اردو میڈیم (2)
ڈی ای او پرائمری اسکول کے ایام میں ایک عجیب اور متجسس مخلوق ہوتی تھی جس کی ہیئت ہمارے چھوٹے سے دماغ میں کبھی نہ سما سکی۔ اس کے بارے میں جتنے منہ اتنی باتیں والا نظریہ بالکل درست تھا کیونکہ مہینے میں یا سال میں دو ایک بار یہ کہہ کر ڈرایا جاتا تھا کہ آج ڈی ای او نے آنا ہے اور پورے اسکول میں ہُو کا عالم ہوتا تھا۔ اسکول میں صفائی کروائی جاتی اور بسا اوقات چونا بھی پھنکوایا جاتا، تفریح بند کر دی جاتی اور چھٹی بھی تاخیر سے ہوتی مگر جن کے احترام میں یہ سب کیا جاتا ان کے کبھی درشن نہ ہو پائے۔
لہٰذا ان کی پُر اسرار شخصیت کے بارے میں دلچسپی اور بھی بڑھتی گئی کیونکہ ان دنوں چور اور ڈی ای او دونوں کو ہم انسان نہیں سمجھتے تھے (اس وقت ہم سیاستدانوں سے نا آشنا تھے وگرنہ اس کیٹیگری میں ان کا درجہ بالا ہے ) ۔ ہمارے نزدیک یہ کوئی اور ہی مخلوق تھی جن کو ہم نے کبھی دیکھا نہ تھا، بس سوچ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے کہ دونوں ہی سننے میں بہت خطرناک اور آتنک وادی معلوم ہوتے تھے۔ ان دنوں شاید کوئی عورت اس عہدے ڈی ای او پہ براجمان تھیں جس کے سبب یہ بات مشہور ہو گئی کہ ان کے ناخن بہت بڑے بڑے ہیں اور جو بچہ گندے کپڑوں میں ملبوس ہو گا اس کا چہرہ نوچ ڈالے گی لہٰذا جتنی دعائیں اور بد دعائیں ہمیں یاد پڑتی ہم پڑھ ڈالتے کہ اللہ اس بلا سے ہمیں محفوظ رکھ۔ اب پتا نہیں ہماری دعا پُراثر تھی یا ڈی ای او کی آمد کی خبر جھوٹ پہ مبنی یہ معمہ کبھی حل نہ ہوسکا۔ خیر رخ کرتے ہیں کلاس روم کا (روم بس اصطلاحاً لکھا ہے کیونکہ ہماری بس کلاس تھی جو خانہ بدوشوں یا دل پھینک عاشقوں کے مصداق کبھی اس پھول پر کبھی اس پھول پر، روم تو سرے سے تھا ہی نہیں ) جہاں میرے ہم جماعت محمد شریف (ایک انتہائی محنتی اور شاندار انسان) صاحب سے ہمارا تختی لکھنے کا مقابلہ ہوتا تھا۔ تب تختی لکھنا دن میں دو بار فرض تھا مگر ہم دن میں تین بار تختی لکھتے تھے۔ شریف کی لکھائی بہت اچھی تھی اور اس کا قلم بنانے کا ہنر بھی ہم سے بہتر تھا لہٰذا ہم اس سے درخواست کرتے کہ اپنا قلم یا ایسا قلم ہمیں بھی بنا کے دے مگر مقابلہ ایسا تھا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی انکار ہی کرتا اور اگر کبھی کبھار سخی مزاج غالب آتا تو ایک آدھ قلم وہ دان کر دیتا جو کسی تحفے سے کم نہ ہوتا۔
تفریح کے فوراً بعد املا کی مشق ہوتی تھی (جو آج بھی ہمارے کام آ رہی) اور پھر چھٹی سے کوئی آدھ گھنٹہ پہلے پہاڑوں اور گنتی کی مشق جس کا سلسلہ چھٹی کی گھنٹی کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا۔ پہاڑوں اور گنتی کی مشق باآواز بلند پنجابی میں ہی ہوتی تھی اور اس میں بھی مقابلے کا سا سماں ہوتا تھا۔ ایک جماعت کے بچے دوسری جماعت کے روبرو کھڑے ہوتے اور اپنے حریف کو شکست دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے۔ باقاعدہ پیچھے جھک کے اور پھر پنجوں کے بل آگے آ کے پوُرے زور سے آ واز نکالتے ”اک دُونی دُونی دو دُونی چار“ اس دوران اگر کوئی بچہ شرارت کرتا یا مطلوبہ آواز نکالنے میں ناکام رہتا تو استاد محترم تُوت کی سوٹی لیے اس کی حجامت کرتے۔
پورے اسکول کا نظام ایک یا دو استاد ہی دیکھتے تھے کیونکہ تب استاد ایک نایاب چیز تھی۔ سبھی اساتذہ قابل احترام ہیں مگر استاد رشید (ماسٹر رشید) صاحب کا کردار قابل ذکر ہے۔ رشید صاحب دھیمے مزاج، خوبصورت شخصیت کے مالک اور بہت ہی زبردست استاد ہیں۔ ان کی خاص بات تھی مارنے اور چپ کروانے کا انداز۔ عام اساتذہ کی طرح وہ ہاتھ یا بازوؤں کا نشانہ نہیں لیتے تھے بلکہ تشریف کو لال کرنے کا عندیہ دیتے تھے۔ جس بچے کو مارنا مقصود ہوتا اس کا ایک بازو اپنی گرفت میں لے کسوٹی کو اتنی زور سے لہراتے تھے کہ ادھر سوٹی نیچے آتی اور اُدھر بچے کی چیخ آسماں پہ۔
اور وہ سوٹی تشریف اور قمیض کو چھُوتی ہوئی گزر جاتی۔ دیکھنے میں یہی تاثر جاتا کہ بہت زوروں کی کُٹ چل رہی مگر وہ اصل میں ہمارے کپڑے جھاڑ رہے ہوتے تھے۔ اور ہم سوچتے تھے کہ استاد کو پتا نہیں چلا کہ ہمیں تو کچھ ہوا ہی نہیں مگر شاید ان کے نزدیک مارنے سے زیادہ ڈرانا اہم تھا۔ جب مرمت سے فارغ ہوتے تو ہنسانے کا بھی پُورا انتظام کرتے کہ کوئی بھی بچہ روتا ہوا گھر نہ جائے۔ جس کے لیے وہ مزاحیہ باتیں سُناتے، خاموش تالی اور بغیر آواز کے ہنسنے کی مشق کرواتے۔ استاد محترم ہی وہ ہستی ہیں جن کو میرے اندر ایک وکیل نظر آتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ میں وکیل بنوں مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا البتہ جو لوگ مجھے جانتے ہیں ان کو اس بات کا اندازہ ہے کہ عملی طور پہ میں ایک پکا وکیل ہوں جو کسی طور بحث نہیں ہارتا۔ (جاری ہے )


