عالمی سطح پر غربت کے خاتمے میں چین کی کوششیں


 

دنیا سے غربت کا خاتمہ انسانیت کے لئے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ دنیا کی کل آبادی کا ایک ارب سے زیادہ حصہ آج بھی انتہائی غربت کا شکار ہے۔ اس انتہائی غربت کے خلاف عالمی جنگ میں، چین نے اپنی کوششوں سے ایک ایسی راہ ہموار کی ہے جو بہتر زندگی کے خواہاں تمام افراد کے لئے ایک امید ہے۔

ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی رکھنے والا دنیا کا سب سے بڑا ترقی پذیر ملک ہوتے ہوئے چین نے اپنی کوششوں سے ملک میں 800 ملین افراد کو انتہائی غربت سے باہر نکالا ہے۔ چین نے پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے غربت میں کمی کے ہدف کو بھی مقررہ وقت سے پہلے ہی پورا کیا ہے۔ چین کی اس تاریخی کامیابی پر دنیا بھر میں اسے سراہا گیا ہے۔ عالمی رہنماؤں سمیت عالمی تنظیموں نے اس اقدام کی تعریف کی ہے اور اس تجربے سے سیکھنے کی خواہش کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گیتریس نے چین کی کامیابی کو غربت کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔

غربت کے خاتمے کے چین کے اہداف پر مشتمل غربت میں کمی کی حکمت عملی تیزی سے معاشی نمو کو فلاح و بہبود میں ٹھوس بہتری کے ساتھ ملاتی ہے۔ مقامی حالات کے مطابق حل تیار کر کے اس پالیسی میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ غربت کے خلاف اقدامات کمیونٹیز کی مخصوص ضروریات کو پورا کریں۔ اس نقطہ نظر نے ملک کے کچھ انتہائی غریب علاقوں کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور اسی طرح کے چیلنجوں سے نبردآزما دیگر ممالک کے لیے ایک مفید تحریک پیش کی ہے۔ اس کی ایک مثال جن کاؤ ٹیکنالوجی کا تعارف ہے، جس سے روانڈا جیسے ممالک میں تبدیلی آئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے گھاس کا استعمال کرتے ہوئے مشروم اگانے کے لیے ایک پائیدار طریقہ سامنے لایا گیا ہے۔ روانڈا میں، جن کاؤ ٹیکنالوجی نے دیہی کسانوں کو کم سے کم وسائل کے ساتھ مشروم کی کاشت کرنے کے قابل بنا کر انہیں با اختیار بنایا ہے۔ اس سے نہ صرف بہت سے گھرانوں کے لیے آمدنی کے متنوع ذرائع سامنے آئے ہیں بلکہ غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری میں بھی اس ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پورے افریقہ میں، جن کاؤ ٹیکنالوجی کو 40 سے زیادہ ممالک میں اپنایا گیا ہے، جس سے غذائی تحفظ بہتر ہوا ہے اور پائیدار کاشتکاری کے طریقے سامنے آئے ہیں۔

عالمی غربت کے خاتمے میں چین کا تعاون زرعی اختراعات سے بالاتر ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو جیسے اقدامات کے ذریعے چین نے دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں میں منصوبے تیار کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ یہ منصوبے روزگار پیدا کرتے ہیں، رابطے کو بہتر بناتے ہیں، اور جامع ترقی کو فروغ دیتے ہیں، جس سے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے میں مدد ملتی ہے۔

اب تک، چین نے 160 سے زیادہ ممالک کو ترقیاتی امداد فراہم کی ہے، 150 سے زیادہ ممالک کے ساتھ اعلیٰ معیار کی بی آر آئی شراکت داری قائم کی ہے اور ترقیاتی فنڈنگ میں تقریباً 20 بلین امریکی ڈالر کے ساتھ ایک سو سے زیادہ منصوبوں میں مدد کی ہے، جس میں گلوبل ساؤتھ کی معاشی بحالی میں اہم وسائل شامل ہیں۔

عالمی سطح پر غربت کے خاتمے میں چین کا تعاون مالی اور تکنیکی امداد سے بھی بالاتر ہے۔ چین نے 180 سے زیادہ ممالک اور خطوں کے 400,000 سے زیادہ پیشہ ور افراد کو تربیت دی ہے، جس سے غربت کے خاتمے اور ترقی میں ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

ریوڈی جنیرو میں حال ہی میں اختتام پذیر جی 20 سربراہی اجلاس میں، چینی صدر شی جن پھنگ نے عالمی ترقی کے لیے چین کے آٹھ اقدامات کا خاکہ پیش کیا، جن میں اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو آگے بڑھانا، عالمی ترقیاتی اقدام کو نافذ کرنا، افریقہ میں ترقی کی حمایت کرنا، اور غربت میں کمی اور خوراک کی حفاظت پر بین الاقوامی تعاون کی حمایت کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ سربراہی اجلاس میں چین کے صدر نے بھوک اور غربت کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ہونے کے چین کے فیصلے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام دنیا بھر میں بھوک اور غربت سے نمٹنے کے لیے ثابت شدہ عوامی پالیسیوں اور سماجی ٹیکنالوجیز کو نافذ کرنے کے لیے وسائل اور علم کو بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ اقدامات مشترکہ خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے لیے چین کے عزم کی نمائندگی کرتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چین ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کا قابل اعتماد طویل مدتی شراکت دار رہے گا، اور عالمی ترقی کے لیے کام کرنے والا اور آگے بڑھنے والا ہو گا۔ اس کے علاوہ یکم دسمبر سے، چین، اپنے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام کم ترقی یافتہ ممالک کو 100 فیصد ٹیرف لائنوں کے لیے صفر ٹیرف کی پیش کش کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام، جنوب۔ جنوب تعاون کو بڑھانے کے لیے چین کی جاری کوششوں کے ساتھ مل کر، عالمی تجارت اور اقتصادی ترقی میں نظامی عدم مساوات کو دور کرنے کے اس کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی بڑی مارکیٹ میں محصولات سے پاک رسائی فراہم کر کے، چین کا مقصد سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کو اپنی برآمدی صلاحیتوں کو بڑھانے، آمدنی پیدا کرنے اور بیرونی امداد پر انحصار کو کم کرنے کے لیے با اختیار بنانا ہے۔

چونکہ دنیا کو آب و ہوا کی تبدیلی اور معاشی عدم مساوات جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے، چین کی غربت کے خاتمے کی کوششیں اہم تجربہ پیش کرتی ہیں۔ چین کا ماڈل سب کے لیے زیادہ مساوی اور خوشحال مستقبل کی تعمیر میں اختراعی، مقامی حل اور بین الاقوامی تعاون کی صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔

Facebook Comments HS