تحریکِ انصاف بدست کاتب تقدیر


فلسفہ تقدیر ایمان کا حصہ ہے۔ روایات کی روشنی میں انسان کی قسمت اس کی پیدائش سے پہلے لکھ دی جاتی ہے۔ لہٰذا ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت تحریک انصاف کے عروج و زوال کے پیچھے بھی یقیناً قسمت کے لکھے کا پورا ہاتھ ہے۔ کاتب تقدیر نے ہزاروں سال پہلے لکھ دیا تھا کہ ملکِ جناح داد ایک خاص نظریہ پر وجود میں آئے گا اور انگریز یہاں کے مومنین کی مزید ذمہ داریاں اٹھانے سے آزادی پائے گا۔ پھر یہ مملکت مطالعہ اور تاریخ کی کتابوں میں مبالغات و تحریفات عقیدتاً ٹھونس لے گی۔ یوں مقامی ہیرو ولن جبکہ بیرونی حملہ آور ہیرو بن کر دندناتے پھریں گے۔ تقدیر کے قاضی کا دبنگ فتویٰ رہا کہ اس خطے کے مسلمان ہر وقت دشمنوں کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ اگر دشمن نہ مل سکے تو خود تراش لیں گے اور اپنے حصے کے ان گنت بے وقوفوں کو مزید بے وقوف بناتے رہیں گے۔

کاتب نے مزید لکھ دیا کہ اس قوم کو چج کا راہنما نہ مل پائے گا۔ اگر کبھی کوئی مخلص سمجھ بھی لیا گیا تو وہ شدید بے وقوف نکلے گا اور عقلمند موقع پرست ثابت ہوں گے۔ کاتب تقدیر نے ہزاروں سال قبل لکھا کہ جناح سے خان تک کوئی بھی اسلامی ٹچ کے کے بغیر نہیں رہ پائے گا اور آخری دور میں پختون کارڈ کا بھی بے دریغ استعمال ہوا کرے گا۔ عقیدت، شہرت میں خان اوجِ برجیس و کیوان پائے گا لیکن اپنا مقام سنبھالنے میں دِقت ہوتی رہے گی۔ لوح محفوظ پر یہ بھی محفوظ تھا کہ یہاں ایک صادق و امین ایک پاکدامن خاتون کی معیت میں ملک کو ہلا دینے والا انقلاب برپا کرے گا۔ خاتون کے بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سابقہ شوہر پر ہوگی اور خاوند کے بچے اس کی سابقہ بیوی سنبھالے گی۔ اور یہ دونوں قوم کے بچوں کی فلاح کے لیے زندگی وقف کریں گے۔ کاتب نے لکھا تھا کہ وقت آئے گا جب بی بی پختونوں کو غیرت مند قوم قرار دے کر ان کی معلومات میں اضافہ کر کے میدانِ کارزار سجائے گی۔ مگر اپنے وسیع تر مفاد کی خاطر عین وقت پر شمال کی جانب رختِ سفر باندھے گی۔ قسمت میں یہ بھی لکھا تھا کہ وہاں بی بی کے جنات اور ہوائی مخلوق پر خلائی مخلوق بھاری ثابت ہوگی۔ مزید براں بی بی پنجابیوں کو بزدل ثابت کرنے میں بھی سرخرو ہو گی۔ تقدیر میں ہزاروں سال پہلے لکھ دیا گیا تھا کہ پنجابی بزدل ہونے کے باعث کبھی بھی شمالی خطوں پر حملہ کر کے لوٹ مار کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے اور نہ ہی کٹھن حالات میں ادھر ہجرت کریں گے۔ مگرا اللہ کے فضل سے اہل شمال پہاڑوں سے اتر کر پنجاب کا تیا پانچا کرتے رہیں گے اور مال غنیمت سمیٹ کر لوٹا کریں گے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ آپس میں یا پھر ہمسائیوں سے برسرِ پیکار رہیں گے۔ تاہم کہیں لوح محفوظ پر یہ بھی رقم تھا کہ رنجیت سنگھ کے بعد صرف نومبر میں ہی شمالی حملہ آوروں کو واپس دھکیلا جا سکے گا۔

9 مئی بھی نوشتہ تقدیر تھا مگر احباب کو شکوہ تھا کہ فورسز نے مشتعل مجاہدین کو کیوں نہ روکا؟ مگر 26 نومبر کو روکا تو بھی گلہ باقی رہا۔ کاتب نے ایک مزید سچ یہ لکھ دیا کہ فوج کسی کے پیچھے ہو تو ایک سو چھبیس دن اور اگر آگے ہو تو صرف چھبیس منٹ لگتے ہیں۔ اور یہ کہ جنات کی مدد سراب ثابت ہوگی اور اس دن کوئی عمل اور جادو کامیاب نہ ہو سکے گا۔ اور یہ کہ اگر جنون بندے مارے تو جنون سمجھا جائے گا اور حریف مار دے تو قتل شمار ہو گا۔ تقدیر کا ایک حتمی فیصلہ یہ بھی تھا کہ پہلے کپتان اور فوج ایک ہوں گے اور بعد میں انھیں الگ کر دیا جائے گا۔ کاتب کے مطابق کپتان کو حجاز میں ننگے پاؤں چلنے اور، یوں اٹھا کر لائے جانے، کی سزا ملے گی اور پابند سلاسل رہیں گے۔ زندگی، موت، رزق اور اقتدار سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر حکمران نہیں رہ سکتا۔ اللہ کی مرضی کے بغیر چونکہ پتا بھی نہیں ہِل سکتا لہٰذا جو ہے وہ رضائے الہٰی کے عین مطابق ہے۔ اس واسطے اگر خان اندر نہ رہے، پی ٹی آئی در بدر نہ ہو اور کارکنان زیر عتاب نہ آئیں تو پھر کاتبِ تقدیر کا لکھا غلط ہو جائے۔ اور ویسے بھی ایک بُرا، دوسرے بُرے کے ساتھ کچھ بُرا سلوک کر لے تو اس میں بُرا ہی کیا ہے؟

Facebook Comments HS