صوبائی وزیر تعلیم کا دورہ چترال تعلیم یا سیاست


چترال کی خوبصورت وادی میں صوبائی وزیر تعلیم کا حالیہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب علاقے کے عوام تعلیمی معیار کی بہتری کے حوالے سے بے پناہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ دورہ ان توقعات پر پورا اترتا نظر نہیں آیا۔ وزیر موصوف نے چترال کے تعلیمی اداروں کا دورہ کیا، لیکن یہ زیادہ تر ایک رسمی کارروائی معلوم ہوا۔ اس دورے میں ایسے سکولوں کا انتخاب کیا گیا جو پہلے ہی کسی نہ کسی لحاظ سے بہتر حالت میں تھے، جبکہ وہ تعلیمی ادارے جو خستہ حالی کا شکار ہیں، نظر انداز کر دیے گئے۔

ویسے بھی چترال میں معیار تعلیم اور صحت کے شعبے میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک نے ہی کام کیا اور سرکار نے کوئی خاطر خواہ کام نظر نہیں آتے ہیں۔

چترال کے دور دراز علاقوں میں کئی ایسے سکول ہیں جہاں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ان سکولوں میں نہ مناسب کلاس رومز ہیں، نہ فرنیچر، اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کی سہولت۔ اس کے برعکس، وزیر تعلیم نے ان سکولوں کا دورہ کیا جو بہتر فنڈنگ کی وجہ سے پہلے ہی اچھی حالت میں تھے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے دورے کا مقصد کیا تھا؟ کیا یہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے تھا یا صرف سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے؟

جب قیادت غیر سنجیدہ ہو تو اس کا سب سے پہلا اور بڑا اثر تعلیم پر پڑتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیم کو اولین ترجیح نہ دی جائے، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے، ہمارے لیڈران تعلیم کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وزیر تعلیم کا یہ دورہ بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی ترجیحات میں تعلیمی معیار کی بہتری شامل نہیں۔

چترال کے عوام یہ امید کر رہے تھے کہ وزیر تعلیم دورے کے دوران ان مسائل کو اجاگر کریں گے جو سکولوں کی زبوں حالی کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر رکھے اور ایسے اقدامات کرے جو حقیقی معنوں میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہوں۔

وزیر تعلیم کو چاہیے تھا کہ وہ ایسے سکولوں کا دورہ کریں جو سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔
خستہ حال سکولوں کی تعمیر و مرمت کے لیے فوری فنڈز مختص کیے جائیں۔
تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔
عوامی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔
سرپلس اسٹاف پر نظر ثانی

تعلیم ایک قوم کی ترقی کی بنیاد ہے، اور اگر قیادت اس بنیاد کو مضبوط کرنے میں ناکام ہو تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ وزیر تعلیم کا یہ دورہ ایک موقع تھا کہ چترال کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جاتے، لیکن بدقسمتی سے یہ موقع ضائع ہو گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی نمائندے سیاست کو چھوڑ کر تعلیم کو اولین ترجیح دیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکیں۔

Facebook Comments HS