مودی سرکار کا خطرناک فیصلہ؟

”آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر“ درویش نے جب سے شعور کی دنیا میں قدم رکھا ہے مسئلہ کشمیر کی حقیقتوں اور نزاکتوں کو پڑھتا، سنتا، سمجھتا سمجھاتا چلا آرہا ہے اور اس بات پر ہمیشہ رنجیدہ و دکھی رہا ہے کہ ایک کروڑ…

Read more

فنِ موسیقی کا دیوتا، محمد رفیع

زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات، 31 جولائی 1980 کی شب غم جس کی سحر بھی اتنی درد انگیز تھی کہ ممبئی کی سڑکیں گلیاں اور بستیاں آسمانی آنسووں سے ڈوب گئیں۔ ایک روز قبل ہی فن موسیقی کے دیوتا نے جو نا مکمل گیت گایا تھا اس کے بول تھے : تیرے آنے کی آس ہے دوست پھر یہ شام کیوں اداس ہے دوست۔ مہکی مہکی فضا یہ کہہ رہی ہے کہ تو کہیں آس پاس ہے دوست یہ 1924 ء کے دسمبر کی 24 تاریخ تھی جب کوٹلی سلطان پور کے ایک غریب محنت کش روایتی عیال دار پنجابی گھرانے میں ایک ایسے نونہال نے جنم لیا جسے قدرت نے غیرمعمولی آواز سے نوازا تھا۔

Read more

صدر ٹرمپ اور مسئلہ کشمیر

وزیراعظم عمران خان کا دورۂ امریکہ ہماری توقعات سے زیادہ کامیاب رہا۔ جب وہ امریکہ جانے والے تھے تو یہاں بہت سی ایسی باتیں کی جا رہی تھیں کہ یہ دورہ تیسرے درجے کے دعوت نامہ پر ہو رہا ہے۔ ایک طرف یہ کہا گیا کہ یہ علی جہانگیر صدیقی سابق سفیر امریکہ کی مہربانی سے ممکن ہوا ہے جن کی ٹرمپ کے داماد سے ذاتی دوستی ہے تو دوسری طرف اسے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ عمران خان کو بھی ٹرمپ سے ایسے حسنِ سلوک کی توقع نہ تھی، خود اُن کے بقول اُنہیں اِس حوالے سے اَن گنت مشورے دیے گئے۔

Read more

عالمی عدالت کا خوش آئند فیصلہ؟

کسی بھی عدالت کا کوئی فیصلہ آتا ہے تو عموماً ایک فریق خوش ہوتا ہے تو دوسرا رنجیدہ و نا شاد۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے متعلق عالمی عدالتِ انصاف کا حالیہ فیصلہ اس حوالے سے دلچسپی کا حامل ہے کہ پاکستان اور ہندوستان، ہر دو ممالک کی سیاسی و سفارتی قیادتوں اور میڈیا نے…

Read more

کرتار پور راہداری رواداری کا راستہ ہے

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے حال ہی میں گورو دوارہ دربار صاحب کرتارپور کا دورہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال اکتوبر تک پاکستان کرتارپور راہداری منصوبہ مکمل کر لے گا کرتار پور کا ریڈور منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے انہوں نے کہا…

Read more

پُرامن جمہوری افغانستان: نئی امیدیں

قطر کے دارالحکومت دوحہ سے مثبت خبر یہ آئی ہے کہ تمام اختلافی امور پر سمجھوتہ طے پانے کے بعد امریکہ اور طالبان آپس میں کبھی جنگ نہیں لڑیں گے۔  انٹرا افغان امن کانفرنس میں افغان طالبان خواتین کو حقوق دینے اور تشدد میں کمی لانے پر بھی رضا مند ہو گئے ہیں۔  اسکولوں اور…

Read more

5  جولائی کی سیاہی؟

ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو کتابوں میں جمع کی جاتی ہے دوسری تاریخ آنکھوں دیکھی یا ہڈ بیتی کہی جا سکتی ہے۔ دونوں میں چاہے جتنا بھی فرق ہو، بیان کرنے والے کی اپنی ذہنی استعداد یا ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ ہمارے تجزیہ کار بالعموم چیزوں کو بلیک یا وائٹ بنا کر دکھانے کے…

Read more

منافرتوں کی سوداگری کب تک؟

داتا دربار خود کش حملے میں چھے پولیس والوں سمیت گیارہ بے گناہ افراد شہید ہوئے ہیں اور 30 کے قریب زخمی ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم حزب الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ حملہ آور کے متعلق بیان کیا جا رہا ہے کہ اس کی عمر 15 سے 16 سال کے قریب تھی، جس نے ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جائے وقوع سے حملہ آور کے جسمانی اعضا بھی مل گئے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ امید یہی ہے کہ حسبِ روایت اسے غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے ملک دشمنی پر مبنی کارروائی قرار دیا جائے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ اسے بھارتی سازش قرار دے کے معاملہ نمٹا دیا جائے۔

Read more

جدید سائینٹیفک تقاضے اور فواد چوہدری؟

مذہب اور سائنس کی آویزش بہت قدیمی ہے۔ اہل مذہب کی باہمی سر پھٹول یا جنگ و جدل رہی ایک طرف انہوں نے سائینٹیفک اپروچ کے حاملین پر صدیوں جو مظالم ڈھائے اور جو اذیتیں پہنچائیں اُن کی ایک طویل درد ناک داستان ہے آج جن سچائیوں کو ہم مسلمہ حقائق تسلیم کرتے ہیں ایک زمانے میں ان پر اظہارِ خیال کرنا ناقابلِ معافی جرم تھا مثال کے طور پر گردشِ زمین کا نظریہ آج اس قدر قبولیت عامہ کا حامل ہے کہ کوئی اس کی مخالفت میں بولے تو بچے بھی اس پر ہنسیں گے اور مذاق اڑائیں گے سب کو معلوم ہے کہ دن اور رات کیسے بدلتے ہیں مگر قدیم زمانے کے لوگ گردشِ زمین کی حقیقت سے بے خبر تھے وہ ظاہری طور پر جو کچھ دیکھتے تھے اُسی کو حقیقت خیال کرتے تھے یہ کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔

Read more

زمینی حقائق تو من مانی کا نام ہیں، آئین کچھ اور کہتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ فلاں زمانے میں صحافت پا بندِ سلاسل تھی، فلاں زمانے میں ضمیر کے سودے ہوتے تھے یا ضمیر کے مطابق لکھنے اور بولنے پر بندشیں تھیں. ہم پوچھتے ہیں آپ لوگ کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس مملکتِ خداداد میں زمانہ تو آج بھی نہیں بدلا۔ شاید اس کے…

Read more