جدید پاکستان کی تعمیر اور سمندر پار پاکستانی طبقہ
بہتر مستقبل، تجارت، روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انسانی ہجرت کا عمل صدیوں یا زمانہ قبل از تاریخ سے جاری ہے۔ آج کی تمام تر علمی و فکری، معاشی و سماجی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی یا ارتقاء کا عمیق تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر قسم کی دنیاوی ترقی کے پس منظر میں کہیں نہ کہیں ”انسانی ہجرت“ کارفرما نظر آتی ہے۔ تہذیبوں کے ارتقاء میں ہجرت نے پولی نیشن کا کردار ادا کیا ہے۔ انسان جنگلوں سے میدانوں میں آیا اور کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنے لگا۔ آخری آئس ایج کے دوران انسان نے پہاڑوں کے غاروں میں پناہ لی اور پھر سے شکار پر گزر اوقات کرنے لگا۔ ویسے تودو لاکھ ساٹھ ہزار سال قبل شروع ہونے والی آئس ایج آج تک جاری ہے۔ بتدریج برف کے خاتمے سے انسان ایک بار پھر میدانوں میں لوٹ آیا اور زراعت اور گلہ بانی میں مصروف عمل ہو گیا۔ اس کے بعد انسان دست کاری اور تجارت سے متعارف ہوا اور دور دراز کے سفر کرنے لگا۔ تاریخ کے اس سفر میں کہیں ریاست کا بھی آغاز ہوتا ہے۔ ہزاروں سال تک انسان پوری دنیا میں آزادی سے نقل و حرکت کرتا رہا۔ ریاستوں کے ارتقاء نے انسانوں کی اس آزادانہ نقل و حمل پر بتدریج پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔ راہداری اور چنگی ٹیکس اسی دور کی یادگاریں ہیں۔
صنعتی انقلاب کے بعد قومی ریاست کے تصور نے جنم لیا جو پہلی جنگ عظیم کے خاتمے تک مضبوط تر ہو گیا۔ قومی ریاست کے وجود نے ویزا اور پاسپورٹ جیسی پابندیاں عائد کر کے انسانوں کی نقل و حرکت پر مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور آنے اور جانے والوں کا ریکارڈ رکھا جانے لگا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد اقوام متحدہ کی تشکیل سے قومی ریاستوں کی حد بندیوں اور عوام کے آنے اور جانے کے عالمی قوانین بنائے گئے اور ان پر عمل درآمد کے لیے دنیا بھر میں ایمبیسی، قونصل خانوں، ہائی کمیشنوں جیسے ادارے بنائے گئے جن کا اولین مقصد ممالک کے مابین عوام کی نقل و حرکت کو ”ریگولیٹ“ کرنا ہے۔ ان اداروں کی بدولت کن ممالک کے کتنے شہری کن کن ممالک میں مقیم ہیں کو شمار کرنا آسان بنا دیا ہے۔
تارکین وطن کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے جس کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ شہری دنیا کے مختلف ممالک میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں نے خاص طور پر خطہ عرب اور یورپ کا رخ کیا۔ 1980 کی دہائی میں سمندر پار پاکستانیوں کے ملکی معاشی و سماجی اور سیاسی معاملات پر اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے۔ پاکستان کے تقریباً تمام شہروں کے گردونواح کے کھیت جہاں کبھی سبزیاں اگا کرتی تھیں بڑے بڑے مکانوں میں تبدیل ہو گئے۔ اس کے بعد تو گویا پورا ملک ہی اسی ڈگر پر چل پڑا۔ زمین اور تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ چونکہ پاکستان میں تعمیراتی مٹیریل کی تیاری اور فروخت پر چند خاندانوں کی ہی اجارہ داری ہے اس لیے ان کے وارے نیارے ہو گئے۔ نئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں وجود میں آتی ہی چلی گئیں اور یہ تقریباً تمام ہی سمندر پار پاکستانیوں کو لوٹنے کے لیے ”محفوظ سرمایہ کاری“ کا سنہری جال پھیلائے مال کما رہی ہیں۔ پہلے کھیت اور اب فیکٹریاں یا انڈسٹری بھی پلاٹوں کی شکل میں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ محفوظ سرمایہ کاری کے نام پر سٹے بازی اور فراڈ کا یہ کھیل اب چند سالوں کا ہی مہمان رہ گیا ہے۔
دنیا کا کوئی بھی انسان اپنا گھر، خاندان یا ملک محض شوق کی بنیاد پر نہیں چھوڑتا۔ معاشی مجبوریوں اور سماجی ناہمواریوں کے سبب ہمارے ہم وطن بھائیوں نے مہاجرت اختیار کی اور دیار غیر کی سختیوں کو برداشت کرتے ہوئے چند روپے کمانے میں کامیاب ہوئے۔ ہمارے سمندر پار پاکستانی جوں جوں مالی آسودگی حاصل کرتے گئے ویسے ہی ان کی دلچسپی ملکی سیاسی معاملات میں بڑھنے لگی جو کہ قدرتی امر ہے۔ ہم تہہ دل سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے یہ بھائی نیک نیتی سے ملکی سیاسی معاملات کو ٹھیک کرنا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔
