جدید سائینٹیفک تقاضے اور فواد چوہدری؟

مذہب اور سائنس کی آویزش بہت قدیمی ہے۔ اہل مذہب کی باہمی سر پھٹول یا جنگ و جدل رہی ایک طرف انہوں نے سائینٹیفک اپروچ کے حاملین پر صدیوں جو مظالم ڈھائے اور جو اذیتیں پہنچائیں اُن کی ایک طویل درد ناک داستان ہے آج جن سچائیوں کو ہم مسلمہ حقائق تسلیم کرتے ہیں ایک زمانے میں ان پر اظہارِ خیال کرنا ناقابلِ معافی جرم تھا مثال کے طور پر گردشِ زمین کا نظریہ آج اس قدر قبولیت عامہ کا حامل ہے کہ کوئی اس کی مخالفت میں بولے تو بچے بھی اس پر ہنسیں گے اور مذاق اڑائیں گے سب کو معلوم ہے کہ دن اور رات کیسے بدلتے ہیں مگر قدیم زمانے کے لوگ گردشِ زمین کی حقیقت سے بے خبر تھے وہ ظاہری طور پر جو کچھ دیکھتے تھے اُسی کو حقیقت خیال کرتے تھے یہ کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔

Read more

زمینی حقائق تو من مانی کا نام ہیں، آئین کچھ اور کہتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ فلاں زمانے میں صحافت پا بندِ سلاسل تھی، فلاں زمانے میں ضمیر کے سودے ہوتے تھے یا ضمیر کے مطابق لکھنے اور بولنے پر بندشیں تھیں. ہم پوچھتے ہیں آپ لوگ کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس مملکتِ خداداد میں زمانہ تو آج بھی نہیں بدلا۔ شاید اس کے…

Read more

کم عمری کی شادیاں کیوں؟

کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے لائے گئے بل پر بحث جاری ہے حالانکہ یہ ایک معمولی سی بات ہے کہ پارلیمنٹ انسانی مفاد میں کوئی بھی قانون سازی کر سکتی ہے شادی کا تعلق رضا مندی اور بلوغت سے ہے مان لیتے ہیں کہ بلوغت مختلف خطوں یا مختلف لوگوں میں مختلف اوقات…

Read more

سری لنکا کا نائن الیون اور ہمارا اجتماعی رویہ؟

21 اپریل کا اتوار یوم ایسٹر سری لنکن مسیحیوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا جب یہ لوگ سیدنا مسیحؑ کے دوبارہ جی اٹھنے کی خوشی یعنی اپنی عید کی مذہبی عبادات کے لیے گرجا گھروں میں منہمک تھے یا ہوٹلز میں خوشیاں منا رہے تھے عین اس وقت خود کش حملہ آوروں…

Read more

ہزارہ شیعوں کی خونریزی کب تک؟

عصرِ حاضر میں دہشت گردی انسانیت کے لیے سب سے بڑی لعنت ثابت ہوئی ہے جس نے دنیا کی تمام اقوام چاہے وہ ترقی یافتہ و مہذب ہیں یا غیر مہذب سب کو حالتِ خوف میں مبتلا کر رکھا ہے پوری انسانیت اس پر تین حروف بھیج رہی ہے اور اس عفریت کے خاتمے پر یکسو ہے اس وسیع تر انسانی اتفاق رائے کے باوجود بعض اقوام بالخصوص ہمارے مسلمانوں میں ہنوز ایسی غیر انسانی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں جو کھلے بندوں نہیں تو حیلوں بہانوں سے تو جیہات پیش کرتے ہوئے اس ناسور کی حمایت کرتی پائی جاتی ہیں پہلے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارا دین دہشت گردی کی اجازت ہر گز نہیں دیتا اور جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کیا۔

Read more

معاشی ناکامی کی ذمہ دارحکومت یا وزیر خزانہ؟

کون نہیں جانتا کہ زندگی کی طرح اقتدار یا حکمرانی بھی عارضی چیز ہے مگر اس کے باوجود لوگ جب کرسی پر بیٹھتے ہیں تو خود کو انسان کی بجائے خدا یا کم از کم تیس مار خاں ضرور سمجھنے لگتے ہیں کسی کا ظرف یا کمینہ پن دیکھنا ہوتو اس کا اس کے مخالفین کے متعلق اظہارِ خیال یا لب و لہجہ ملاحظہ فرما لیجیے۔ 72 سالوں میں ہم نے کئی حکومتیں آتی جاتی دیکھی ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ”بڑے پن“ کے جو ریکارڈ ہماری موجودہ ہستیوں نے بنائے یا توڑے ہیں وہ بے نظیر اور بے مثال ہیں اس استعفیٰ پر کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ تماشا دکھا کر مداری گیا۔

