پُرامن جمہوری افغانستان: نئی امیدیں

قطر کے دارالحکومت دوحہ سے مثبت خبر یہ آئی ہے کہ تمام اختلافی امور پر سمجھوتہ طے پانے کے بعد امریکہ اور طالبان آپس میں کبھی جنگ نہیں لڑیں گے۔  انٹرا افغان امن کانفرنس میں افغان طالبان خواتین کو حقوق دینے اور تشدد میں کمی لانے پر بھی رضا مند ہو گئے ہیں۔  اسکولوں اور…

Read more

5  جولائی کی سیاہی؟

ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو کتابوں میں جمع کی جاتی ہے دوسری تاریخ آنکھوں دیکھی یا ہڈ بیتی کہی جا سکتی ہے۔ دونوں میں چاہے جتنا بھی فرق ہو، بیان کرنے والے کی اپنی ذہنی استعداد یا ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ ہمارے تجزیہ کار بالعموم چیزوں کو بلیک یا وائٹ بنا کر دکھانے کے…

Read more

منافرتوں کی سوداگری کب تک؟

داتا دربار خود کش حملے میں چھے پولیس والوں سمیت گیارہ بے گناہ افراد شہید ہوئے ہیں اور 30 کے قریب زخمی ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم حزب الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ حملہ آور کے متعلق بیان کیا جا رہا ہے کہ اس کی عمر 15 سے 16 سال کے قریب تھی، جس نے ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جائے وقوع سے حملہ آور کے جسمانی اعضا بھی مل گئے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ امید یہی ہے کہ حسبِ روایت اسے غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے ملک دشمنی پر مبنی کارروائی قرار دیا جائے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ اسے بھارتی سازش قرار دے کے معاملہ نمٹا دیا جائے۔

Read more

جدید سائینٹیفک تقاضے اور فواد چوہدری؟

مذہب اور سائنس کی آویزش بہت قدیمی ہے۔ اہل مذہب کی باہمی سر پھٹول یا جنگ و جدل رہی ایک طرف انہوں نے سائینٹیفک اپروچ کے حاملین پر صدیوں جو مظالم ڈھائے اور جو اذیتیں پہنچائیں اُن کی ایک طویل درد ناک داستان ہے آج جن سچائیوں کو ہم مسلمہ حقائق تسلیم کرتے ہیں ایک زمانے میں ان پر اظہارِ خیال کرنا ناقابلِ معافی جرم تھا مثال کے طور پر گردشِ زمین کا نظریہ آج اس قدر قبولیت عامہ کا حامل ہے کہ کوئی اس کی مخالفت میں بولے تو بچے بھی اس پر ہنسیں گے اور مذاق اڑائیں گے سب کو معلوم ہے کہ دن اور رات کیسے بدلتے ہیں مگر قدیم زمانے کے لوگ گردشِ زمین کی حقیقت سے بے خبر تھے وہ ظاہری طور پر جو کچھ دیکھتے تھے اُسی کو حقیقت خیال کرتے تھے یہ کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔

Read more

زمینی حقائق تو من مانی کا نام ہیں، آئین کچھ اور کہتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ فلاں زمانے میں صحافت پا بندِ سلاسل تھی، فلاں زمانے میں ضمیر کے سودے ہوتے تھے یا ضمیر کے مطابق لکھنے اور بولنے پر بندشیں تھیں. ہم پوچھتے ہیں آپ لوگ کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس مملکتِ خداداد میں زمانہ تو آج بھی نہیں بدلا۔ شاید اس کے…

Read more

کم عمری کی شادیاں کیوں؟

کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے لائے گئے بل پر بحث جاری ہے حالانکہ یہ ایک معمولی سی بات ہے کہ پارلیمنٹ انسانی مفاد میں کوئی بھی قانون سازی کر سکتی ہے شادی کا تعلق رضا مندی اور بلوغت سے ہے مان لیتے ہیں کہ بلوغت مختلف خطوں یا مختلف لوگوں میں مختلف اوقات…

Read more

سری لنکا کا نائن الیون اور ہمارا اجتماعی رویہ؟

21 اپریل کا اتوار یوم ایسٹر سری لنکن مسیحیوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا جب یہ لوگ سیدنا مسیحؑ کے دوبارہ جی اٹھنے کی خوشی یعنی اپنی عید کی مذہبی عبادات کے لیے گرجا گھروں میں منہمک تھے یا ہوٹلز میں خوشیاں منا رہے تھے عین اس وقت خود کش حملہ آوروں…

Read more

ہزارہ شیعوں کی خونریزی کب تک؟

عصرِ حاضر میں دہشت گردی انسانیت کے لیے سب سے بڑی لعنت ثابت ہوئی ہے جس نے دنیا کی تمام اقوام چاہے وہ ترقی یافتہ و مہذب ہیں یا غیر مہذب سب کو حالتِ خوف میں مبتلا کر رکھا ہے پوری انسانیت اس پر تین حروف بھیج رہی ہے اور اس عفریت کے خاتمے پر یکسو ہے اس وسیع تر انسانی اتفاق رائے کے باوجود بعض اقوام بالخصوص ہمارے مسلمانوں میں ہنوز ایسی غیر انسانی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں جو کھلے بندوں نہیں تو حیلوں بہانوں سے تو جیہات پیش کرتے ہوئے اس ناسور کی حمایت کرتی پائی جاتی ہیں پہلے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارا دین دہشت گردی کی اجازت ہر گز نہیں دیتا اور جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کیا۔

Read more

معاشی ناکامی کی ذمہ دارحکومت یا وزیر خزانہ؟

کون نہیں جانتا کہ زندگی کی طرح اقتدار یا حکمرانی بھی عارضی چیز ہے مگر اس کے باوجود لوگ جب کرسی پر بیٹھتے ہیں تو خود کو انسان کی بجائے خدا یا کم از کم تیس مار خاں ضرور سمجھنے لگتے ہیں کسی کا ظرف یا کمینہ پن دیکھنا ہوتو اس کا اس کے مخالفین کے متعلق اظہارِ خیال یا لب و لہجہ ملاحظہ فرما لیجیے۔ 72 سالوں میں ہم نے کئی حکومتیں آتی جاتی دیکھی ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ”بڑے پن“ کے جو ریکارڈ ہماری موجودہ ہستیوں نے بنائے یا توڑے ہیں وہ بے نظیر اور بے مثال ہیں اس استعفیٰ پر کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ تماشا دکھا کر مداری گیا۔

Read more

باشعور سوسائٹی کیسے تشکیل دی جائے؟

کوئی شخص گنہگار ہے یا بے گناہ؟ اس کے فیصلہ کا اختیار حقوق العباد کی حد تک ملکی قانونی و آئینی عدالتوں کے پاس ہے رہ گئے حقوق اللہ جیسے نماز، روزہ، حج اور دیگر خالصتاً مذہبی فرائض و امور کی ادائیگی کے معاملات ان میں کوتاہی پر فیصلے کا اختیار صرف اور صرف پروردگار…

Read more