1980 کی دہائی ہی میں مسلم لیگ (ن) ، مہاجر قومی مومنٹ، پاکستان عوامی تحریک (منہاج القرآن) اور ان کے بعد تحریک انصاف معرض وجود میں آئی۔ اس وقت یہ ملک کی بڑی اور با اثر سیاسی پارٹیاں ہیں۔ ان تمام کے ارتقاء کو اگر غور سے دیکھا جائے ان کی تشکیل میں سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور کاوشوں کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جواباً یہ پارٹیاں سمندر پار پاکستانیوں سے جھوٹے سچے وعدے (ووٹ کا حق وغیرہ) بھی کرتی رہتی ہیں۔
پاکستان میں جاگیردار طبقہ کی سیاسی گرفت اس قدر زیادہ ہے کہ یہ تمام پارٹیاں مل کر اور چاہتے ہوئے بھی سمندر پار پاکستانیوں کے لیے عملی طور پر کوئی با معنی پالیسی، قانون سازی، حقیقی سہولت یا تحفظ فراہم نہیں کر سکتیں۔ مثال کے طور پر سمندر پار پاکستانیوں کو خوش کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے ایک دفعہ چوہدری سرور کو گورنر پنجاب مقرر کر دیا۔ ان کے ”اختیارات“ کا یہ عالم تھا کہ دوران گورنری وہ اپنے بھائی کی زمین پر سے ناجائز قبضہ کو بھی ختم نہ کروا سکے۔ تحریک انصاف کے شہباز گل بڑی مشکلات سہنے کے بعد امریکہ واپس پہنچ سکے۔ اس طرح کی اور بہت سی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ بیس سالوں کے دوران ملکی مین سٹریم میڈیا پر کچھ اس طرح کی بحثیں بھی کی گئیں کہ مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے لوگ ملکی ترقی یا سیاسی نظام کی بہتری میں اہم کردار ادا کر ہی نہیں سکتا اور یہی خواہش اور پالیسی ملکی حکمران اشرافیہ کی بھی ہے کہ یہ بکھرے ہوئے لوگ جن کا تو کوئی آگا پیچھا ہی نہیں ہے مال کما کر پاکستان بھیجتے رہیں اور انہیں تحفے تحائف اور دبئی، لندن اور نیویارک میں پرتپاک استقبالیے دیتے رہیں مگر جونہی حقوق کی بات ہو تو آئیں بائیں شائیں سے کام لیا جائے۔
اپنے ملک کو ترقی نہ دے سکنے والی بات تاریخی تناظر میں بظاہر درست لگتی ہے مگر ماضی قریب کے دو تین بڑے واقعات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین جو کہ زراعت پر انحصار کرنے والا ملک تھا۔ عوامی انقلاب کے بعد وہاں کی حکومت نے سمندر پار چینی باشندوں کو چین میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور ظاہر ہے انہیں اچھے حالات کار بھی مہیا کیے گئے لہذا سمندر پار چینی شہریوں نے ملک میں پلاٹ خریدنے کی بجائے صنعت میں سرمایہ کاری کر کے ملک کو مضبوط معاشی ترقی کی اساس فراہم کر دی اور آج کا چین دنیا کی بڑی طاقتوں کو ٹکر دینے کی پوزیشن میں ہے۔ بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی میں بھی وہاں کے سمندر پار باشندوں کا اہم کردار ہے۔
لفظ Diaspora یا دور انتشار اہل یہود کی تاریخ سے ماخوذ ہے۔ بابل کے بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں یہودی سلطنت کی تباہی اور یہودی شہریوں کو غلام بنا کر دنیا بھر میں بن مول بیچ دیا گیا۔ اس دور ابتلاء کے حالات کو ربی شمعون نے مشہور زمانہ کتاب تالمود میں بڑی تفصیل اور دکھ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہودی عوام کا یہ دور انتشار صدیوں جاری رہا۔ صدیوں کی در در ٹھوکروں کے بعد بالآخر اہل یہود نے سیکھ لیا کہ ان کی بھی ایک مضبوط ریاست ہونی چاہیے۔ یوں 50 سالہ صیہونی تحریک کے بعد آج کے اسرائیل کا قیام ممکن ہوا۔ اسرائیل دنیا میں اچھا کر رہا ہے یا برا یہاں یہ بحث نہیں ہے ہم تو بس اتنا ہی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہودیوں کی طرح کے بکھرے ہوئے لوگ اگر اپنا ملک بنا کر اسے مضبوط بھی کر سکتے ہیں تو اس کے مقابلے میں سمندر پاکستانیوں کا مشن کوئی زیادہ مشکل یا ناقابل عمل نہیں کیونکہ ان کے پاس تو انسانی و مادی وسائل سے بھر پور ایک مضبوط پاکستان تو پہلے سے ہی موجود ہے۔ پاکستان کے اندر خوشحالی کے دائرے کو وسیع کرنا اور سمندر پار پاکستانی طبقہ کے لیے کچھ خصوصی حقوق یا مراعات حاصل کرنا ہی مسئلہ اور ترجیح ہونی چاہیے مگر اس کے لیے ان کو کچھ کام کرنے اور کچھ کام نہیں کرنے ہوں گے۔
