افغان طالبان کی صفوں میں بے چینی


آج کل یہ خبر بہت زیر بحث ہے کہ میانوالی اور چکوال میں کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بہت رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اگر اس پر فوری طور پر نہایت سخت ایکشن نہیں لیا گیا تو یہ آگ بہت کچھ جلانے کی صلاحیت حاصل کر لے گی۔ خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ یقینی طور پر پاکستان کے مقتدر حلقوں پر یہ حقیقت واضح ہی ہوگی اور وہ اس پر کارروائی کے لئے حکمت عملی بھی تیار کر رہے ہوں گے۔ کیوں کہ افغان طالبان کے حوالے سے بھی اختلاف رائے کی خبریں گرم ہیں۔

جب کوئی ایک ماہ قبل یہ خبر سامنے آئی کے افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور افغان طالبان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے اختیارات محدود کرتے ہوئے ان تینوں کے فوجی ساز و سامان کے حوالے سے اختیارات کم بلکہ عملی طور پر ختم کرتے ہوئے فوجی ساز و سامان کی تقسیم اور ان کے استعمال کے معاملات سے بے دخل کر دیا ہے تو ان خبروں میں صداقت محسوس ہونے لگی جو کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سفارتی حلقوں میں گردش کر رہی ہیں کہ افغان طالبان کے امیر اور بعض افغان طالبان کے دیگر لیڈران کرام میں اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ یہ صرف باہمی گفتگو یا تبادلہ خیالات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ افغان طالبان کے امیر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کو سب کو یہ واضح پیغام پہنچا دینا چاہیے کہ ان کی اقتدار اور طالبان کے اندرونی امور پر مکمل گرفت برقرار ہے اور اگر کسی کے رویہ سے یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ ان کو کچھ پالیسیوں پر تحفظات یا اختلافی نکتہ نظر ہیں بھی تو اس سے ان کی اتھارٹی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے اور وزیر داخلہ کے اختیارات ختم کر کے انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ حقانی نیٹ ورک ہو یا کوئی اور جب چاہے ان کے حوالے سے وہ کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کا میں نے اس لئے ذکر کیا ہے کہ ایک عرصے سے یہ تصور قائم ہو رہا ہے کہ افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج حقانی کو افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کے طرز حکمرانی اور بہت سارے امور پر اختیار کی گئی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔ ویسے اختلاف رائے رکھنے والوں میں افغان طالبان کے وزیر خارجہ متقی، نائب وزیر خارجہ عبّاس ستانکزئی، نائب وزیر اعظم ملا برادر اور ملا یعقوب کے بھی نام لئے جاتے ہیں مگر یہ تمام افراد اپنے اختلاف رائے کے حوالے سے بہت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور عوامی سطح پر اس کے اظہار سے اجتناب ہی کرتے نظر آتے ہیں مگر سراج حقانی اس پر ذرا عوامی انداز بھی اپنا لیتے ہیں۔

ویسے تو ان کی شناخت اس حوالے سے ہو رہی ہے کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے خواتین پر طب کی تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے عائد پابندیوں سے اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں مگر یہ صرف ایک علامتی اختلاف رائے ہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ یہ اختلاف بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے بلکہ سراج حقانی کے نکتہ نظر سے بہت سارے امور ایسے ہیں کہ جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور افغان طالبان کے امیر اس پر بات تک کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

بیان یہ کیا جا رہا ہے کہ ملا ہیبت اللّہ ایران سے تعلقات کو مختلف نظر یا بہتر کرنے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایران کو مکمل طور پر افغان طالبان کے حوالے سے مثبت یا کم از کم غیر جانبدار کیا جا سکتا ہے مگر سراج حقانی ایران کے حوالے سے سخت خیالات ہی رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ تصور کی جا رہی ہے کہ ان کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام رکھنے کے باوجود ان سے امریکی سفارت کار مستقل بنیادوں پر ملاقاتیں کر رہے ہیں اور امریکی سفارت کار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کو افغانستان میں گرم زمین کی بجائے ٹھنڈی ہوا سے واسطہ پڑا تو خطے میں امریکی مفادات کے لئے مزید مسائل پیدا ہوں گے اور اس ہی وجہ سے وہ سراج حقانی کو بھی قائل کر چکے ہیں کہ ملا ہیبت اللّہ کی اس ضمن میں حکمت عملی درست نہیں ہے۔

پھر داعش یعنی دولت اسلامیہ ولایت خراسان سے نبٹنے کی حکمت عملی پر بھی وہ ملا ہیبت اللّہ کے ہم خیال نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی پاکستان پالیسی کو ٹھیک گمان کرتے ہیں۔ وہ اپنی اس پوزیشن کا بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ جس میں ان کو درانی اور غلزئی پشتونوں کی تاریخی مخاصمت کے ذیل میں امن کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور افغان طالبان کے لئے اس کی غیر معمولی اہمیت موجود ہیں۔ سراج حقانی نے ابھی چند روز قبل ایک تقریب میں خیالات کا اظہار اس وقت بہت بے دھڑک ہو کر کیا جب ان سے قبل افغان طالبان کے وزیر تعلیم ندا ندیم نے تقریر کرتے ہوئے افغان طالبان کے مخالفین کے لئے بہت ہی سخت زبان استعمال کی۔

ندا ندیم کے الفاظ تو یہاں نقل کرنا مناسب نہیں ہوں گے مگر ان کے بعد سراج حقانی نے ندا ندیم کے تصورات کے بر عکس اپنی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اتنے سخت الفاظ کا استعمال درست نہیں ہے اور اسلامی نظام کے تحت لوگوں کی تربیت ہماری ذمہ داری ہے اور اگر اس کے باوجود وہ کوئی اور سوچ اپناتے ہیں تو اس کی وجہ ہماری تنگ نظری اور کمزوری ہوگی۔ سراج حقانی نے افغان عوام میں پنپتے ہوئے خیالات کے حوالے سے کہا کہ صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب طالبان حکومت کے پاس عوام کے سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔

سراج حقانی نے اس رویہ کی طرف بھی عوامی سطح پر کھڑے ہو کر توجہ دلائی کہ ہمیں خود کو مذہب کا ٹھیکیدار نہیں سمجھنا چاہیے اور مذہب پر اجارہ داری جمانے کے رویہ سے اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر ہم طالبان کے نظم حکومت کی جانب توجہ دیں تو اتنی گفتگو کا یوں برملا کرنا غیر معمولی اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔ ابھی کچھ دنوں قبل قطر کے قومی دن کی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیر اعظم شہباز شریف تھے۔ قطر کی پاکستان سے دوستی دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ قطری سفیر جب سے اسلام آباد میں آئے ہیں اس وقت سے بہت محنت سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اور پاکستان کو افغان طالبان سے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے بھی قطر کی اس دوستی کو استعمال کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS