جگہ اپنے موسم کی وجہ سے پسند آ گئی اور اس نے یہاں ایک محل تعمیر کروانے کا حکم دیا۔ اس کے حکم پر ایک سات منزلہ محل تعمیر کیا گیا۔ یہ محل بھی اپنی مثال آپ ہے۔

اس علاقے کی تاریخ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ دسویں صدی میں یہاں پر ایک راجپوت خاندان حکمرانی کرتا تھا جو چنڈیلا راجپوت حکمرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے دور میں انھوں نے یہاں پر بے شمار عمارتیں تعمیر کروائیں۔ ان کے ان کارناموں کی وجہ سے انھیں عظیم معمار سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کے حکمرانوں کی ایک طویل فہرست ہے جو بہت دلچسپ ہے۔ ان کی تاریخ پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ علم و ہنر کے دلدادہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے دور میں جنگیں بہت کم ہوئیں تھیں۔ اس علاقے میں تیس سے زائد مندر ہیں۔ حال ہی میں بنائے گئے ایک عجائب گھر میں ایک بارہ فٹ اونچا بت یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ بت تراشنے میں بھی انتہائی مہارت رکھتے تھے۔

تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں دسویں صدی کے آخر میں غزنوی خاندان سے تعلق رکھنے حملہ آوروں نے حملہ کیا اور اس پر عارضی طور پر قابض بھی ہوئے لیکن بعد میں مقامی لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ اس علاقے سے چلے گئے۔ یاد رہے محمود غزنوی نے ہندوستان پر بے شمار حملے کیے لیکن اس نے ہندوستان میں کبھی اپنی سلطنت قائم نہیں کی۔ البتہ غوری نے جب ہندوستان پر حملے کیے تو اس کے ایک جرنیل، قطب الدین ایبک نے اس علاقے پر ایک سخت حملہ کیا اور یہاں کی مقامی راجپوت ریاست جو داخلی اختلافات کی بنا پر کمزور پڑ گئی تھی پر قبضہ کر لیا اور اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس طرح صدیوں سے قائم ایک راجپوت ریاست کا غوری کے ہاتھوں خاتمہ ہوا۔

Facebook Comments HS