جناح: گورنر جنرل پاکستان


مصطفیٰ زیدی نے کیا خوب کہا تھا
عقل کو زہر ہے وہ بات جو معمول نہیں

یہ مصرع اس لیے پیشِ خدمت ہے کہ زیرِ نظر تحریر میں کچھ ایسی گزارشات پیش کی گئی ہیں جو معمول نہیں۔ تاہم میری گزارشات عقل کے لیے زیر ہے یا نہیں اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ قارئین اپنے اپنے علم، تجربے، شعور، عقیدے، جذباتی وابستگی، ریاستی نظریات و سرکاری نصاب کی روشنی، تنقیدی ذہانت، تاریخی واقعات اور کورس کی کتابوں میں درج تفصیلات، اساتذہ کرام کے لیکچرز، سیاستدانوں کی تقریروں، صحافیوں کے تبصروں، مین اسٹریم میڈیا کے جائزوں نیز مطالعہ پاکستان کی حقانیت کے تناظر میں رد و قبول کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

عام طور پر سیاسی جماعتوں کے قائدین، مملکتوں کے بانیان اور مذہبی پیشوا اپنے کارکنان، عوام اور عقیدت مندوں کی نظروں میں شدید ترین جذباتی تعلق اور وابستگی کی بنیاد پر بے عیب ہوتے ہیں۔ درحقیقت وہ کرشمہ ساز، ہیرو اور مافوق الفطرت بھی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں عوامی سطح پر محمد علی جناح بھی کم و بیش ایسی ہی شخصیت ہیں۔ ہمارے قومی بیانیہ میں جناح کی بھی ایسی ہی تصویر کشی کی جاتی ہے اور قومی نصاب میں جناح کا مطالعہ بھی تنقید سے ماورا یک رخی انداز میں کیا جاتا ہے۔ جناح پر گفتگو کرتے وقت اس نقطہ کو نظرانداز کیا جاتا ہے کہ وہ ایک پوسٹ کالونیل ریاست کے نوآبادیاتی ورثہ کے حامل آئین کے تحت لامحدود اختیارات رکھنے والے ہز میجسٹی جارج ششم شہنشاہ برطانیہ کے حلف یافتہ وفادار گورنر جنرل تھے۔

جناح نا صرف گورنر جنرل تھے بلکہ وہ مسلم لیگ کے سربراہ، دستور ساز اسمبلی کے صدر اور کابینہ میں مختلف محکموں کے طاقتور وزیر بھی تھے۔

حالانکہ 1935 ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ، انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ 1947 ء اور برطانوی کامن ویلتھ کے تحت جناح بطور گورنر جنرل سیاسی معاملات میں براہِ راست حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ چونکہ گورنر جنرل کا عہدہ غیر سیاسی اور غیر منتخب (Unelected) تھا لہذا برطانوی کامن ویلتھ میں گورنر جنرل سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ ایک غیر جانبدار علامتی شخصیت کے طور پر تاج برطانیہ کی نمائندگی کرے گا۔ لیکن جناح جس کالونیل آئین کو دل و جان سے تسلیم کرتے تھے، سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہ کر اسی آئینی روایات کی خلاف ورزی اور آئین شکنی کرتے رہے۔

جناح کی قائم کردہ نظیریں آج بھی پاکستان میں قائم و دائم ہیں اور موجودہ حکمرانوں نے قائد کے عظیم ورثہ کو سنبھال کر رکھا ہے۔ سیاسی اور انتظامی طور پر ارتکاز طاقت کا یہ عالم تھا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کے بجائے جناح نے وفاقی کابینہ کو منتخب کیا تھا۔ گویا وہ وزیر اعظم کے اختیارات بھی استعمال کر رہے تھے۔ جناح ایک ایسے طاقتور سیاسی گورنر جنرل تھے جو بیک وقت ایگزیکٹو، کابینہ اور اسمبلی کو کنٹرول کرتے تھے۔

سرکاری نصاب میں اکثر یہ بات دہرائی جاتی ہے اور عوامی سطح پر (حتیٰ کہ دانشوروں میں بھی) یہ رائے مقبولِ عام ہے کہ جناح کو اگر زندگی مہلت دیتی یا جناح طویل عرصہ زندہ رہتے تو پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہوجاتا۔ یہ بیانیہ درحقیقت جناح کی بطور گورنر جنرل ان ناقص پالیسیوں کا دفاع ہے جو انہوں نے نافذ کیے تھے۔

