بلاول نواز ملاقات اور میثاقِ جمہوریت

(گزشتہ سے پیوستہ) بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں۔ اُن پر دباؤ ڈالنا بھی ایک طرح کا تشدد ہے۔ اِس ملاقات میں میثاقِ جمہوریت پر بھی بات ہوئی کہ کس طرح دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اِس میں شامل کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ جمہوری و سیاسی قدروں کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاست کو نئی زندگی دلائی جا سکے۔ آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے ماضی میں روا رکھی گئی غلطیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی جمہوری جدوجہد کا بھی تذکرہ ہوا۔

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ بلاول نواز ملاقات محض تیمارداری کے لیے نہیں تھی، اُس کا سیاسی ایجنڈا بھی تھا، وہ غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔ دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین خواہ کسی بھی حوالے سے ملیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاست یا ملکی حالات پر بات نہ ہو۔ آج آپ کے تمام مخالفین اور کئی موافقین کا یہ اعتراض بلا جواز نہیں ہے کہ یہ اصولوں کا نہیں، مجبوریوں کا سودا ہے۔ جوں جوں نیب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے آپ کو چارٹر آف ڈیمو کریسی کی یاد ستانے لگی ہے۔

Read more

وزیراعظم کے تین مثبت اقدام

وزیراعظم عمران خان سے، اُن کی سیاست پر ہمیں ایک سو ایک اختلافات ہو سکتے ہیں۔ سیاسی نہ ہوتے ہوئے بھی جس طرح وہ برسر اقتدار آئے، اُس سب پر جرح و تنقید کے ایک سے بڑھ کر ایک مقامات آہ و فغاں موجود ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جن مسائل پر اپنے سیاسی مخالفین کو پیہم موردِ الزام ٹھہراتے رہے، آج وہ خود اُن تمام مسائل پر ایمان کامل لا چکے ہیں۔ ہم نے کرکٹ کے اِس سابق کھلاڑی اور موجودہ وزیراعظم پر بہت سے تنقیدی مضامین لکھے ہیں مگر آج اس خوگرِ تنقید سے تھوڑی سی توصیف بھی سن لیں۔

Read more

پاک ہند اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں؟

  آج ارادہ تو سعودی کراؤن پرنس کے دورہ پاک ہند پر لکھنے کا تھا مگر اس خطے میں ایک مرتبہ پھر نفرت اور جنونیت کی جو آندھی اٹھی ہے وہ مجبور کر رہی ہے کہ اس کی جڑوں تک پہنچا جائے۔ اس مردم خیز اور زرخیز سرزمین کی بدقسمتی ہے کہ لاکھوں انسانوں کو…

Read more

دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے؟

  دوست کہتے ہیں کہ بندوں کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا، ادارے اہم ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہمارے جیسے ممالک میں آبادی یا بربادی بندوں ہی کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ان دنوں عظیم باپ کے فرزند قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے اتنا زبر دست فیصلہ دیا…

Read more

چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف گورننس؟

درویش نے بچپن میں اپنے گاؤں کا مشاہدہ کیا ہے کہ جس نے اپنی پیدائشی جہالت چھپانی ہوتی تھی وہ کچھ مذہبی اطوار و مقدس الفاظ کا سہارا لیتا تھا اور جس نے شرفاء سے چھیڑ چھاڑ یا بدزبانی و بدکلامی کرنی ہوتی تھی وہ گاؤں کے نمبردار یا چوہدری کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے…

Read more

چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف گڈ گورننس؟

”ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا۔ وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے“۔ غالبؔ نے یہ شعر استاد ذوق کی ”نذر“ کیا تھا مگر یہ ہمارے گاؤں کے بابے پر بھی اس حوالے سے درست بیٹھتا ہے کہ ”بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا۔ اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے“۔ درویش نے بچپن میں اپنے گاؤں کا مشاہدہ کیا ہے کہ جس نے اپنی پیدائشی جہالت چھپانا ہوتی تھی وہ کچھ مذہبی اطوار و مقدس الفاظ کا سہارا لیتا تھا اور جس نے شرفاء سے چھیڑ چھاڑ یا بدزبانی و بدکلامی کرنا ہوتی تھی وہ گاؤں کے نمبردار یا چوہدری کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے ان کی کٹھ پتلی بن جاتا تھا۔

Read more

ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی کب تک؟

فرد ہو یا قوم زندگی کی خوبصورتی و رعنائی یہ ہے کہ وہ اپنے آج کے لیے جیے اس سے جو اعتماد آتا ہے وہ ترقی یا سربلندی کا زینہ بنتا ہے لیکن اگر کوئی انسان یہ سمجھے کہ میرا آج تو بہت خراب ہے جو گزرے ہوئے برے کل سے جڑا ہوا ہے لیکن…

Read more

عقل بڑی کہ بھینس؟

آج کا عنوان کچھ عجیب لگا تو ذہن میں خیال آیا کہ اگر ہمارا وزیر اعظم کٹے کٹیوں، بھینسوں، انڈوں اور مرٖغیوں کی باتیں کر سکتا ہے تو ہم کیوں گائے بھینسوں کا تذکرہ نہیں کرسکتے الناس علی دین ملو کہم۔ تیسری جماعت کا ایک چھوٹا سا بچہ جس سے اس کے دادا نے پوچھا…

Read more

قوم دکھوں کا مداوا چاہتی ہے

اپنی تشکیل سے لے کر 70 سالہ تاریخ تک وطنِ عزیز دنیا کا ایک انوکھا ملک رہا ہے جس کی ہر چیز انوکھی ہے۔ تاریخ یہ ہے کہ ہم پیہم سیاسی عدم استحکام کا شکار چلے آرہے ہیں۔ ہمارے قائد نے تو فرمایا تھا کہ ہم اس مملکت کو اسلام کی ”تجربہ گاہ“ بنانا چاہتے…

Read more

جبر بمقابلہ حریتِ فکر؟

دھونس یا جبر کی مخالفت شاید درویش کے خون یا گھٹی میں ہے۔ بچپن کی جتنی بھی یادیں کریدی ہیں اُن میں ہمیشہ جبر سے لڑائی ہی نظر آئی۔زندگی بھر کے لیے دکھوں اور مصیبتوں کو سینے سے لگا لیا لیکن جبر کو قبولنے سے انکار کر دیا۔ ذرا ہوش سنبھالا تو دو طبقات کو…

Read more