مودی سرکار کا خطرناک فیصلہ؟

”آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر“ درویش نے جب سے شعور کی دنیا میں قدم رکھا ہے مسئلہ کشمیر کی حقیقتوں اور نزاکتوں کو پڑھتا، سنتا، سمجھتا سمجھاتا چلا آرہا ہے اور اس بات پر ہمیشہ رنجیدہ و دکھی رہا ہے کہ ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے خطے نے جنوبی ایشیاء کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگیوں کو کیوں یرغمال بنا رکھا ہے لہٰذا ہمیشہ یہ چاہا

Read more

فنِ موسیقی کا دیوتا، محمد رفیع

زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات، 31 جولائی 1980 کی شب غم جس کی سحر بھی اتنی درد انگیز تھی کہ ممبئی کی سڑکیں گلیاں اور بستیاں آسمانی آنسووں سے ڈوب گئیں۔ ایک روز قبل ہی فن موسیقی کے دیوتا نے جو نا مکمل گیت گایا تھا اس کے بول تھے : تیرے آنے کی آس ہے دوست پھر یہ شام کیوں اداس ہے دوست۔ مہکی مہکی فضا یہ کہہ رہی ہے کہ تو کہیں آس پاس ہے دوست یہ 1924 ء کے دسمبر کی 24 تاریخ تھی جب کوٹلی سلطان پور کے ایک غریب محنت کش روایتی عیال دار پنجابی گھرانے میں ایک ایسے نونہال نے جنم لیا جسے قدرت نے غیرمعمولی آواز سے نوازا تھا۔

Read more

صدر ٹرمپ اور مسئلہ کشمیر

وزیراعظم عمران خان کا دورۂ امریکہ ہماری توقعات سے زیادہ کامیاب رہا۔ جب وہ امریکہ جانے والے تھے تو یہاں بہت سی ایسی باتیں کی جا رہی تھیں کہ یہ دورہ تیسرے درجے کے دعوت نامہ پر ہو رہا ہے۔ ایک طرف یہ کہا گیا کہ یہ علی جہانگیر صدیقی سابق سفیر امریکہ کی مہربانی سے ممکن ہوا ہے جن کی ٹرمپ کے داماد سے ذاتی دوستی ہے تو دوسری طرف اسے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ عمران خان کو بھی ٹرمپ سے ایسے حسنِ سلوک کی توقع نہ تھی، خود اُن کے بقول اُنہیں اِس حوالے سے اَن گنت مشورے دیے گئے۔

Read more

عالمی عدالت کا خوش آئند فیصلہ؟

کسی بھی عدالت کا کوئی فیصلہ آتا ہے تو عموماً ایک فریق خوش ہوتا ہے تو دوسرا رنجیدہ و نا شاد۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے متعلق عالمی عدالتِ انصاف کا حالیہ فیصلہ اس حوالے سے دلچسپی کا حامل ہے کہ پاکستان اور ہندوستان، ہر دو ممالک کی سیاسی و سفارتی قیادتوں اور میڈیا نے اس پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے اسے اپنی اپنی فتح قرار دیا ہے۔ یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں

Read more

کرتار پور راہداری رواداری کا راستہ ہے

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے حال ہی میں گورو دوارہ دربار صاحب کرتارپور کا دورہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال اکتوبر تک پاکستان کرتارپور راہداری منصوبہ مکمل کر لے گا کرتار پور کا ریڈور منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے انہوں نے کہا ہے کہ میں دنیا بھر کے سکھوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ گردوارہ دربار صاحب کرتار پور میں بابا گورونانک دیو جی کی

Read more

پُرامن جمہوری افغانستان: نئی امیدیں

قطر کے دارالحکومت دوحہ سے مثبت خبر یہ آئی ہے کہ تمام اختلافی امور پر سمجھوتہ طے پانے کے بعد امریکہ اور طالبان آپس میں کبھی جنگ نہیں لڑیں گے۔  انٹرا افغان امن کانفرنس میں افغان طالبان خواتین کو حقوق دینے اور تشدد میں کمی لانے پر بھی رضا مند ہو گئے ہیں۔  اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرنے کے ساتھ عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی لانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔  افغانستان