جناح بحیثیت گورنر جنرل ایک سال 28 دن اپنی وفات تک اسی عہدہ پر کام کرتے رہے۔

جناح نے بطور گورنر جنرل حلف وفاداری کے صرف ایک ہفتہ بعد صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خواہ) کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا۔ عظیم قائد کی موجودگی میں خیبر پختون خواہ میں بابڑہ قتلِ عام کا واقعہ رونما ہوا جس میں سینکڑوں پشتونوں کی ہلاکت ہوئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمیں پنجاب کا جلیانوالہ تو یاد ہے لیکن ہمارا قومی شعور بابڑہ پر خاموش ہے۔ شاید یہی خاموشی ہمارا قومی مفاد ہے یا پھر ہمارے قومی شعور کو ہی اسی طرح پروان چڑھایا گیا ہے۔

اپریل 1948 ء میں جناح نے منتخب سندھ حکومت کو بھی برطرف کر دیا۔ اس وقت کی سندھ حکومت، سندھی عوام اور مرکزی حکومت کے درمیان کراچی کو بطور دار الحکومت بنانے اور اسے سندھ سے الگ کر کے وفاق کے سپرد کرنے پر شدید اختلافات تھے۔ سندھ اور اسلام آباد کے اس جھگڑے میں اسلام آباد بالآخر جیت گیا اور ایوب کھوڑو کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔

پاکستان بننے کے بعد بلوچستان میں قلات یونین آف اسٹیٹس کی ریاستوں ریاست مکران، ریاست خاران اور ریاست لسبیلہ کو دھونس، دھمکی، دھاندلی اور ترغیب و تحریص سے پاکستان کا حصہ بنایا گیا اور بالآخر مارچ 1948 ء میں جناح کے احکامات کے تحت جنرل محمد اکبر خان کی کمانڈ میں ریاست قلات پر فوجی قوت کے بل بوتے پر قبضہ کر لیا گیا۔ یہ وہی جنرل اکبر خان تھے جنہوں نے اکتوبر 1947 ء میں جناح ڈاکٹرائن کے تحت قبائلی لشکر کو کشمیر پر قبضہ کرنے بھیجا تھا۔

قلات پر قبضہ کے فوراً بعد خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم خان نے پہاڑوں کا رخ کر کے مسلح مزاحمت شروع کردی۔ واضح رہے کہ برٹش بلوچستان (کوئٹہ و ملحقہ علاقے ) چیف کمشنر پراونس کے نام سے تقسیم ہند کے وقت سے ہی پاکستان کا حصہ بن چکا تھا۔ تاہم جناح بلوچوں کی آزاد ریاست قلات کو بھی پاکستان میں ضم کرنا چاہتے تھے۔

1948 ء میں بلوچستان میں میں کیا جانے والا قبضہ ایک ایسا ناسور بن گیا ہے جسے بلوچ اپنے روح اور جسم پر آج تک محسوس کرتے ہیں۔

مارچ 1948 ء میں ہی جناح نے ڈھاکہ میں بنگالیوں سے خطاب کرتے ہوئے اردو اور صرف اردو کو ہی پاکستان کی واحد سرکاری زبان قرار دینے پر زور دیا۔ حالانکہ بنگالی اردو کے ساتھ بنگلہ کو بھی سرکاری زبان قرار دینے کا جائز مطالبہ کر رہے تھے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی کا 56 فیصد بنگلہ بولنے والوں پر مشتمل تھا وہاں محض دو فیصد اردو بولنے والوں کی زبان کو واحد سرکاری زبان قرار دینا جناح کی سیاسی کوتاہ بینی تھی۔ اردو کے ساتھ ساتھ تمام بڑی اور اہم زبانوں کو سرکاری قومی زبان کا درجہ دیا جاسکتا تھا۔

یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ بطور سربراہ مسلم لیگ قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں بھی جناح کے پاس پاکستان کے حوالہ سے کوئی ”ورکنگ پیپر“ نہیں تھا۔ حالانکہ اٹلانٹک چارٹر 1941 ء میں امریکی صدر روزویلٹ اور برطانوی وزیر اعظم چرچل یہ بات طے کرچکے تھے کہ ہندوستان کو تقسیم کیا جائے گا۔ کانگریس اور مسلم لیگ کی قیادت مجوزہ تقسیم کے حوالہ سے باخبر تھی۔

