خلیج، استاد، طبقات اور تعلیم


”لیکن یہ تو وہ کمرہ جماعت نہیں تھا جس کے بارے میں اس نے کتابوں میں پڑھا تھا یا پھر جس کے متعلق اساتذہ نے اسے ڈگری یافتہ بنانے کے لئے پڑھایا تھا“ ۔ اس کا آج پرائیویٹ سکول میں بطور استاد تیسرے مہینہ کا پہلا دن تھا اور وہ پچھلے تین منٹ سے اکیاون طلبہ پر مشتمل کمرہ جماعت کے آخری چار طلبہ پر نظریں جمائے اس نوع کی سوچوں کی دنیا آباد کر چکا تھا۔ وہ کبھی ہاتھ میں تھمائی جانے والی جنرل سائنس کی کتاب کو دیکھتا (جس کی بابت اس نے کبھی اپنے دوستوں سے مذاق میں کہا تھا کہ ڈگری کے اختتام پر میں سکول میں جا کر سائنس پڑھاؤں گا ہی نہیں کہ یہ میرا انتخاب ہی نہیں) اور کبھی وہ اپنی بے چارگی کو دیکھتا، کبھی شور میں مچاتے طالبعلموں کو دیکھتا تو کبھی گھڑی کی سوئیوں کو جو تقریباً رُک چکی تھیں اور مزید آگے جانا بھول چکی تھیں، کبھی وہ بیچ میں بیٹھے سنجیدہ طالبعلموں کے ترستے کانوں کو دیکھتا تو کبھی وہ اپنی لاچاری کو، الغرض کبھی باہر تو کبھی اندر، کبھی اوپر کبھی نیچے دیکھتے دیکھتے آج کے اوقات نامہ کے مطابق کلاسوں کا دورانیہ اپنے اختتام کو پہنچا اور اسکول میں چھٹی ہو گئی۔

یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو ہمارے ہاں تقریباً ہر قصبہ اور شہر میں زندہ حالت میں موجود ہے۔ آج ہمارے ہاں جو مخلص اور اہل افراد اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں تو وہ اپنی صلاحیت اور اہلیت کھو دیتے ہیں، کہ جو کچھ وہ پڑھانا چاہتے ہیں یا پھر جس طریقے سے وہ طالبعلموں کے اذہان میں علم کے سوتے جگانا چاہتے ہیں انہیں بجائے ’موقع‘ دینے کے ایک مقررہ وقت اور ایک بنا بنایا ”سلیبس“ دیا جاتا ہے، اور اس سلیبس کی باگیں مہینے کے اختتام پر معاوضہ کے ساتھ جوڑ کر اسے سال بھر کے لئے آزاد مگر درحقیقت قید کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کثیر تعداد میں ایسے افراد موجود ہے جو تدریس کرنا چاہتے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ ہم حسب توفیق اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے تعلیمی نظام میں تھوڑی بہت تبدیلی لائیں مگر جب وہ میدانِ عمل میں پہنچتے ہیں تو وہ دنگ رہ جاتے ہیں کہ ایں چہ است؟

