ٹنلز بناؤ زندگی بچاؤ


بلتستان اپنی خوبصورتی اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے دنیا کے چند مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں کی خوبصورتی، یہاں کے پہاڑ، یہاں کی ثقافت، یہاں کی تہذیب و معاشرت اور طرز زندگی دوسری اقوام سے منفرد بھی ہے اور دلفریب بھی لہذا دنیا بھر میں بلتستان کی پہچان بننے کی ایک وجہ یہاں کی تہذیب یعنی امن پسندی بھی ہے۔ بلتستان کو پاکستان سے ملانے والی دو سڑکیں قابل ذکر ہیں پہلی سڑک اسکردو جگلوٹ والی سڑک اور دوسری دیوسائی والی سڑک۔

دیوسائی والی سڑک گرمیوں میں ہی کھلتی ہے لہذا سردیوں میں اس سڑک سے پاکستان جانا ممکن نہیں۔ رہی اسکردو جگلوٹ والی سڑک تو یہ اکلوتی سڑک ہے جو اسکردو کو پاکستان سے ملاتی ہے۔ ابتدائی میں یہ سڑک بہت تنگ اور پر خطر سڑک تھی۔ اس چھوٹی سی سڑک میں کئی مقامات ایسے بھی آتے تھے جہاں سے ایک وقت میں ایک ہی گاڑی گزر سکتی تھی۔ اسی تنگ سڑک کی وجہ سے لوگ بلتستان کی سیر کو جانے سے کتراتے تھے۔ اس سڑک پر سفر کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے مترادف سمجھا جاتا تھا لہذا لوگ بوقت مجبوری سفر کرتے تھے۔

اس زمانے میں سڑک چھوٹی تھی اور اسی وجہ سے ماہر ڈرائیور ہی گاڑیاں چلاتے تھے۔ جس وجہ سے خطرناک سڑک ہونے کے باوجود حادثات کم ہوتے تھے۔ اس تنگ اور چھوٹی سڑک پر اس زمانے میں بڑے حادثات کم ہی پیش آئے مگر پھر بھی لوگوں کے دلوں سے ڈر نہیں جاتا تھا۔ اسی ڈر کو پیش نظر رکھ کر بلتستان کے عوام نے ہر آنے والی حکومت سے اس سڑک کو روڈ میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ کئی سالوں کے مطالبے کے بعد کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔

اور اس تنگ سڑک کو روڈ بنانے کی منظوری حکومت پاکستان نے دے دی۔ ٹینڈر ہونے کے بعد ایک بڑا مسئلہ ٹھیکے پر دینے والے معاملے میں آیا کہ کس کمپنی کو دیا جائے۔ اس معاملے میں چائنہ کی ایک انٹرنیشنل کمپنی اور ایف ڈبلیو او کے درمیان کشمکش جاری رہی۔ بلتستان کے عوام چاہتے تھے کہ اس روڈ کا ٹھیکا چائنیز کمپنی کو ملے کیونکہ ان کا ماننا تھا چائنہ بے دین ہے لیکن انسان دوست بھی ہے لہذا وہ انسانوں کی حفاظت کو پیش نظر رکھ کر روڈ بنانے پر ایمان رکھتا ہے۔ جبکہ حکومت پاکستان اپنی بے بسی کے آگے بے بس تھی لہذا ایف ڈبلیو او کی حمایت اور مرضی سے یہ ٹھیکا انہی کو مل گیا۔

ٹھیکا ایف ڈبلیو او کو ملنے پر بلتستان کے عوام نے تشویش کا اظہار کیا اس پر پاکستانی فوج کے افسران نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس روڈ کو ہر صورت میں محفوظ روڈ بنائیں گے اور جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات ہوں وہاں ٹنلز بنائیں گے۔ بارہا یقین دلانے پر بلتستان کے عوام مطمئن ہو گئے اور ایف ڈبلیو او پر ضرورت سے زیادہ یقین کر کے خواب خرگوش سو گئے مگر۔

جب بلتستان کے عوام کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا روڈ بن چکا ہے مگر ٹنلز غائب۔ لوگوں کی نظریں ٹنلز کو ڈھونڈتی رہ گئیں مگر ٹنلز ندارد۔ اس سرپرائز پر عوام پریشان ہو گئے مگر بے بس عوام کر بھی کیا سکتے تھے۔ سڑک کی کشادگی دیکھ کر خود کو تسلی دے رہے تھے کہ اتنے کشادہ روڈ بن تو گیا ہے اگر ٹنلز نہیں بنائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن فرق اس دن سے پڑنا شروع ہو گیا جب پہلی بارش میں ہی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ایک گاڑی ملبے تلے تب گئی اور پانچ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

یہ ایف ڈبلیو او کی جانب سے بلتستان کے عوام کے لیے افتتاحی تحفہ تھا جو لاشوں کی صورت میں دیا گیا۔ اس پہلے حادثے پر عوام غم و غصے کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن پھر بھی امید ظاہر کر رہے تھے کہ آئندہ ایسے حادثات پیش نہیں آئیں گے۔ مگر ان کی امیدوں پر اس دن پانی پھیر گیا جس دن نہ بارش ہو رہی تھی، نہ موسم خراب تھا بس ایسے ہی گاڑیاں چل رہی تھی اور اوپر سے بڑے بڑے پتھر گر رہے تھے، لوگ مر رہے تھے اور وہ بھی وقت بے وقت مر رہے تھے۔

اب جب لوگوں نے بغور جائزہ لینا شروع کیا تو معلوم ہوا ایف ڈبلیو او نے اس تنگ اور چھوٹی سی سڑک کو کشادہ روڈ بنانے کے ساتھ ساتھ موت کا کنواں بھی بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے مفادات کے لیے روڈ کو اس نقشے پر بنایا ہے جہاں موت سب کی قسمت ہوگی۔ اس نئے بننے والے روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ سے اموات اور گاڑیوں کے حادثات معمول بن چکے۔ اب اس روڈ پر سیاحوں کی، بلتستان کے عوام کی کسی کی بھی جان محظوظ نہیں۔ بلکہ اسکردو جگلوٹ روڈ آج کل سوسائیڈ پوائنٹ بن گیا ہے۔

جو لوگ زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں وہ اس دنیا سے نجات حاصل کرنے کے لیے اور کچھ نہیں کرتے فقط اس روڈ پر سفر کرتے ہیں۔ موت ازخود ان کو لینے کے لیے آ جاتی ہے۔ اور اس سوسائیڈ پوائنٹ بنانے کا سارے کا سارا کریڈٹ ایف ڈبلیو او کو جاتا ہے۔ انسان کش اور قاتل روڈ بنانے میں ایف ڈبلیو او سے زیادہ مہارت کوئی نہیں رکھتا۔

اب اس قتل اور بے گناہ قتل سے عوام پریشان ہو چکے ہیں اور عوام کی نفرت بڑھتی چلی جا رہی۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو یقیناً عوامی ردعمل ایک نہ ایک دن آئے گا کیونکہ یہی قانون فطرت ہے کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ جس دن ردعمل ہوا اس دن قاتلوں کا قتل ہر صورت میں ہو گا۔ آخر کب تک بلتستان کے عوام اپنے چاہنے والوں کی لاشیں یوں اٹھانے رہیں گے؟ ان کی برداشت بہت جلد جواب دے گی پھر شاید وہ بغاوت پر اتر آئیں گے۔ بلتستان کے عوام مزید اپنا نقصان برداشت کرنے کا متحمل نہیں لہذا ان کی حفاظت و تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنانا ہو گا۔

جس روڈ پر ان کی جان چلی جائے وہ اس روڈ اور اس کے بنانے والوں سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بغاوت اور بدلہ لینے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔ اس بغاوت اور بدلے سے پہلے ان کے نقصان کا ازالہ کرنا ہی واحد حل ہے۔ اور ان کی جانوں کو ضائع ہونے سے بچانے اور اس قاتل روڈ کو محظوظ روڈ بنانے کا واحد حل ٹنلز بنانا ہی ہے۔ لہذا بلتستان کے ہر ذمہ دار اور باشعور شہری کا ایک ہی نعرہ ہے ”ٹنلز بناؤ زندگی بچاؤ“

Facebook Comments HS