پاکستان 1956 ء تک اپنے آئین سے محروم رہا۔ جناح کے پاس بطور سیاسی سربراہ پاکستان کے لیے کوئی ٹھوس اور جامع اقتصادی پالیسی نا تھی۔ سرکاری نصاب میں ”قیام پاکستان کے وقت“ مہاجرین کی مشکلات ”کا جو درس پڑھایا جاتا ہے وہ درحقیقت ریاست پاکستان کی سیاسی اور انتظامی ناکامیوں اور کوتاہیوں کا احوال ہے۔ اقتصادی پالیسی کے نام پر جناح نے پاکستان بننے سے کچھ عرصہ قبل منافع خور سرمایہ دار مل مالکان، بینکوں اور انجنیئرنگ کمپنیوں کے مالکان اور مختلف صنعت کار خاندانوں کو کچھ پروفیسرز کے ساتھ اقتصادی پلاننگ کمیٹی کا حصہ بنایا۔ (حبیب جالب کے بائیس خاندان کو ذہن میں رکھیے گا) یہ تمام لوگ ایک نئے ملک میں اپنے مستقبل کے ذاتی، معاشی اور سیاسی مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنے کاروباری مفادات کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ جناح کی تشکیل کردہ پلاننگ کمیٹی کو عوام کے معاشی مسائل سے کوئی سروکار نا تھا۔

پاکستان بننے کے بعد جناح نے فنانس منسٹری ایک بیوروکریٹ غلام محمد کو سونپ دی جو منتخب عوامی نمائندہ نا تھے۔ جناح نے برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے اہلکار آرچی بالڈ رولینڈ کو اپنا اکنامک ایڈوائزر تعینات کر دیا۔ غلام محمد اور فنانس منسٹری کو رولینڈ یعنی ایک غیر ملکی انگریز کے ماتحت کر دیا گیا۔ 1947 ء سے ہی پاکستان کو غیر ملکی اقتصادی ماہرین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اور یہ فیصلہ کسی اور کا نہیں طاقتور گورنر جنرل اور قائد اعظم کا تھا۔

بہرحال سرکاری نصاب اور سرکاری دانشور اس فیصلہ کو بھی عظیم قائد کے وژن کے طور پر پیش کریں گے اور اس فیصلہ سے وابستہ ”معجزات و کرامات“ کا راگ درباری سنایا جاتا رہے گا۔ اس کے علاوہ جناح نے برطانوی مفادات کے لیے کام کرنے والے سروکٹر الفریڈ چارلس ٹرنر کو فنانس سیکریٹری آف پاکستان اور بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین کے طور پر تعینات کر دیا۔ یہ الفریڈ چارلس ٹرنر ہی تھے جنہوں نے پاکستان میں بیوروکریسی کا ڈھانچہ ترتیب دیا جو آج تک خود کو پاکستان کا مالک و مختار سمجھتی ہے۔

پاکستان کی نئی ریاست کو کالونیل تربیت یافتہ بے رحم بیوروکریسی کے شکنجہ میں دینے پر الفریڈ چارلس ٹرنر کو ”ستارہ امتیاز“ سے نوازا گیا۔ یقیناً ٹرنر نے ریاست کی بہت بڑی خدمت کی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد مستقبل کی اقتصادی منصوبہ بندی کے لیے جناح نے برطانوی حکومتی اہلکار کے۔ ایس جیفریز کی خدمات حاصل کی۔ جناح نے درحقیقت پاکستان کے سیاسی و معاشی نظام میں برطانوی و امریکی ماہرین کی دخل اندازی اور فیصلہ سازی کی داغ بیل ڈالی۔ جناح کی لسانی پالیسی نے بنگلہ دیش کے قیام کی راہ ہموار کی۔ قلات پر قبضہ نے بلوچستان میں آگ اور خون کا بازار گرم کر رکھا ہے اور کشمیر پالیسی کے نتیجہ میں آج کشمیری عوام بھی پاکستان کے حوالہ سے عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

آج ستتر برس بعد بھی مکمل اعتماد کے ساتھ یہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ اگر جناح زندہ رہتے تو ہم غیر ملکی مالیاتی اداروں کے چنگل سے آزاد ہوتے پاکستان میں ایک شاندار سیاسی اور اقتصادی نظام ہوتا مختصر یہ کہ پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتیں۔ کیا ببول کے درخت پر بھی کسی نے گلاب اگتے دیکھے ہیں؟ یقیناً نصاب زدہ اساتذہ اور درباری دانشور ببول کے درخت پر بھی گلاب آگا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS