جامعہ پنجاب میں طلبہ تصادم کیوں ہوا؟


جامعہ پنجاب نے شاید ہی کسی کو اپنے دامن میں جگہ نہ دی ہو، مولا پاک نے اس یونیورسٹی کو ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے انتہائی وسعت سے نوازا ہے۔ یہاں سے بہتی نہر، ہاسٹلز، جا بجا پھیلے سبزہ زار، ماس کام ڈیپارٹمنٹ اور سینٹر فار ساوتھ ایشین سٹڈیز نے ہمیں چھ برس تک برداشت کیا۔ بعد میں دو تین سال ہم نے جرنلزم کے طالب علموں کو وہ سب سکھانے کی کوشش کی جو ہمیں نہ سکھایا گیا۔ جامعہ کی مٹی سے ایک بے لوث سی محبت ہے، عقل سے پوچھئے تو اس کی کئی ایک وجوہات ہیں، اور دل سے پوچھئے تو جامعہ سے عشق بغیر کسی وجہ سے ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس مادر علمی میں جب بھی کوئی حادثہ پیش آیا، ہمیں تکلیف ہوئی، شدید رنج ہوا۔ ابھی چند روز پہلے بھی کچھ ایسی ہی صورت حال تھی، ٹی وی سکرینوں پر مار دھاڑ اور غنڈہ گردی کے مناظر دکھائے جا رہے تھے، طلبہ کے دو گروہ گتھم گھتا تھے، ڈنڈے سوٹے، پتھر، جس کے ہاتھ جو آیا سب چلا۔ گویا جامعہ میں حیوانیت امڈ آئی ہو۔

متضاد دعوے اور ایک دوسرے پر الزامات ایسے واقعات کے بعد عمومی کارروائی کا درجہ رکھتے ہیں، سبکی البتہ ہو چکی تھی کیونکہ جامعہ کے ماتھے پر ایک اور داغ لگ چکا تھا۔ کیونکہ جمعیت اور پشتون ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ کے طالب علموں کا پھڈا قومی منظر نامے پر ایک اہم خبر بن چکا تھا۔ جامعہ داخل ہوئے تو عجب صورت حال دیکھنے کو ملی، یعنی سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے، حتیٰ کہ واٹر کینن بھی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کسی بھی ہنگامے سے نمنٹے کو تیار تھی۔ طلبہ کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے، اساتذہ بند کمروں میں ایک دوسرے کے کانوں میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ جامعہ کی بس سروس بند تھی، چوبیس مارچ کی چھٹی کر دی گئی، چار اپریل کو ہونے والا عہد ساز کتاب میلہ بھی ملتوی ہو چکا تھا۔ حکومتی وزرا بیان بازی کر رہے تھے، سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز، وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر اور پروفیسر زکریا زاکر کے ہمراہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے لائحہ عمل طے کرنے میں مصروف تھے۔ ڈاکٹر ظفر معین ناصر بظاہر خاصے پڑھے لکھے، بھلے اور اجلے کردار کے منتطم معلوم ہوئے۔ ان سے مختصر ملاقات کے بعد سوچا فریقین اور بالخصوص متاثرین یعنی زخمی طلبہ سے ملاقات کی جائے۔ سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے ماس کام تک اور سترہ نمبر ہاسٹل سے ایک نمبر تک، جہاں سے گزر ہوا، ناسٹیلجیا کی سنگت رہی۔

مدعا یہ تھا کہ جامعہ میں موجود پشتون اور بلوچ طلبہ نے کلچرل ڈے کا اہتمام کر رکھا تھا، جس کی اجازت انتظامیہ پہلے ہی سے دے چکی تھی، تشہیر جاری تھی کہ جمعیت کے دوستوں نے بھی عزم پاکستان ریلی اور اس سلسلے میں ایک تصویری نمائش کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ کلچرل ڈے منانے والوں کے بقول جمیعت نے یہ ایونٹ اچانک پلان کیا اور اس کا مقصد کلچرل ڈے کو سبوتاژ کرنا تھا۔ بہر حال، اس روز فیصل آڈیٹوریم کے سامنے کلچرل ڈے کے اسٹالز سج گئے، صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن رضا علی گیلانی بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے آن پہنچے، علاقائی موسیقی کی دھنوں پر لوک رقص کیا جا رہا تھا، مقابلے میں جمیعت کے اسٹالز پر ترانے بجائے جا رہے تھے۔ صورت حال یوں تھی کہ ترانے کانوں میں سنائی دے رہے تھے اور نہ علاقائی دھنوں کی بولیاں ۔ جمیعت کے دوست حیرت انگیز طور پرتعداد میں کم تھے، فریقین پہلے ہی سے ذہنی طور پر کسی بڑے پھڈے کے لئے تیار تھے، دو نک چڑھی ہمسائیوں کی مانند دونوں اطراف کے طلبہ ایک دوسرے پر جملے کس رہے تھے کہ اچانک کشیدگی بڑھ گئی، اچانک جمعیت کے کیمپ سے ایک طالب علم (جو خود بھی پختون تھا) ڈنڈا اٹھائے مخالف کیمپ پر حملہ آور ہوا اور پھر علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ کلچرل ڈے منانے والوں نے بھی بہیمانہ طریقے سے ہاتھ سیدھے کئے۔ ایک ویڈیو میں تو اِن کے کئی ڈنڈا بردار جمعیت کے ایک نوجوان پر پل پڑے اور اسے مار مارکر ادھ موا کر دیا۔ ایک اور ویڈیو میں سندھی اجرک میں ملبوس ایک طالب علم جماعتی تشدد سے زمین پر بے ہوش پڑا ہے جسے چند غیر جماعتیے دوست پانی پلانے کی کوشش کر تے دکھائی دے رہے ہیں۔ شعبہ فلسفہ میں جمیعت کے زیر اہتمام طلبہ کے لئے ایک اور پروگرام جاری تھا جہاں محترمہ سمیعہ راحیل قاضی بھی مدعو تھیں۔ کہا گیا کہ کلچرل ڈے منانے والوں نے خواتین کی اس محفل پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ پولیس بلانا پڑی۔ پھر پولیس ڈنڈا برداروں پر پل پڑی۔ اور یوں جامعہ اکھاڑا بن گئی۔ دونوں اطراف درجنوں طالب علم زخمی ہوئے، کسی کی ہڈی ٹوٹی تو کسی کا دانت، کسی کا سر پھٹا تو کسی کی ٹانگ۔ جامعہ لہولہان تھی۔ ٹی وی پر انواع و قسام کے رنگین اور غمگین تبصرے پیش کئے گئے، رپورٹرز نے اپنی اپنی دانست کے مطابق وقوعہ رپورٹ کیا۔ دانشوروں نے اپنی اپنی نظریاتی وابستگی کے اعتبار سے دانشوری جھاڑی۔ انتظامیہ کو اپنی جان کے لالے پڑے رہے۔ پولیس کو امن و امان کی پڑی رہی۔ لیکن مار کھانے والوں کو کسی نے نہ پوچھا کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ناظرین اور قارئین نے پوچھا اصل مدعا کیا تھا؟ قصوروار کون ہے؟ کوئی تو بتلائے؟