Read more

5  جولائی کی سیاہی؟

ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو کتابوں میں جمع کی جاتی ہے دوسری تاریخ آنکھوں دیکھی یا ہڈ بیتی کہی جا سکتی ہے۔ دونوں میں چاہے جتنا بھی فرق ہو، بیان کرنے والے کی اپنی ذہنی استعداد یا ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ ہمارے تجزیہ کار بالعموم چیزوں کو بلیک یا وائٹ بنا کر دکھانے کے عادی ہوتے ہیں حالانکہ بہت سے ایریاز گرے ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ 5 جولائی کی سیاہی بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے مگر

Read more

منافرتوں کی سوداگری کب تک؟

داتا دربار خود کش حملے میں چھے پولیس والوں سمیت گیارہ بے گناہ افراد شہید ہوئے ہیں اور 30 کے قریب زخمی ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم حزب الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ حملہ آور کے متعلق بیان کیا جا رہا ہے کہ اس کی عمر 15 سے 16 سال کے قریب تھی، جس نے ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جائے وقوع سے حملہ آور کے جسمانی اعضا بھی مل گئے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ امید یہی ہے کہ حسبِ روایت اسے غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے ملک دشمنی پر مبنی کارروائی قرار دیا جائے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ اسے بھارتی سازش قرار دے کے معاملہ نمٹا دیا جائے۔

Read more

جدید سائینٹیفک تقاضے اور فواد چوہدری؟

مذہب اور سائنس کی آویزش بہت قدیمی ہے۔ اہل مذہب کی باہمی سر پھٹول یا جنگ و جدل رہی ایک طرف انہوں نے سائینٹیفک اپروچ کے حاملین پر صدیوں جو مظالم ڈھائے اور جو اذیتیں پہنچائیں اُن کی ایک طویل درد ناک داستان ہے آج جن سچائیوں کو ہم مسلمہ حقائق تسلیم کرتے ہیں ایک زمانے میں ان پر اظہارِ خیال کرنا ناقابلِ معافی جرم تھا مثال کے طور پر گردشِ زمین کا نظریہ آج اس قدر قبولیت عامہ کا حامل ہے کہ کوئی اس کی مخالفت میں بولے تو بچے بھی اس پر ہنسیں گے اور مذاق اڑائیں گے سب کو معلوم ہے کہ دن اور رات کیسے بدلتے ہیں مگر قدیم زمانے کے لوگ گردشِ زمین کی حقیقت سے بے خبر تھے وہ ظاہری طور پر جو کچھ دیکھتے تھے اُسی کو حقیقت خیال کرتے تھے یہ کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔

Read more

زمینی حقائق تو من مانی کا نام ہیں، آئین کچھ اور کہتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ فلاں زمانے میں صحافت پا بندِ سلاسل تھی، فلاں زمانے میں ضمیر کے سودے ہوتے تھے یا ضمیر کے مطابق لکھنے اور بولنے پر بندشیں تھیں. ہم پوچھتے ہیں آپ لوگ کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس مملکتِ خداداد میں زمانہ تو آج بھی نہیں بدلا۔ شاید اس کے اطوار بدل گئے ہیں بلکہ اے میرے سنگدل محبوب تیری محفل میں بات کرنی جتنی آج مشکل ہے اتنی پہلے تو نہ تھی۔ اکبر الہ

Read more

کم عمری کی شادیاں کیوں؟

کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے لائے گئے بل پر بحث جاری ہے حالانکہ یہ ایک معمولی سی بات ہے کہ پارلیمنٹ انسانی مفاد میں کوئی بھی قانون سازی کر سکتی ہے شادی کا تعلق رضا مندی اور بلوغت سے ہے مان لیتے ہیں کہ بلوغت مختلف خطوں یا مختلف لوگوں میں مختلف اوقات میں ہو سکتی ہے لیکن جب ہم نے قومی سطح پر بلوغت کی عمر یونیورسل اصول کی مطابقت میں اٹھارہ سال مقرر کر رکھی ہے

Read more

سری لنکا کا نائن الیون اور ہمارا اجتماعی رویہ؟

21 اپریل کا اتوار یوم ایسٹر سری لنکن مسیحیوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا جب یہ لوگ سیدنا مسیحؑ کے دوبارہ جی اٹھنے کی خوشی یعنی اپنی عید کی مذہبی عبادات کے لیے گرجا گھروں میں منہمک تھے یا ہوٹلز میں خوشیاں منا رہے تھے عین اس وقت خود کش حملہ آوروں نے انہیں آگ اور خون میں نہلا دیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اذیت ناک موت مرنے والوں کی تعداد 359 ہے جبکہ زخمیوں

