پنجاب میں اسکول مینجمنٹ اصلاحات اور مکالمہ کا فقدان
پنجاب کی حالیہ اسکول مینجمنٹ اصلاحات کے دوران سٹیک ہولڈرز کے درمیان بات چیت کا فقدان واضح نظر آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی انتظامیہ کا 2024 تک تقریباً 13,000 سرکاری اسکولوں کو نجی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے بعد 2025 تک مزید 15,000 اسکولوں کی منتقلی کے منصوبہ ہے۔ لیکن اس عمل کے دوران حکومت اور اساتذہ میں غلط فہمیوں اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جس میں حکومت اور ٹیچرز یونین، دونوں طرف سے ایک دوسرے کے اقدامات کے خلاف رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت اساتذہ یا عوام سے بامعنی مشاورت کے بغیر وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لا رہی ہے، جبکہ اساتذہ کی یونینز اپنے اراکین کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے احتجاج اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے جواب دے رہی ہیں۔ اس متحرک صورت حال نے عمل اور ردعمل کے ایسے سلسلے کو جنم دیا ہے جس میں پنجاب کے تعلیمی نظام کی بنیادی ضروریات مسلسل نظرانداز ہو رہی ہیں۔
پنجاب ایجوکیشن سیکٹر پروگرام (PESP 2 ) کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے، جس میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی حمایت کے لیے برطانیہ سے 426.5 ملین پاؤنڈز شامل ہیں۔ لیکن بات چیت کے باضابطہ پلیٹ فارمز کی عدم موجودگی نے حکومتی اداروں اور اساتذہ کے درمیاں کشیدگی اور غلط فہمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت اصرار کرتی ہے کہ یہ اقدام نجکاری کے بجائے مینجمنٹ اصلاحات کی نمائندگی کرتا ہے اور حکومت تعلیمی معیار کی بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے نجی آپریٹرز کو فی طالب علم ماہانہ 1200 روپے کا وظیفہ دے رہی ہے۔ اس سارے معاملے میں اساتذہ کو خدشات اور سفارشات کی شنوائی کے کے لئے کوئی منظم فورم نہیں بنایا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت اور اساتذہ کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جس سے غلط فہمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور موقف مزید سخت ہوتے جا رہے ہیں۔
موجودہ اساتذہ کی ایسوسی ایشنز میں خواتین کی نمائندگی کا بہت کم ہے۔ حالانکہ خواتین پنجاب کے تدریسی عملے کا ایک اہم حصہ بناتی ہیں، سرکاری اسکولوں میں 56 فیصد اساتذہ خواتین ہیں جبکہ 44 فیصد مرد اساتذہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود خواتین ہیڈ مسٹریس اور اساتذہ کا پالیسی سازی اور تعلیمی منصوبہ بندی کے عمل میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ خلا اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب پنجاب کے تعلیمی اعداد و شمار پر غور کیا جائے جس کے مطابق 15 ملین لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں، اور صرف 45 فیصد طالبات پرائمری تعلیم مکمل کرتی ہیں اور پرائمری کے بعد بہت سے بچیاں سکول چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار تعلیمی اصلاحات کے معاملے میں خواتین معلمین کے کردار کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
اس بات چیت کی کمی کو دور کرنے کے لیے، تعلیمی ماہرین اہم پلیٹ فارمز کے قیام کی سفارش کرتے ہیں۔ ایک باضابطہ فورم ہونا چاہیے جہاں حکومت، اساتذہ، والدین اور طلباء تعلیمی مسائل اور اصلاحات کے نفاذ کے حوالے سے بارے میں بحث و مباحثہ کریں۔ موجودہ یک طرفہ فیصلوں اور احتجاج کے صورت میں ہونے والی صورت حال میں ایسا پلیٹ فارم دونوں طرف کے تحفظات کو دور کرنے، باہمی حل نکالنے، اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے میں کارآمد ہو گا۔
