سفر کینیڈین راکی ماؤنٹینز کے (بینف نیشنل پارک)


کہتے ہیں کہ کائنات جستجو رکھنے والے مہم جو لوگوں پر اپنے راز آشکار کرتی ہے۔ یہ لوگ فطرت کی قربت میں عافیت پاتے ہیں۔ ہم لوگ تو ایک روٹین میں بندھے ہوئے قیدی ہیں۔ جہاں زندگی کی آسائشوں نے غیر فطری طرز زندگی کا سفر آسان کر دیا ہے۔ لیکن خدا پھر بھی مہربان ہے۔ اسی لیے ہم نے قدیم برف پوش کینیڈین راکی ماؤنٹینز (بینف نیشنل پارک) کو جاتی سڑک کا رخ کیا۔ تاکہ ہم بھی آسمان کو چھوتی حسین برفانی چوٹیوں کو ذرا قریب سے دیکھ لیں۔ جہاں دودھیا برف سورج کی کرنوں سے منعکس ہو کر آنکھوں کو چندھیاتی ہیں۔ ویسے تو سردیوں میں شدید سرد علاقوں میں رہنے والوں کو برف زاد کہنا مناسب ہو گا۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ قدرت نے ہمیں ان علاقوں میں مستقل بنیادوں پر بھیجنے کا انتظام کر رکھا ہے۔ جہاں قریب ہی وسیع و عریض کینیڈین راکی ماؤنٹینز سورج کی چمک سے سنہرے دکھتے ہیں اور اس کی مخصوص نیلی جھیلیں گلیشیر کے یخ پانیوں سے کھیلتی ہیں۔ بینف نیشنل پارک کینیڈا کے قدیم ترین پارک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ جو مقامی لوگوں اور سیاحوں کی دلچسپی کا خاص مرکز ہے۔ یہ دنیا کا تیسرا قدیم ترین نیشنل پارک ہے۔ بینف شہر پہاڑوں میں گھرا کینیڈا کا اونچا ترین شہر ہے جس کی بلندی 4500 فٹ سے زیادہ ہے۔ یہ البرٹا میں واقع ہے اور اپنی حیرت انگیز قدرتی خوبصورتی، سدا بہار سبزہ، خوبصورت جھیلوں اور شاندار پہاڑوں کے لئے جانا جاتا ہے۔

ہم کینیڈین راکی ماؤنٹینز پر رواں دواں تھے اور ان قدیم برف پوش پہاڑوں کو حیرانی اور مسرت سے تکتے تھے جہاں پہاڑوں پر برف چمکتی اور بادل کے ٹکڑے آہستگی سے انہیں چھوتے اور بوسہ دے کر چلتے جاتے تھے۔ قدرت کے یہ خوبصورت مناظر بے پناہ کشش کے حامل تھے۔ ان خطوں کو دیکھ کر جنت کا گمان ہوتا ہے۔ یقین ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے مخلوق کے لیے کچھ مناظر دنیا میں محفوظ کر دیے تاکہ اس کی جو مخلوق ہماری طرح ملازمت کی بیل گاڑی اور لایعنی مصروفیات میں صبح سے شام کر کے زندگی تمام کرتی ہے جس کی مشینی زندگی میں کوئی بڑا مقصد نہیں ہوتا وہ بھی قدرت کی ان نشانیوں کی دیکھ کر خدا کو یاد کر سکے۔ جوں جوں ہم آگے بڑھ رہے تھے راکی ماؤنٹینز کے سلسلے ہمارا استقبال کرتے تھے۔ بینف سے 40 کلومیٹر پہلے آرک لیکس نظر آئی۔ جہاں ہم تھوڑی دیر کے لیے پانی کو چھونے اترے۔ یہاں سے برف پوش پہاڑ خاموشی سے خوش آمدید کہتے تھے۔ یہاں کبھی کبھار بو ریور جو مرکزی دریا ہے۔ اپنی جھلک دکھلاتا رہتا تھا۔ یہ پہاڑی سلسلہ کالی اور سرمئی چٹانوں پر مشتمل ہے۔ ہم جب بینف شہر میں داخل ہو رہے تھے تو غروب آفتاب کی کرنیں بجھ رہی تھیں اور نیم تاریکی میں ہماری گاڑی بینف سنٹر آف آرٹس اینڈ کریٹیوٹی (جہاں ہمارا قیام تھا) کی طرف جا رہی تھی کہ ہرن کی ایک فیملی کو چہل قدمی کرتے دیکھا۔ بینف شہر کے اردگرد 5000 سے 10000 فٹ بلند پہاڑی سلسلے موجود ہیں۔ اور ان کی موجودگی کا ہمہ وقت احساس سارے ماحول پر چھایا رہتا ہے۔ چاہے آپ بازار میں ہوں یا کیمپنگ سائٹ میں یا شہر میں۔ یہ پہاڑی سلسلے آپ کو قربت بخشتے ہیں۔ موسم سرما میں یہ پہاڑی سلسلے یخ ہواؤں سے کھیلتے ہیں اور اس کی برفیلی چٹانوں سے ٹکرانے اور دباؤ کی وجہ سے نیچے آتے آتے ہوائیں اپنی نمی کھو دیتی ہیں۔ کینیڈا میں یہ ہوائیں بحر الکاہل کے ساحل سے شروع ہوتی ہیں۔ جب وہ کینیڈین راکیز تک آتی ہیں تو وہ کافی گرم ہوتی ہیں جب وہ مشرقی پہاڑی ڈھلوانوں سے نیچے آتی ہیں تو کیلگری کے باشندوں کو موسم سرما کی برفانی گرفت سے چند خوشگوار لمحات کے لئے آزاد کرتی ہیں۔ جب درجہ حرارت منفی 15 سے مثبت 15 یا 20 ڈگری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