Read more

ہزارہ شیعوں کی خونریزی کب تک؟

عصرِ حاضر میں دہشت گردی انسانیت کے لیے سب سے بڑی لعنت ثابت ہوئی ہے جس نے دنیا کی تمام اقوام چاہے وہ ترقی یافتہ و مہذب ہیں یا غیر مہذب سب کو حالتِ خوف میں مبتلا کر رکھا ہے پوری انسانیت اس پر تین حروف بھیج رہی ہے اور اس عفریت کے خاتمے پر یکسو ہے اس وسیع تر انسانی اتفاق رائے کے باوجود بعض اقوام بالخصوص ہمارے مسلمانوں میں ہنوز ایسی غیر انسانی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں جو کھلے بندوں نہیں تو حیلوں بہانوں سے تو جیہات پیش کرتے ہوئے اس ناسور کی حمایت کرتی پائی جاتی ہیں پہلے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارا دین دہشت گردی کی اجازت ہر گز نہیں دیتا اور جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کیا۔

Read more

معاشی ناکامی کی ذمہ دارحکومت یا وزیر خزانہ؟

کون نہیں جانتا کہ زندگی کی طرح اقتدار یا حکمرانی بھی عارضی چیز ہے مگر اس کے باوجود لوگ جب کرسی پر بیٹھتے ہیں تو خود کو انسان کی بجائے خدا یا کم از کم تیس مار خاں ضرور سمجھنے لگتے ہیں کسی کا ظرف یا کمینہ پن دیکھنا ہوتو اس کا اس کے مخالفین کے متعلق اظہارِ خیال یا لب و لہجہ ملاحظہ فرما لیجیے۔ 72 سالوں میں ہم نے کئی حکومتیں آتی جاتی دیکھی ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ”بڑے پن“ کے جو ریکارڈ ہماری موجودہ ہستیوں نے بنائے یا توڑے ہیں وہ بے نظیر اور بے مثال ہیں اس استعفیٰ پر کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ تماشا دکھا کر مداری گیا۔

Read more

باشعور سوسائٹی کیسے تشکیل دی جائے؟

کوئی شخص گنہگار ہے یا بے گناہ؟ اس کے فیصلہ کا اختیار حقوق العباد کی حد تک ملکی قانونی و آئینی عدالتوں کے پاس ہے رہ گئے حقوق اللہ جیسے نماز، روزہ، حج اور دیگر خالصتاً مذہبی فرائض و امور کی ادائیگی کے معاملات ان میں کوتاہی پر فیصلے کا اختیار صرف اور صرف پروردگار عالم کو ہے جو مالک یوم الدین ہے جزا و سزا خالصتاً اُسی کی اتھارٹی ہے۔ زکوۃ چونکہ حقوق العباد سے متعلقہ ٹیکس تھا یا

Read more

بھارتی انتخابات میں فاتح کون؟

دنیا کی سب بڑی جمہوریت، انڈین لوک سبھا کے 17 ویں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں کے لئے 14 کروڑ 20 لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ کُل ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 90 کروڑ ووٹرز اگلے پانچ سالوں کے لئے 543 نشستوں پر اپنی قیادت کا چناؤ کرنے جا رہے ہیں۔ 7 مراحل میں منعقد ہونے والے انتخابات 6 ہفتوں میں مکمل ہوں گے اور ان کے حتمی نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔

بھاری ہندو میجارٹی کے باوجود رنگا رنگ ہندوستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کا ملک ہے، جسے مشترکہ ہندی تہذیبی اقدار اور سیکولر اپروچ پر مبنی جمہوری پارلیمانی آئین نے ایک وحدت اور طاقت بخش رکھی ہے، جو اپنی ابھرتی اکانومی اور طاقتور فورس کے ساتھ خود کو چین کی مسابقت میں دیکھتا ہے مگر افسوس اس وقت پاکستان کی طرح یہ اتنی بڑی جمہوریت بھی قیادت کے بحران سے دوچار ہے۔ ایک طرف راہول گاندھی کی قیادت میں اندرا کانگرس ہے تو دوسری طرف نریندر مودی کی رہنمائی میں بی جے پی کی حکمرانی۔

