عظمت فکری آزادی سے پھوٹتی ہے؟
اپنی کنفیوز اور پریشان حال صحافت کی خدمت میں التم
ناچیز درویش نے بابا اشفاق احمد کی خدمت میں یہ سوال رکھا کہ ہم مسلمانوں نے پوری 14صدیوں میں کبھی کوئی ایک قابلِ فخر ایجاد نہیں کی تمام کی تمام ایجادات کا سہرا بے دین مغربی اقوام کے سر پر کیوں ہے ؟ جب انہوں نے سپین کے چند مسلمان سائنس دانوں کے نام لینے چاہے تو عرض کی بابا جی چھوڑ دیں انہیں ،کیونکہ اُن کے دور میں خود مسلمانوں نے اُن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا ہمارے مذہبی علماء نے انہیں کافر و ملحد و بے دین جیسے القاب ہی نہیں بخشے بلکہ واجب القتل کے فتاویٰ بھی جاری ہوتے رہے یوں بالآخر ہمارا ایکا اس بات پر ہوا کہ مسلمانوں میں ہمیشہ سے فکری آزادی مفقود رہی ہے ۔
گزشتہ دنوں جب ہم نے چئیرمین سینٹ میاں رضا ربانی کا اسلام آباد کے ادبی میلے میں خطاب پڑھا تو ہمارا دھیان ماضی کے دریچوں سے جھانکنے لگا۔ وہ کیا خوب فرما رہے تھے کہ ’’پاکستان میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ریاست کے تحت لوگ غائب کر دیے جاتے ہیں اور میر ے سمیت کسی کو ریاست سے اس بارے میں سوال کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ ریاست نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے تشدد کو فروغ دیا ہے تاکہ اپنی اجارہ داری اور تسلط کو برقرار رکھ سکے معاشرے کو اتنا خوفزدہ کر دیا ہے کہ ہم فیض جالب اور پروین شاکر جیسے متبادل نہیں لا سکے۔ ہمارا سماج گھٹن کا شکار ہے اور یہ جس طرف جا رہا ہے اسے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ریاستی پالیسیوں نے ادب و دانش کے کلچر کو قتل کر دیا ہے یہاں اتنا خوف طاری کر دیا گیا ہے کہ ہم اپنے سایوں سے بھی ڈرتے ہیں‘‘۔
ہم اپنے چئیرمین سینٹ سے یہ استفسار کرنا چاہتے ہیں کہ یہاں ان کی’’ ریاست‘‘ سے کیا مراد ہے؟ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے الحمداللہ جیسی تیسی بھی آج یہاں منتخب جمہوری حکومت قائم ہے چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے وہ خود بھی اس کا حصہ ہیں ہماری عدلیہ آزاد ہے آئین موجود ہے تو پھر خامی کہاں ہے؟ کیا خامی یہاں ہے کہ ہمارے ادارے بظاہر پارلیمنٹ کی عظمت اور آئین کی بالادستی کا اصول مانتے ہیں لیکن اندر خانے ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ طاقت اور دھونس سے پارلیمنٹ اور آئین کو بھی مسلا جا سکتا ہے؟ جس دن فی لواقع یہ سوچ ختم ہو جائے گی اس دن کسی کو یہ جرات نہیں ہو گی کہ آئین وقانون سے ماوراء کوئی اقدام بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ قانون کی حکمرانی صرف وزیراعظم تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام طاقتور ادارے بھی اس کے تابع ہو جائیں گے اس کیلئے سب سے ضروری چیز عوامی شعور و آگہی کا بول بالا کرنا ہے تا کہ کوئی فرد یا ادارہ اگر آئین و قانون کو پامال کرنے کا سوچتا ہے تو اسے عوامی شعور کے ترجمان مضبوط میڈیا کا ہی سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ یہ عوامی شعور اپنے ہر فرد کو اس قابل بنا دے کہ وہ ریاست سے مکالمہ کر سکے وطنِ عزیز میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے اگر کسی نے کوئی قانون شکنی کی ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیجیے، اٹھانے اور غائب کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے ڈکیتی، تشدد، ظلم و جبر اور لاقانونیت سب کیلئے جرم ہے۔