یقیناً ہمارا نظامِ تعلیم فی الوقت اتنی مسائل کا شکار ہے کہ اس میں سوائے مسائل کے کچھ اور ہے ہی نہیں۔ یہ اب طبقات میں بٹ چکا ہے، اس میں اب یکسانیت نہیں رہی، اس کا قومی وحدانی تصور اب کہیں کھو گیا ہے، اس میں اب کرپشن اور صرف کرپشن ہے، مدرسین اور معلمین کے نام پر یہاں پڑھانے والے وہ ہیں جن کو بقول جون ایلیاؔ پہلے خود پڑھنا چاہیے اور پھر کہیں جا کے دوسروں کو پڑھانا چاہیے، منتظمین کے نام پر ایسے افراد نے تعلیمی ادارے کھول رکھے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ بقول شاعرؔ:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
اچھا ہوا فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اور ایسا ہی ہے کہ در ایں ماحول اگر فرعون بھی زندہ ہوتا تو وہ بھی گلی کے نکڑ پہ تعلیمی ادارے کے نام پر کرائے کی ایک دُکان کھول کر، متعلقہ بورڈ سے بذریعہ رشوت و سفارش کے رجسٹر کروا کے، اسے ایک بہترین نام دے کر اس میں تھرڈ، فورتھ اور ففتھ کلاس فیکلٹی رکھ کر بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے نام پر خوب خوب پیسہ کماتا۔ مستزاد اس پہ یہ کہ صوبوں سمیت شہروں میں تعلیم میں یکسانیت نہیں۔ نصاب ہمارا ایک جیسا نہیں، ہمارا چھوڑ دیں کہ کسی کا بھی دوسرے سا نہیں۔ نہ آرمی کے سکولوں کا سویلین کے سکولوں جیسا، نہ سرکاری کا پرائیویٹ سکولوں جیسا اور نہ ہی مدارس کا ان سب جیسا۔ پھر بھلا ہم مزید اسے ”پاکستان کا نظامِ تعلیم“ کیوں کر کہیں کہ اس میں پاکستان اور پاکستانیت کا کوئی جزو واحد بھی یکسانیت کا حامل نہیں۔ اسے تو اگر ”طبقات کا نظام ِ تعلیم“ گردانا جائے تو شاید یہ اس کے ساتھ انصاف ہو گا۔ یہ نظام تعلیم اب ہر لحاظ سے اتنے طبقاتی کشمکش کا شکار ہے کہ اس میں ہر طبقے کے اب مزید طبقات بننا شروع ہو گئے ہیں۔ جیسے پہلے پرائیویٹ سکولوں کا مطلب وہ اسکول ہوتے تھے جن میں معقول فیس ہوتی تھی اور جہاں اکثریت امراء کے بچوں کی ہوتی تھیں، مگر اب انہی پرائیویٹ سکولوں کی ایسی ذیلی شاخیں بن چکی ہیں جہاں صرف اور صرف غریب ہی پڑھتے ہیں اور جو بنائے ہی غرباء کے لئے ہیں اور فیس ان میں بھی لی جا رہی ہے۔

بات ہو رہی تھی اُن کی جو پڑھانا چاہتے ہیں مگر پڑھا نہیں پا رہے کیونکہ ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہی اتنی ہیں کہ جو چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ اب آپ خود ہی منصف بن جائیں اور بتائیں کہ دور حاضر کے جدید تعلیمی نظریات کے مطابق، کہ جن میں ہر طالبعلم خاص ہے اور ہر ایک کی انفرادی خصوصیات کے مطابق آپ نے اسے تعلیم دینی ہے، اگر آپ کو پچاس سے ساٹھ طلبہ کا ایک ہجوم ایک ایسے کمرہ جماعت میں حوالے کیا جائے جہاں چلنے پھرنے کے لئے محض وائٹ بورڈ کا سامنے کی پانچ انچ جگہ ہو اور آپ سے کہا جائے کہ آپ کے پاس پیریڈ کے نام پر صرف تیس منٹ کا دورانیہ ہے تب آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ یقیناً ً رد عمل کچھ زیادہ اچھا نہ ہو گا۔ اب ان سب سے پرے ہم سب کو چاہیے کہ ہم مزید اپنے اخلاص مند افراد کو تدریس کے پیشہ سے متنفر نہ ہونے دیں۔ ان کے لئے مناسب کلاس رومز کا بندوبست کریں۔ ان کو جدید تدریسی مواد کی فراہمی یقینی بنائیں اور ان کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کریں۔ ان کا انتخاب مجبور یا پھر چیف لیبر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ”استاد“ کے طور پر کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تب ہی وہ بہترین طریقے سے ڈیلیور کر پائیں گے اور ہمارا نظامِ تعلیم جو اب تک شدید طور پر بکھر چکا ہے شاید ادنیٰ سطح پر ہی سہی مگر بہتر ہو جائے گا۔

 

Facebook Comments HS