قدیم برف پوش پہاڑوں میں ایک بلندی، وقار اور خاموشی بسیرا کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پرانے وقتوں میں شالیستان بولنے والے لوگوں کا مسکن تھا جو زیر زمین گھر بناتے تھے۔ جنہیں پٹ ہاؤسز کہا جاتا تھا۔ یہاں کے مقامی لوگ جانوروں کا شکار کرتے اور مچھلی پکڑتے تھے اور اس علاقہ کی کئی جڑی بوٹیوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور دوائیاں بنائی جاتی تھیں۔ اور اس علاقے کے گندھک کے گرم چشموں میں نہانے کو بیماروں کے لیے باعث شفا سمجھا جاتا تھا۔ پھر ایک وقت آیا جب یہاں کے آبائی لوگوں پر ان کے زمین تنگ ہو گئی۔ ان کو یہاں سے نکال دیا گیا اور ان کے شکار کرنے، اکٹھے ہونے پر طویل عرصے تک پابندی رہی۔ بہت بعد میں حکومت نے مقامی لوگوں سے تعلق کو بہتر بنانے کی لئے یہ پالیسیاں تبدیل کر دیں۔ 1870 میں کینیڈین ریلوے لائن کی پٹری بچھانے کا کام شروع ہوا تو اس دوران تین کام کرنے والے لوگ تھامس مککارڈل، ولیم مککارڈل اور فرینک مکابے گندھک کے قدرتی گرم چشموں سے جا ٹکرائے جنہیں آج سلفر مائنٹین کے نام سے شہرت حاصل ہے۔ ان چشموں کا گرم پانی سیاحوں کے لئے کافی کشش رکھتا ہے۔ ہم بھی تھوڑی دیر کے لئے ان چشموں کی بھاپ سے لطف اندوز ہوئے۔ بینف نیشنل پارک یونیسکو کے عالمی تاریخی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ یہ 2564 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں 1600 کلومیٹر کے ہائیکنگ ٹریلز موجود ہیں اور 1000 سے زیادہ گلیشیر ہیں۔ یہ گلیشیر لاکھوں سالوں سے عالیشان برفانی چوٹیوں کی ساخت بناتے اور سنوارتے رہتے ہیں۔ چونکہ یہ سارا علاقہ سیاحوں کو مدنظر رکھ کر آباد کیا گیا ہے اس لئے یہ اس سارے علاقے کے قدرتی حسن تک رسائی کافی آسان بنانے کی بھرپور کوششیں کی گئی ہیں۔ یہاں آ کر ہمیں تو اقبال کی نظم ایک آرزو یاد آنے لگی کہ پہاڑ کے دامن میں جانے کا تجربہ کتنا قیمتی ہے۔ تاکہ خدا کی قدرت میں پھیلی نشانیوں کا مشاہدہ کر سکیں اور فطرت کے حسین کینوس میں پھولوں اور چرند و پرند کی موجودگی میں خدا کی تسبیح سن سکیں اور کر بھی سکیں۔ آخر قدرت نے پہاڑوں میں کتنے پیغام رساں بھیجے۔ پھر کتاب روشن مسکراتی ہے اور آواز آتی ہے۔

پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تخلیق کی (سورت علق آیت 1 )

Facebook Comments HS