ہم کئی مرتبہ حیرت سے دیکھتے ہیں اسی وطنِ عزیز میں ایک طرف منتخب لوگوں کے لتے لئے جا رہے ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف معمولی سی خبر بھی چھپ جائے تو گھٹن اور خوف و ہراس کی ایسی فضا محسوس ہوتی ہے جیسے خود کش حملے سے بھی کوئی گھناؤنا جرم ہو گیا ہو۔ پھر خوشامدانہ بیانات کا ایک مقابلہ شروع ہو جاتا ہے یہ کیسی آزادی اظہار ہے کہ جیسے ایک نادیدہ شہنشاہیت ہے، شاہ معظم کی شان میں قصیدے پڑہو اور دیگر سب کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔ ابھی چند روز قبل ایک چینل پر جس نوع کے تماشے ہوئے اور ایک اینکر نے مذہبی لبادے میں وہ نفرت انگیز زہرا گلا کہ کانوں سے سنتے ہوئے بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اسفال السافلین کی اس سطح پر بھی گر سکتا ہے۔
سوویت یونین کے دور میں امریکی صدر ریگن نے ایک امریکی اور ایک روسی کی کہانی سنائی تھی کہ امریکی نے کہا مجھے اپنے ملک میں اتنی آزادی ہے کہ میں وائٹ ہاؤس کے سامنے جا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ’’صدر ریگن کی پالیسیاں امن کیلئے سخت نقصان دہ ہیں‘‘ اس پر روسی نے کہا کہ یہ کونسا مشکل ہے میں بھی کریملن میں بر ژنیف کے سامنے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ’’امریکی صدر ریگن کی پالیسیاں امن کیلئے سخت نقصان دہ ہیں‘‘۔اپنی ایسٹیبلشمنٹ کے سامنے کچھ اسی نوع کی فکری آزادیاں آج ہمیں بھی حاصل ہیں۔ بظاہر کماد سارا ہمارا ہے لیکن اگر گنا توڑیں گے تو ماموں مارے گا یعنی آپ دینا جہان کے ہر ایشو پر لکھ سکتے ہیں لیکن طاقت کے اصل سرچشمے کے بارے میں لب کشائی کی تو، دریا رہا ایک طرف اس سے پھوٹنے یا نکلنے والی چھوٹی چھوٹی نہریں بھی ایسی جسارت برداشت نہیں کریں گی۔ آئین کی وہ متنازع شقیں جنہوں نے پوری قوم کو خلفشار میں مبتلا کر رکھا ہے، خبردار اگر ان کا تنقیدی جائزہ لیا۔ دو قومی نظریے کا موجودہ حالات میں انطباق کیسے ممکن ہے؟ اس کا جائزہ شجر ممنوعہ ہے، بے توقیر ہی نہیں کیے جاؤ گے عمر بھر کے لیے مصائب کے دشتِ صحرا میں بھٹکتے رہو گے۔ حضرت صاحب کے خیالات چونکہ تقدیس کے درجہ سے پھوٹے ہیں اگر ان پر ترچھی نظر ڈالی تو ارتداد کے مرتکب قرار پاؤ گے پھر جو سزا مل سکتی ہے، اب اس کا ادراک کافی ہے۔
اگر توصیف و ستائیش کرنی ہے تو آپ کے پاس چین جیسی عالمی طاقت موجود ہے مزید کسر نکالنی ہے تو عرب بادشاہت کے گیت گا سکتے ہو خبردار اپنے دوستوں کے اندرونی معاملات کا تنقیدی نظارہ کرنے کی کوشش کی اس کے لیے ہمارا ازلی دشمن بھارت جو موجود ہے جی بھر کے جتنی مرضی بھڑاس نکال لو، بے سروپا الزامات دھر دو آپ کو مکمل آزادی اظہار ہے لیکن جو خطوط ہم نے متعین کر دیے ہیں اب انہی کے اندر رہ کر آگے بڑھنا ہے، تاک جھانک قطعی منع ہے۔ اس کے بعد شاہ دولوں کے چوہوں سے تخلیقی عظمت کی توقع کیسے رکھی جائے۔