Read more

اپوزیشن حکومت گرانے سے باز رہے

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو چالیس برس بیت گئے مگر اُس پھانسی کو ”عدالتی قتل“ کہنے والوں کی آواز بجائے کمزور ہونے کے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بھٹو مرحوم کی سیاست میں اہمیت سے انکار پہلے تھا نہ اب ہے، اِسی طرح اُن کے طرزِ سیاست سے اختلاف کرنے والوں کی کمی پہلے تھی نہ اب ہے۔ ایسا دور بھی رہا ہے، جب ہماری قومی سیاست بھٹو اور اینٹی بھٹو کے گرداب میں گھومتی رہی۔ بھٹو کی سیاسی قد آوری میں جتنا رول اُن کی پھانسی کے متنازع فیصلے کا رہا، اُس سے کہیں زیادہ اُن کی پُر عزم بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی بھرپور اور ولولہ انگیز جمہوری جدوجہد کا ہے۔

Read more

بلاول نواز ملاقات اور میثاقِ جمہوریت

(گزشتہ سے پیوستہ) بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں۔ اُن پر دباؤ ڈالنا بھی ایک طرح کا تشدد ہے۔ اِس ملاقات میں میثاقِ جمہوریت پر بھی بات ہوئی کہ کس طرح دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اِس میں شامل کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ جمہوری و سیاسی قدروں کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاست کو نئی زندگی دلائی جا سکے۔ آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے ماضی میں روا رکھی گئی غلطیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی جمہوری جدوجہد کا بھی تذکرہ ہوا۔

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ بلاول نواز ملاقات محض تیمارداری کے لیے نہیں تھی، اُس کا سیاسی ایجنڈا بھی تھا، وہ غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔ دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین خواہ کسی بھی حوالے سے ملیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاست یا ملکی حالات پر بات نہ ہو۔ آج آپ کے تمام مخالفین اور کئی موافقین کا یہ اعتراض بلا جواز نہیں ہے کہ یہ اصولوں کا نہیں، مجبوریوں کا سودا ہے۔ جوں جوں نیب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے آپ کو چارٹر آف ڈیمو کریسی کی یاد ستانے لگی ہے۔

Read more

وزیراعظم کے تین مثبت اقدام

وزیراعظم عمران خان سے، اُن کی سیاست پر ہمیں ایک سو ایک اختلافات ہو سکتے ہیں۔ سیاسی نہ ہوتے ہوئے بھی جس طرح وہ برسر اقتدار آئے، اُس سب پر جرح و تنقید کے ایک سے بڑھ کر ایک مقامات آہ و فغاں موجود ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جن مسائل پر اپنے سیاسی مخالفین کو پیہم موردِ الزام ٹھہراتے رہے، آج وہ خود اُن تمام مسائل پر ایمان کامل لا چکے ہیں۔ ہم نے کرکٹ کے اِس سابق کھلاڑی اور موجودہ وزیراعظم پر بہت سے تنقیدی مضامین لکھے ہیں مگر آج اس خوگرِ تنقید سے تھوڑی سی توصیف بھی سن لیں۔

Read more

پاک ہند اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں؟

  آج ارادہ تو سعودی کراؤن پرنس کے دورہ پاک ہند پر لکھنے کا تھا مگر اس خطے میں ایک مرتبہ پھر نفرت اور جنونیت کی جو آندھی اٹھی ہے وہ مجبور کر رہی ہے کہ اس کی جڑوں تک پہنچا جائے۔ اس مردم خیز اور زرخیز سرزمین کی بدقسمتی ہے کہ لاکھوں انسانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے دربدر بھٹکانے اور ذلت کی موت مروانے کے باوجود جنونیت کا طوفان تھم نہیں سکا ہے چار جنگیں

Read more

دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے؟

  دوست کہتے ہیں کہ بندوں کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا، ادارے اہم ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہمارے جیسے ممالک میں آبادی یا بربادی بندوں ہی کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ان دنوں عظیم باپ کے فرزند قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے اتنا زبر دست فیصلہ دیا ہے جس کی ستائش نہ کرنا پرلے درجے کی کم ظرفی ہو گی۔ اِس سے قبل درویش اپنے حالیہ سفر اسلام آباد اور بھارتی یوم

Read more

چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف گورننس؟

درویش نے بچپن میں اپنے گاؤں کا مشاہدہ کیا ہے کہ جس نے اپنی پیدائشی جہالت چھپانی ہوتی تھی وہ کچھ مذہبی اطوار و مقدس الفاظ کا سہارا لیتا تھا اور جس نے شرفاء سے چھیڑ چھاڑ یا بدزبانی و بدکلامی کرنی ہوتی تھی وہ گاؤں کے نمبردار یا چوہدری کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے ان کی کٹھ پتلی بن جاتا تھا۔ یوں وہ معززین کی پگڑی اچھالتے دندناتا پھرتا مگر کوئی اُسے لگام ڈالنے کی جسارت نہیں کر پاتا تھا.

