اردو میڈیم، قسط چہارم

جب ہم پانچویں جماعت اور اپنے اسکول کے فائنل ائر میں پہنچے تو بورڈ کے تحت لیے جانے والے امتحان کا طریقہ بدل دیا گیا۔ اللہ جانے ایسا کیوں کیا مشرف گورنمنٹ نے مگر اب کے ہمیں پانچ کے پانچ پرچے ایک ہی دن میں دینے تھے۔ اور ظلم یہ کہ ہمارا فیورٹ سینٹر ”گورنمنٹ ماڈل اسکول قلعہ سوندھا سنگھ“ بھی بدل دیا گیا۔ چونکہ 100 نمبر کا ایک ہی پرچہ ہونا تھا لہٰذا سب مضامین کی چیدہ چیدہ تیاری

Read more

اردو میڈیم (3)

پنجاب ایجوکیشن کمیشن کے تحت پانچویں جماعت کے بچے بورڈ کے امتحان سے گزرتے ہیں۔ جو کہ پہلا چیک ہوتا ہے آپ کی پانچ سالہ تعلیمی کارکردگی کو جانچنے کا۔ آج کل تو اس امتحان کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو پہلے دور میں دی جاتی رہی ہے۔ تب یہ امتحان میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی طرح بچوں کے اعصاب پہ سوار ہوتا تھا اور ناکامی کی صورت میں بدنامی کا ڈر برابر رہتا تھا۔ لہٰذا اس کو پاس کرنے

Read more

اردو میڈیم (2)

ڈی ای او پرائمری اسکول کے ایام میں ایک عجیب اور متجسس مخلوق ہوتی تھی جس کی ہیئت ہمارے چھوٹے سے دماغ میں کبھی نہ سما سکی۔ اس کے بارے میں جتنے منہ اتنی باتیں والا نظریہ بالکل درست تھا کیونکہ مہینے میں یا سال میں دو ایک بار یہ کہہ کر ڈرایا جاتا تھا کہ آج ڈی ای او نے آنا ہے اور پورے اسکول میں ہُو کا عالم ہوتا تھا۔ اسکول میں صفائی کروائی جاتی اور بسا اوقات

Read more

اردو میڈیم (1)

جب میرے جیسے بچے اس فرسودہ اور پیچیدہ نظام کو شکست دے کر زندگی کے سفر میں کچھ بن جاتے ہیں یا بننے کے درپے ہوتے ہیں تو یقیناً پیچھے مُڑ کے دیکھنے اور اپنے ماضی کو یاد کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ بہت سے وہ مقام اور موڑ رہ رہ کے یاد آتے ہیں جہاں ہار جانے کے بہت چانس تھے مگر آپ کو آفاقی قوت اور اپنوں کی دعاؤں نے گرنے نہیں دیا ہوتا۔ میری کہانی پڑھ

Read more