اگر ہم عالمی مثالیں دیکھیں تو ایل سلواڈور اور کولمبیا جیسے ممالک نے تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے کمیونٹی پر مبنی مینجمنٹ اور واؤچر پروگرام کامیابی سے نافذ کیے ہیں۔ تعلیمی اصلاحات کی کامیابی کے لیے کمیونٹی کی شمولیت اہم ہے۔ مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ والدین اور مقامی تنظیموں کو اسکول مینجمنٹ میں شامل کرنے سے بہتر تعلیمی نتائج اور مضبوط کمیونٹی کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اساتذہ، والدین، تعلیمی رہنماؤں اور سرکاری حکام کے درمیان براہ راست گفتگو کا چینل قائم ہوتا ہے جو وقت کی ضرورت بھی ہے۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تعلیم کو پالیسی مباحثوں میں مناسب توجہ ملے۔ ایسا پلیٹ فارم طلباء، والدین اور معلمین کو درپیش منفرد چیلنجوں کو حل کرنے میں مدد کرے گا، جو روایتی یونین مباحثوں میں فی الحال نظر انداز کیے جاتے ہیں۔
پنجاب ایجوکیشن سیکٹر پلان 2019 / 20۔ 2023 / 24 میں بلند اہداف شامل ہیں، جن میں اسکول جانے والے بچوں کا 100 فیصد اندراج اور سکولوں میں ان کی حاضری کو برقرار رکھنا، اور تدریسی اور پڑھانے کے طریقہ کار کو بہتر بنانا شامل ہے۔ پنجاب کی تعلیمی اصلاحات کی کامیابی بڑی حد تک ان پلیٹ فارمز کے قیام پر منحصر ہوگی۔ صوبے میں 27 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جن کو سکولوں میں لائے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ موجودہ ڈیڈ لاک کی صورتحال میں ایک منظم پلیٹ فارم حکومت اور اساتذہ کے درمیان ایک باہمی شراکت داری بن سکتا ہے جو تعلیمی رسائی اور معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
دیگر علاقوں میں کامیاب ہدافیاتی پروگرامز جیسے کہ برطانیہ کی مالی اعانت سے چلنے والا گرلز ایجوکیشن چیلنج (GEC) ، نے دکھایا ہے کہ ایسے پروگرامز لڑکیوں کی تعلیم کو نمایاں طور پر بہتر کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ ایک باضابطہ خاتون ہیڈ ٹیچر نیٹ ورک کا قیام پنجاب میں لڑکیوں کی تعلیم کو نئی بلندیوں پر پہنچا سکتا ہے۔ خواتین معلمین کو پالیسی مباحثوں میں ایک تسلیم شدہ آواز دینا، پنجاب اسکول مینجمنٹ اصلاحات کے فوری چیلنجوں اور لڑکیوں کی معیاری تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کے وسیع تر مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد گار ہو گا۔ یہ نیٹ ورک اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اصلاحات خواتین طلباء اور معلمین کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لائیں جائیں۔
آنے والے مہینے یہ طے کرنے میں اہم ہوں گے کہ آیا پنجاب میں موجودہ تعطل کو دوام ملے گا یا ایک مناسب سمت میں سفر جاری ہو سکے گا۔ حکومتی ادارے، اساتذہ، اور کمیونٹی کے اراکین کے درمیان مناسب مواصلاتی چینلز کا قیام نہ صرف ضروری ہے بلکہ پنجاب کے تمام بچوں کی یکساں مواقع دینے والے تعلیمی نظام کو بھی پنپنا ہو گا۔ تعلیمی اصلاحات میں ٹیکنالوجی کو شامل کرنا موجودہ بات چیت کے فقدان سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کر سکتا ہے۔ جس کی مثال کووڈ۔ 19 جیسے وبائی مرض کے دوران، دنیا بھر کے 94 فیڈر ممالک کا ڈیجیٹل لرننگ پالیسیوں کو لاگو کرنا ہے۔ ان اقدامات کے بغیر، پنجاب میں ایسی اصلاحات کو نافذ کرنا ایک ایسا خلا پیدا کر سکتا ہے جو طلباء اور اساتذہ کی حقیقی ضروریات کو حل کرنے میں ناکام کی صورت میں ظاہر ہو۔


