ایک دھندلا سا شہر
لاہور کے بارے میں ذکر کرنا شروع کروں تو ایک عجیب سی بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ شہر، جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا، اب سموگ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے۔ دھند کے گہرے پردے کے پیچھے، جو حقیقتاً زہریلا دھواں ہے، لوگوں کا جینا محال کرتا جا رہا ہے۔
جب بھی صبح کے وقت میں اپنے کمرے کی کھڑکی کھولتا ہوں، امید کرتا ہوں کہ تازہ ہوا کا جھونکا مجھے خوش آمدید کہے گا، مگر مجھے ایک دھندلا سا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ منظر جس میں سورج بھی اپنا راستہ بنانے سے قاصر ہوتا ہے۔ سانس لیتے ہوئے ایک بوجھ سا محسوس ہوتا ہے، گویا ہر سانس کے ساتھ یہ زہر میرے اندر گھس رہا ہو۔
اس کہانی کی ابتدا 2022 سے ہوئی جب میں نے پہلی بار لاہور میں قدم رکھا اور یہاں کی فضائی آلودگی کے اثرات کو قریب سے دیکھا۔ وہ سردیوں کی ایک شام تھی، جب میں اپنے دوست کے ساتھ مال روڈ پر چہل قدمی کر رہا تھا۔ ہم دونوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے، لیکن پھر بھی آنکھوں میں جلن اور گلے میں خراش محسوس ہو رہی تھی۔ ہر طرف گاڑیوں کا شور، دھویں کا غبار، اور لوگوں کے چہرے جن پر ایک بے بسی کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی تھی۔
چنانچہ میں نے اس مسئلہ سے متعلق ریسرچ کرنا شروع کر دی اور معلوم ہوا کہ لاہور تو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ نہ صرف لاہور بلکہ پورے برصغیر کا ہے۔ اس آلودگی سے نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اس مسئلہ کے اوپر کوئی کوئی ہی بات کرتا ہوا نظر آتا ہے اور معاشرتی دباؤ نہ ہونے کے باعث گورنمنٹ بھی اس مسئلہ پر توجہ نہیں دیتی۔
لاہور میں ہر سال خزاں کے موسم میں اسموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ بچے، بوڑھے، اور بیمار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسپتالوں میں سانس کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ میرا ایک عزیز دوست، جو دمہ کا مریض ہے، اُس کی حالت خاص طور پر خراب ہو جاتی ہے اور اسے کئی دفعہ اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے جس سے مجھے کافی دلی تکلیف پہنچتی ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ کیا یہ وہی لاہور ہے جسے کبھی خوبصورتی اور ثقافت کی علامت سمجھا جاتا تھا؟ وہ لاہور جس کی شامیں خوشبو سے معطر ہوتی تھیں، آج اسی جگہ پہ سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔
اس فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کی گیسیں، اور فصلوں کے باقیات کو جلانا شامل ہیں۔ لیکن شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم، بطور شہری، اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں یا درخت لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب بھی باہر جا کر بچوں اور بوڑھے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو میرے دل پر ایک عجیب سا خوف طاری ہو جاتا ہے کہ خدارا اس آلودگی سے ان کی صحت کس قدر متاثر ہوگی۔ یہ سموگ کینسر، پھیپھڑوں اور دلی امراض کا باعث بنتی ہے اور ہر سال لاکھوں لوگ اس آلودگی کے باعث لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔
اِس تمام مایوسی کے باوجود، میرے دل میں امید کی ایک کرن باقی ہے۔ میں نے حال ہی میں کچھ نوجوانوں کو دیکھا جو درخت لگانے کی مہم چلا رہے تھے۔ وہ کہتے تھے، ”یہ درخت ہمارے بچوں کے لیے ہیں، تاکہ وہ ایک بہتر مستقبل دیکھ سکیں۔“ اُن کا جذبہ دیکھ کر مجھے لگا کہ اگر ہم سب مل کر کام کریں، تو شاید ہم اپنے شہر کو بچا سکتے ہیں۔
یہ سفر آسان نہیں ہو گا، لیکن اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے اقدامات کریں، تو تبدیلی ممکن ہے۔ جیسے کہ گاڑیوں کا کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کا انتخاب، درخت لگانا، اور آلودگی کے بارے میں شعور پیدا کرنا وہ راستے ہیں جو ہمیں ایک بہتر لاہور کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
میں ہر رات دعا کرتا ہوں کہ لاہور کے آسمان پھر سے نیلے ہو جائیں، ہوا پھر سے خوشبو دار ہو، اور لوگ اور جانور سکون کی زندگی گزار سکیں۔ مگر یہ دعا صرف الفاظ تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ہمیں ان ہدایات پر عمل کرنا ہو گا، تاکہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔


