باکمال پل اور با کمال لوگ



مجھے روزانہ ملازمت کے سلسلے میں ایک پل پر سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مالاکنڈ روڈ کے ایسٹرن سائڈ رینگ روڈ مردان کے کلپانی ندی کے اوپر واقع ہے۔ اگر چہ مجھے پل کے تاریخی پس منظر کے بارے میں زیادہ علم نہیں، مگر کئی حوالوں سے میں نے اس پل کو کافی باکمال پایا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں قارئین کے ساتھ اپنے مشاہدات اور احساسات شیئر کروں!

اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ معاش کا ہے اور ملک کئی عشروں سے معاشی بدحالی کا شکار ہے، معاشی بدحالی سے چھٹکارا پانے کے لیے نت نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ یہ پل اس حوالے سے کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس پل میں معیشت کی بہتری کے بہت سا رے اشارے ملتے ہیں اور یہ امید کی ایک نئی کرن ہے کہ یہ پل بیک وقت بالواسطہ یا بلاواسطہ سینکڑوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف خوشی کی بات یہ ہے کہ اس سے بلا جنسی تفریق کے خواتین و حضرات یکساں مستفید ہو رہے ہیں۔

یہاں اپ کو مختلف کاروباری شخصیات نظر آتی ہیں، یعنی دس بارہ افراد بیک وقت کسی نہ کسی صورت میں مثلاً بھیک مانگنے، چندہ اکٹھا کرنے، دکانداری کرنے وغیرہ میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ اسی طرح پل کے مشرقی سائیڈ پر آپ کو ایک بسکٹ سٹال بھی نظر اتا ہے۔ اس کے علاوہ پل میں موجود بڑے بڑے سوراخ اور کھڈے ہر قسم کی چھوٹی بڑی گاڑیوں میں ہر صنعت سے وابستہ مثلاً ٹائر، ٹیوب، گاڑی کا حصہ، ایکسل وغیرہ میں مرمت کا کام پیدا کر کے تمام صنعتوں کے پہیے گھمانے کا ذریعہ بھی ہیں۔

سچ بتاؤں تو یہ ہڈی و پٹھا کے ڈاکٹر حضرات کے لیے بھی کسی رحمت سے کم نہیں، کیونکہ آئے روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا رہتا ہے جس سے ان لوگوں کے کاروبار کی رونقیں بڑھانے میں بھی اسی پل کا عمل دخل ہے۔ بات تو کبھی کبھار اس سے بھی اگے بڑھ جاتی ہے جب یہاں پر موجود ایک ماہر بھکاری لوگوں کو براہ راست انٹرٹینمنٹ بھی مہیا کرتا ہے کیونکہ وہ بارات کی گاڑی کو روک کر ناچنا شروع کر کے لوگوں سے پیسے اور داد دونوں وصول کرتا رہتا ہے۔

مختصراً کلپانی ندی کا یہ پل نہ صرف انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کو ایک مضبوط سہارا بھی فراہم کرتا آ رہا ہے۔ پل کے مختلف حصوں میں موجود خالی جگہوں کو کور کرنے کے لیے ہمارے انجنیئرز مختلف طریقے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ہم اپنے علاقے تور پل درگئی مالاکنڈ میں اس طرح کے تجربات سے گزرتے آئے ہیں کیونکہ ہمارے گھر کے نزدیک اسی طرح کے ایک پل کے گیپ کو لوہے کی پٹیوں سے بند کر دے گئے تھے جس پر بڑی گاڑیوں کی گزر سے جو دھماکہ خیز آوازیں آتی تھیں تو ہمارا سارا گھر چونکہ ساری رات جاگتا رہتا تھا اس لیے رات کے وقت ہم ہر قسم کے چوروں سے محفوظ رہے ہیں، ساتھ ہی اس پل کی وجہ سے جاگ کر ہمارے بچے ساری رات پڑھنے میں مصروف رہتے۔

اس کا کریڈٹ بھی ہم اپنے انجنیئرز کو دیتے ہیں۔ چلو پل کی کمالات کی بات تو کسی حد تک ہو گئی مگر ان کمالات کی وجہ جاننا بھی ضروری ہے۔ سائنسی قوانین کے مطابق ایک لمبے پل کے الگ الگ حصوں کو ملا کر اسے بنایا جاتا ہے اور پل کے دو حصوں کے درمیان جو خالی جگہ ہوتی ہے جس کو مختلف طریقوں سے کور کیا جاتا ہے، بدقسمتی سے یا تو ہمارے نصاب میں شاید اس خالی جگہ کو کور کرنے کے لیے مناسب مواد موجود نہیں یا ہمارے انجنیئرز بھائی اس طرف جان بوجھ کر توجہ نہیں دیتے تاکہ معیشت کا پہیہ اس طرح گھومتا رہے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں۔

جہاں تک پل میں موجود سوراخوں کا تعلق ہے یا خالی جگہوں کی بات ہے تو یہ صرف اس پل میں نہیں بلکہ پاکستان میں بہت سارے پلوں میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے اور اس سے ہمارا ہر قسم کا کاروبار اور روزگار رواں دواں ہے۔ اگر اسی طرح دیگر پلوں کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو میرے خیال میں نہ صرف بے روزگاری پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستانی صنعتی ترقی میں انقلاب لا سکتے ہیں۔

ان تمام حقائق کے باوجود ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ من حیث القوم ہم ہر حوالے سے اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمیں نہ اپنی قومی تباہی کی فکر ہے اور نہ اپنی انفرادی احساس ذمہ داری کا غم۔

Facebook Comments HS

One thought on “باکمال پل اور با کمال لوگ

  • 29/12/2024 at 10:08 صبح
    Permalink

    18 ویں ترمیم کے بعد یہ پل پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا۔ ٹریفک اور سڑک دونوں صوبائی مسئلے میں شمار ہوتے ہیں یعنی صوبے کی ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.