خود احتسابی

ایک تجربہ کار اور باصلاحیت نوجوان نے کسی جگہ نوکری کے لیے اپلائی کیا ہوا تھا اسے وہاں سے انٹرویو کی کال آ گئی۔ اس نے خوب تیاری کی اور مقررہ دن انٹرویو کے لیے اس کمپنی کے دفتر میں پہنچ گیا۔ وہاں پر چار پانچ دیگر امیدواران بھی انٹرویو کے لیے آئے ہوئے تھے۔ لیکن اپنی تعلیمی قابلیت اور سابقہ تجربے کی بنا پر وہ بہت پراعتماد تھا اور اسے یقین تھا کہ یہ ملازمت اسے مل جائے گی۔ اپنی باری پر وہ اندر گیا اور پوچھے جانے والے تمام سوالوں کے انتہائی اعتماد کے ساتھ جواب دیے۔ جوں جوں انٹرویو آگے بڑھ رہا تھا اس کے اندر کی خوشی اور یقین کا گراف بھی بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا تھا۔ جب اسے لگا کہ انٹرویو مکمل ہو گیا ہے اور وہ اس مرحلے میں آسانی سے کامیاب ہو جائے گا عین اسی وقت پینل میں موجود سب سے عمررسیدہ ممبر نے اس سے ایک عجیب سوال پوچھ لیا۔
برخوردار زندگی میں کتنی بار ناکامی کا سامنا کیا ہے؟
تین سے چار بار۔ اس نے سوچتے ہوئے محتاط انداز میں جواب دیا۔
ان ناکامیوں کے اسباب کیا تھے اور آپ خود کو ان کے لیے کس حد تک ذمہ دار سمجھتے ہیں؟ اس کے جواب سے جڑا اگلا سوال پوچھا گیا۔
پوچھے گئے سوال نے اسے پھر سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اچھی طرح سوچنے کے بعد اس نے بتایا کہ میں نے ہر بار اپنی پوری کوشش کی تھی لیکن کبھی حالات اور کبھی دوسرے لوگوں کی وجہ سے مجھے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے یقین ہے کہ میرا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔
اس کا جواب سننے کے بعد اس سینئر ممبر نے پینل کے باقی ممبران سے مشورہ کر کے اسے بتایا کہ وہ اسے اس پوزیشن کے لیے اہل نہیں سمجھتے۔ یہ بات سننے کے بعد کچھ لمحوں کے لیے اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ جب اس کے حواس بحال ہوئے اور اس نے اس فیصلے کی وجہ جاننی چاہی تو اسے بتایا گیا کہ جو شخص اپنی زندگی کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے پر تیار نہیں اسے ہم کوئی اہم ذمہ داری سونپنے کا خطرہ کیوں کر مول لے سکتے ہیں۔ کل کو کمپنی کو کوئی بھی نقصان پیش آنے کی صورت میں آپ تمام تر ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔
ساری بات اس کی سمجھ میں آ چکی تھی اور واپس آتے ہوئے اسے ملازمت نہ ملنے کے دکھ سے زیادہ زندگی کا ایک اہم سبق ملنے کی خوشی تھی۔ یہ صرف اس نوجوان کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہم سب کا اجتماعی المیہ ہے۔ امتحان میں ناکام کیوں ہو گئے؟ گھر میں مسئلہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے میری توجہ بٹ گئی تھی اور میں ٹھیک سے پڑھ نہیں پایا۔ کل دفتر کیوں نہیں آئے؟ ہماری بجلی خراب تھی اس لیے کپڑے استری نہیں ہوئے تھے۔ دفتر دیر سے کیوں آئے؟ ہماری طرف گیس نہیں آ رہی تھی اس لیے ناشتہ دیر سے تیار ہوا، صبح آنکھ دیر سے کھلی رات کو میں الارم لگانا بھول گیا۔ غرض یہ اور اس جیسی ہر صورت حال کے لیے ہمارے پاس ہر طرح کے بہانے اور توجیحات دستیاب ہوتی ہیں جن سے ہم ہمیشہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں تو ٹھیک تھا، بس کائنات کے باقی سارے عوامل میرے مخالف کام کر رہے تھے۔
زندگی میں جب ہم کامیاب ہوتے ہیں تو اس وقت ہم اپنی کامیابی کسی کے ساتھ بانٹنے کے معاملے میں انتہائی کنجوس ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنی کامیابی کا کریڈٹ صرف اپنی ذات تک ہی محدود کر لیتے ہیں۔ میری محنت، میری ذہانت، میری قابلیت، میری پلاننگ، ان سب چیزوں سے آگے ہمیں کچھ نظر نہیں آتا۔ ہم قدرت کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں اور مواقع کی نفی کرنے سے بھی نہیں گھبراتے اور دھڑلے سے سب کو بتاتے ہیں کہ میں ایک سیلف میڈ شخص ہوں اور میں نے کبھی کسی کا سہارا نہیں لیا۔ ہم اپنے اوپر اللہ کی بے شمار نعمتوں اور اپنے ساتھ جڑے لوگوں کی قربانیوں اور ان کے کنٹری بیوشن کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ ہم ناکام ہو جائیں تو ہمارا رد عمل یکسر مختلف ہوتا ہے۔
ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ جب تک ہم اپنی ناکامیوں کو قبول نہیں کریں گے ہم زندگی میں کبھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ وقتی طور پر شاید ہم کامیاب ہو جائیں لیکن یہ کامیابی دیرپا نہیں ہوگی۔ ہمیں اپنی ناکامیوں کا باریک بینی سے تجزیہ کرنا ہو گا، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کون کون سے ایسے عوامل تھے جو ہمارے بس میں تھے لیکن ہم نے ان کے لیے اپنی پوری کوشش نہیں کی۔ جس دن ہم نے اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد کسی دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کا ارادہ کر لیا اس دن سے یقینی طور پر ہماری زندگی میں ایک مثبت تبدیلی آنا شروع ہو جائے گی۔


Great knowledge
جزاک اللہ