پاکستان میں ہر سال لاکھوں معصوم پرندے سردیاں گزارنے یورپی اور وسط ایشیائی ممالک سے ہجرت کر کے آتے ہیں اور ہمارے کچھ ناہنجار بھائی بندوقوں سے ان کا استقبال یا رخصتی کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے احسن عمل مانا جاتا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کو سب سے پہلے اس طرح کی ذہنیت کو سمجھنا اور اس سے ہوشیار باش ہونا ہو گا۔ اپنی ضرورت کے مطابق سادہ گھروں کی تعمیر کریں اور سنگ مر مر یا دوسری قیمتی ٹائلوں کے استعمال کو کسی اور وقت و مقام کے لیے موخر کر دیں۔
یہ بات بھی ہمارے مشاہدے میں ہے کہ ہمارے سمندر پار بھائی ذہنی طور پر ہمہ وقت جہاز پر ہی سوار رہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہمارا مشاہدہ غلط ہو اس کے لیے پیشگی معذرت مگر ہواؤں کے دوش پر انسان زمینی حقائق کی باریک بینی سے محروم ہو جاتا ہے اس ضمن میں ہم اتنا ہی عرض کر سکتے ہیں کہ انہیں اپنی رفتار میں ٹھہراؤ لا کر سکون کے ساتھ کسی بھی صورتحال کا جائزہ لے کر نبٹنا چاہیے۔
اپنی جمع شدہ پونجی کو بینکوں میں ”فکس کرانے“ ، یا رئیل اسٹیٹ میں ”انویسٹ“ کرنے کی بجائے زراعت، توانائی، صنعت و تجارت و حرفت میں سرمایہ کاری کریں اس سے نہ صرف لگانے والوں کو زیادہ منافع ملے گا بلکہ روزگار، قومی آمدنی، ملکی وسائل اور برآمدات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
آج کل ملکی میڈیا میں بہت چرچے ہیں کہ امریکی سمندر پار پاکستانیوں نے صدر جناب ٹرمپ کی الیکشن مہم میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور لابنگ کر کے جناب ٹرمپ سے پاکستان میں انسانی و جمہوری حقوق کے تحفظ کا وعدہ کامیابی سے لے لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم کرے۔ اس مبینہ لابنگ کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ہمارے سمندر پار بھائی کس قدر معصوم اور حسن ظن رکھتے ہیں۔ جناب ٹرمپ فتح کا جشن منانے کے بعد بھول بھی چکے ہوں گے کہ کون پنچھی، کیسا صیاد اور کہاں کا قفس۔ ویسے بھی جناب ٹرمپ انسانی و جمہوری حقوق سے چڑ کھاتے ہیں اور بقول فیض شیشوں کی مسیحائی نہیں ہو سکتی۔
ہماری تمام سمندر پار بھائیوں سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کے اور عالمی سیاسی معاملات کو باریکی سے سمجھ کر درست لیڈر شپ کے چناؤ کا فیصلہ کریں۔ الطاف بھائی نے ہزاروں معصوم شہریوں کو ہیں سے ”تھے“ کیا بعد میں خود بھی ”تھے“ ہو گئے۔ سیاسی طور پر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پاؤں کی زمین ابھی معمولی سی گرم ہوئی تھی کہ وہ تو شکر ہے کہ کینیڈا سے آگے کوئی ملک ہی نہیں ورنہ ان کی پرواز ہجرت مزید طویل ہو سکتی تھی۔ میاں نواز شریف کو ہمیشہ آخری وقت پر ان کی شرافت اور عاجزی نے بچایا۔ خان صاحب سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینے کے لیے مشینیں درآمد کرنے کی خواہش دل میں لیے اب اڈیالہ میں سائیکل چلاتے ہیں۔ جیل انتظامیہ مرمت کے بہانے اس ورزشی سائیکل کو بھی کئی کئی دن تک غائب کر دیتی ہے۔ ہمارا غالب گمان ہے کسی دن اس سائیکل کی بازیابی کے لیے امریکہ یا چین کے صدر کو فون کرنا پڑ سکتا ہے۔
کالم کے آخر پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان مذکورہ لیڈاران پر مصائب کوئی سمندر پار پاکستانیوں سے الفت یا ان کے حقوق کی جدوجہد کی پاداش میں نہیں ٹوٹے۔ ہم ذاتی طور پر ان کی ہر دن کی سیاست کے چشم دید گواہ ہیں مجال ہے کہ انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق یا عام شہریوں کے حقوق کے لیے تنکا بھی توڑا ہو۔ ان کی اپنی غلط سوچ ہی اس انجام کے لیے کافی ہے۔ اور ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ ریاست نے انہیں اس حال تک پہنچایا ہے۔ یہ مذکورہ لیڈران ہر وقت ریاست کا گلہ و شکوہ کرتے پائے جاتے ہیں حالانکہ انہیں ریاست کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے ابھی تک ان کا پردہ رکھا ہوا ہے۔