Read more

باشعور سوسائٹی کیسے تشکیل دی جائے؟

کوئی شخص گنہگار ہے یا بے گناہ؟ اس کے فیصلہ کا اختیار حقوق العباد کی حد تک ملکی قانونی و آئینی عدالتوں کے پاس ہے رہ گئے حقوق اللہ جیسے نماز، روزہ، حج اور دیگر خالصتاً مذہبی فرائض و امور کی ادائیگی کے معاملات ان میں کوتاہی پر فیصلے کا اختیار صرف اور صرف پروردگار…

Read more

بھارتی انتخابات میں فاتح کون؟

دنیا کی سب بڑی جمہوریت، انڈین لوک سبھا کے 17 ویں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں کے لئے 14 کروڑ 20 لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ کُل ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 90 کروڑ ووٹرز اگلے پانچ سالوں کے لئے 543 نشستوں پر اپنی قیادت کا چناؤ کرنے جا رہے ہیں۔ 7 مراحل میں منعقد ہونے والے انتخابات 6 ہفتوں میں مکمل ہوں گے اور ان کے حتمی نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔

بھاری ہندو میجارٹی کے باوجود رنگا رنگ ہندوستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کا ملک ہے، جسے مشترکہ ہندی تہذیبی اقدار اور سیکولر اپروچ پر مبنی جمہوری پارلیمانی آئین نے ایک وحدت اور طاقت بخش رکھی ہے، جو اپنی ابھرتی اکانومی اور طاقتور فورس کے ساتھ خود کو چین کی مسابقت میں دیکھتا ہے مگر افسوس اس وقت پاکستان کی طرح یہ اتنی بڑی جمہوریت بھی قیادت کے بحران سے دوچار ہے۔ ایک طرف راہول گاندھی کی قیادت میں اندرا کانگرس ہے تو دوسری طرف نریندر مودی کی رہنمائی میں بی جے پی کی حکمرانی۔

Read more

اپوزیشن حکومت گرانے سے باز رہے

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو چالیس برس بیت گئے مگر اُس پھانسی کو ”عدالتی قتل“ کہنے والوں کی آواز بجائے کمزور ہونے کے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بھٹو مرحوم کی سیاست میں اہمیت سے انکار پہلے تھا نہ اب ہے، اِسی طرح اُن کے طرزِ سیاست سے اختلاف کرنے والوں کی کمی پہلے تھی نہ اب ہے۔ ایسا دور بھی رہا ہے، جب ہماری قومی سیاست بھٹو اور اینٹی بھٹو کے گرداب میں گھومتی رہی۔ بھٹو کی سیاسی قد آوری میں جتنا رول اُن کی پھانسی کے متنازع فیصلے کا رہا، اُس سے کہیں زیادہ اُن کی پُر عزم بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی بھرپور اور ولولہ انگیز جمہوری جدوجہد کا ہے۔

Read more

بلاول نواز ملاقات اور میثاقِ جمہوریت

(گزشتہ سے پیوستہ) بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں۔ اُن پر دباؤ ڈالنا بھی ایک طرح کا تشدد ہے۔ اِس ملاقات میں میثاقِ جمہوریت پر بھی بات ہوئی کہ کس طرح دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اِس میں شامل کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ جمہوری و سیاسی قدروں کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاست کو نئی زندگی دلائی جا سکے۔ آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے ماضی میں روا رکھی گئی غلطیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی جمہوری جدوجہد کا بھی تذکرہ ہوا۔

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ بلاول نواز ملاقات محض تیمارداری کے لیے نہیں تھی، اُس کا سیاسی ایجنڈا بھی تھا، وہ غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔ دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین خواہ کسی بھی حوالے سے ملیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاست یا ملکی حالات پر بات نہ ہو۔ آج آپ کے تمام مخالفین اور کئی موافقین کا یہ اعتراض بلا جواز نہیں ہے کہ یہ اصولوں کا نہیں، مجبوریوں کا سودا ہے۔ جوں جوں نیب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے آپ کو چارٹر آف ڈیمو کریسی کی یاد ستانے لگی ہے۔

Read more