Read more

چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف گڈ گورننس؟

”ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا۔ وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے“۔ غالبؔ نے یہ شعر استاد ذوق کی ”نذر“ کیا تھا مگر یہ ہمارے گاؤں کے بابے پر بھی اس حوالے سے درست بیٹھتا ہے کہ ”بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا۔ اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے“۔ درویش نے بچپن میں اپنے گاؤں کا مشاہدہ کیا ہے کہ جس نے اپنی پیدائشی جہالت چھپانا ہوتی تھی وہ کچھ مذہبی اطوار و مقدس الفاظ کا سہارا لیتا تھا اور جس نے شرفاء سے چھیڑ چھاڑ یا بدزبانی و بدکلامی کرنا ہوتی تھی وہ گاؤں کے نمبردار یا چوہدری کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے ان کی کٹھ پتلی بن جاتا تھا۔

Read more

ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی کب تک؟

فرد ہو یا قوم زندگی کی خوبصورتی و رعنائی یہ ہے کہ وہ اپنے آج کے لیے جیے اس سے جو اعتماد آتا ہے وہ ترقی یا سربلندی کا زینہ بنتا ہے لیکن اگر کوئی انسان یہ سمجھے کہ میرا آج تو بہت خراب ہے جو گزرے ہوئے برے کل سے جڑا ہوا ہے لیکن میں آنے والے کل کو اچھا بنانا چاہتا ہوں اگرچہ سوچ یہ بھی برُی نہیں ہے مگر نتائج کے لحاظ سے اس کی آو ¿ٹ

Read more

عقل بڑی کہ بھینس؟

آج کا عنوان کچھ عجیب لگا تو ذہن میں خیال آیا کہ اگر ہمارا وزیر اعظم کٹے کٹیوں، بھینسوں، انڈوں اور مرٖغیوں کی باتیں کر سکتا ہے تو ہم کیوں گائے بھینسوں کا تذکرہ نہیں کرسکتے الناس علی دین ملو کہم۔ تیسری جماعت کا ایک چھوٹا سا بچہ جس سے اس کے دادا نے پوچھا بیٹا بتاؤ عقل بڑی کہ بھینس؟ بچے نے لمحے بھر کے لیے سوچا اور پھر بولا دادا جی بظاہر تو بھینس بڑی لگتی ہے لیکن

Read more

قوم دکھوں کا مداوا چاہتی ہے

اپنی تشکیل سے لے کر 70 سالہ تاریخ تک وطنِ عزیز دنیا کا ایک انوکھا ملک رہا ہے جس کی ہر چیز انوکھی ہے۔ تاریخ یہ ہے کہ ہم پیہم سیاسی عدم استحکام کا شکار چلے آرہے ہیں۔ ہمارے قائد نے تو فرمایا تھا کہ ہم اس مملکت کو اسلام کی ”تجربہ گاہ“ بنانا چاہتے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ملک سیاست اور جمہوریت کی بھی تجربہ گاہ یا لیبارٹری بنا ہوا ہے۔ جس ملک میں چار

Read more

جبر بمقابلہ حریتِ فکر؟

دھونس یا جبر کی مخالفت شاید درویش کے خون یا گھٹی میں ہے۔ بچپن کی جتنی بھی یادیں کریدی ہیں اُن میں ہمیشہ جبر سے لڑائی ہی نظر آئی۔زندگی بھر کے لیے دکھوں اور مصیبتوں کو سینے سے لگا لیا لیکن جبر کو قبولنے سے انکار کر دیا۔ ذرا ہوش سنبھالا تو دو طبقات کو فکری و نظری طو رپر باہم دست و گریبان پایا، ایک طرف سرخ سویرے کا پرچم تھامے کامریڈتھے جو اپنے حالات کی مطابقت میں دل

Read more