تو حقائق بتلاتے ہیں کہ جمعیت کے دوستوں نے عزم پاکستان نامی پروگرام کا انعقاد انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کیا۔ اور یہی سب سے بنیادی اور بڑی غلطی ہے۔ استفسار پر جمیعت کے دوست کہنے لگے کہ نہیں، ہم نے تو اجازت لے رکھی تھی، پوچھا، کوئی ثبوت؟ کہا: ہاں، ثبوت آفس میں رہ گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے البتہ اس دعوے کی صریحاً نفی کی اور یہی حقیقت ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جب دو دھڑے ایک سڑک پر کیمپ لگائے بیٹھ چکے تھے تو انتظامیہ نے صورت حال کو ‘ انڈر ایسٹی میٹ’ کیوں کیا؟ اور پھر اس تصادم کی ایک اور اہم وجہ اسلامک سنٹر کا وہ طالب علم ہے جس نے (بظاہر انفرادی طور پر) جمیعت کیمپ کی جانب سے ڈنڈا لہراتے ہوئے کلچرل ڈے منانے والوں پر حملہ کیا۔ اور اس کا عینی شاہد وہ کیمرہ ہے جس نے یہ مناظر ریکارڈ کر لئے۔ سی سی ٹی وی کی یہ فوٹیج انتظامیہ اور پولیس کے پاس موجود ہے جس کی مدد سے ذمہ داران کا تعین کیا جا رہا ہے۔ کس نے کسے کتنا مارا؟ کون کتنا مظلوم اور مغموم ہے؟ یہ کہانی اس صورت حال میں اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکی۔ اس تصادم کو نادان دوستوں نے لسانی رنگ دینے کی بھی بھونڈی کوشش کی۔ حضرت! دیگر صوبوں سے آنے والے طالب علم ہمارے اپنے ہیں اور اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے آپ جناب! اپنوں کے ساتھ محبت کی جاتی ہے مقابلہ نہیں۔ لیکن قبلہ لیاقت بلوچ اسی روز ایک ٹی وی پر فرما رہے تھے کہ جب رقص ہوگا تو معاملات خرابی کی طرف جائیں گے۔ حضور! اِنج نہ کرو پلیز! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اصل مسئلہ آپ کی اپنی ‘لائن لینتھ’ میں ہے۔ جامعہ میں کبھی کسی دوسری طلبہ تنظیم کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اور ایسا کیوں ہوتا ہے آپ سے بہتر بھلا کسے معلوم؟

 قصہ مختصر وہی ہے جس کا اظہار اگلے روز ٹی وی پر بھی کیا؛ جامعہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے، کبھی کسی مائی کے لعل میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ جمعیت کے کسی پروگرام پر حملہ آور ہونے کا سوچے بھی، حملہ کرنا تو دور کی بات ہے۔ جمیعت کے دوست انیس سو چورانوے میں پیش آئے ایک افسوسناک واقعے کا حوالہ دے کر اس سوال کا جواب دینے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں جس میں آئی ایس او نامی تنظیم نے ایس ٹی سی میں جمعیت پر حملہ کیا تھا۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ گذشتہ بائیس برسوں کے دوران جامعہ میں لڑائی جھگڑے کے ایسے بائیس ہزار سے زائد واقعات پیش آئے، لگ بھگ چار ہزار افراد زخمی ہوئے۔ ان واقعات سے جمیعت کا کس قدر تعلق رہا، یہ یقیناً مسئلہ فیثا غورث ہے۔

گمراہی کا مجھے نہ دے الزام

تجھ کو پہنچانتا رہا ہوں میں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 60 posts and counting.See all posts by ajmal-jami