شیخ مجیب الرحمٰن: انشورنس کمپنی کے ملازم سے بنگلہ بندھو تک!
مشرقی پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت عوامی لیگ کے رہنماء اور بنگلہ دیش کے بانی بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن ایک دور میں سے کراچی کی ایک انشورنس کمپنی سے منسلک رہے تھے اور اس دوران انہوں نے مشرقی پاکستان میں صنعت بیمہ کی ترقی اور فروغ کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے 1960 ء میں ملک کے دونوں حصوں میں فوجی آمر صدر جنرل محمد ایوب خان کے دور آمریت کے دوران کراچی میں قائم الفا انشورنس کمپنی لمیٹڈ میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہوں نے الفا انشورنس کمپنی کے چیف آف پروموشن بزنس کی حیثیت سے اپریل 1960 میں اس بیمہ کی کمپنی سے اپنی پہلی تنخواہ بھی وصول کی تھی۔
اس ملازمت کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن نے الفا انشورنس کمپنی کے چیف آف پروموشن بزنس کی حیثیت سے مشرقی پاکستان کے عوام کو زندگی میں ناگہانی صورت حال بیماری، معذوری اور وفات کی صورت میں بیمہ پالیسی کی اہمیت اور بیمہ کاری کے لئے انہیں آسان اور زیادہ سے زیادہ رسائی بہم پہنچانے کے لئے نمایاں خدمات انجام دی تھیں۔ الفا انشورنس کمپنی لمیٹڈ کراچی کا قیام 1951 میں عمل میں آیا تھا اور اس کا رجسٹرڈ آفس کراچی میں قائم کیا گیا تھا۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن کی الفا انشورنس کمپنی میں ملازمت دراصل ان کی ایک دور رس سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ تھی کیوں اس دور آمریت میں ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر کڑی پابندیاں عائد تھیں۔ لیکن اپنی اس انوکھی حکمت عملی کے نتیجہ میں منجھے ہوئے سیاست داں شیخ مجیب الرحمٰن کا اپنی انشورنس کمپنی کی جانب سے مشرقی پاکستان کے باشندوں کو بیمہ پالیسیوں کی افادیت کے متعلق آگہی فراہم کرنے اور انہیں بیمہ زندگی پالیسیوں کی خریداری کی جانب راغب کرنے کی کاروباری سرگرمیوں کی آڑ میں بڑی تعداد میں عوام الناس سے برابر رابطہ قائم رہا۔
شیخ مجیب الرحمٰن کے نزدیکی عزیزوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اکثر الفا انشورنس کمپنی کے بنگہ بندھو ایونیو کے آفس میں بیٹھا کرتے تھے۔ یہ تاریخی عمارت اب بنگلہ دیش کی ریاستی انشورنس کمپنی سدھارن بیمہ کارپوریشن کے زیر استعمال ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے الفا انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے دور ملازمت میں ان کی استعمال کردہ دفتری میز، ٹائپ رائٹر اور الماری نوادرات کی شکل میں آج بھی سدھارن بیمہ کارپوریشن کے ہیڈ آفس واقع دلکشا کمرشل ایریا ڈھاکہ کے مجیب کارنر میں موجود ہیں۔
شیخ مجیب الرحمٰن کی الفا انشورنس کمپنی کی ملازمت نے بعد ازاں نوزائیدہ ملک بنگلہ دیش میں صنعت بیمہ کی ترقی اور فروغ میں بے حد مثبت اثرات مرتب کیے تھے۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے آزاد بنگلہ دیش کے قیام کے فوراً بعد ایک انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے 1972 میں ملک کی صنعت بیمہ کو قومیا لیا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے ایک بنگلہ دیشی نژاد ایک چوری شفاعت احمد چوہدری کو وطن مدعو کیا تھا جو اس وقت لندن کی صنعت بیمہ میں ایک اہم عہدہ پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
شفاعت چوہدری نے بنگلہ بندھو کی آواز پر مثبت انداز میں لبیک کہا اور فوری طور پر وطن واپس آ گئے تھے جہاں شیخ مجیب الرحمٰن نے انہیں آزاد بنگلہ دیش کا پہلا ایکچوئری اور ڈپارٹمنٹ آف انشورنس کا پہلا کنٹرولر مقرر کیا تھا۔ بعد ازاں شفاعت احمد چوہدری نے 1980 کی دہائی میں بنگلہ بندھو کی رہنمائی میں ملک میں صنعت بیمہ کی بنیاد رکھی اور اسے بھرپور انداز میں منظم کیا تھا۔ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن نے صنعت بیمہ میں اپنے وسیع تجربات کی روشنی میں بنگلہ دیش میں نان لائف اور لائف انشورنس فراہم کرنے والے بیمہ اداروں کی درجہ بندیوں میں بے حد اہم کردار ادا کیا تھا۔ کیونکہ اس سے قبل ایک ہی انشورنس کمپنی ایک چھت تلے دونوں قسم کے بیمہ کی خدمات فراہم کیا کرتی تھی۔ بنگلہ بندھو کی قیادت میں سدھارن انشورنس کارپوریشن ایکٹ اور جبان انشورنس کارپوریشن ایکٹ کے نام سے دو قانون تیار اور منظور کیے گئے تھے۔ جس کے نتیجہ میں بنگلہ دیش میں بیمہ کاری کی صنعت بے حد پھلی پھولی اور اس وقت بنگلہ دیش میں صنعت بیمہ کاری کے شعبہ میں تین سرکاری اور 81 نجی انشورنس کمپنیاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
شیخ مجیب الرحمٰن نے 17 مارچ 1920 کو برطانوی ہند کے بنگال کے ایک گاؤں ٹونگی پاڑہ ضلع فرید پور میں بنگالی مسلمانوں کے ایک معزز شیخ گھرانے میں جنم لیا تھا۔ ان کے والد شیخ لطف الرحمٰن گوپال گنج کی عدالت میں سرشتہ دار تھے اور والدہ شیخ سائرہ خاتون امور خانہ دار تھیں۔ آپ نے سات برس کی عمر میں اپنے گاؤں میں حصول تعلیم کا آغاز کیا اور 1932 میں شیخ فضیلت النساء سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے جن کے بطن سے آپ کی سے دو صاحبزادیاں شیخ حسینہ واجد، شیخ ریحانہ اور تین صاحبزادے شیخ کمال، شیخ جمال اور شیخ رسل تولد ہوئے تھے۔
شیخ مجیب الرحمٰن نے 1942 میں اپنے قصبہ کے سرکاری اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے بعد مزید تعلیم کے لئے اسلامیہ کالج کلکتہ میں داخلہ حاصل کیا تھا۔ آپ اوائل عمری سے ہی بنگال کے غریب طبقہ کی بھلائی کے لئے خدمت خلق اور سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ لہذا اس مقصد کے حصول کے لئے آپ نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور 1943 میں بنگال سے آل انڈیا مسلم لیگ کے کونسلر منتخب ہوئے اور تقسیم ہند تک اس عہدہ پر برقرار رہے۔
شیخ مجیب الرحمٰن سماجی نا انصافیوں اور عدم مساوات کے خلاف اپنی فکر، بیباک شخصیت اور پرجوش مقرر کی حیثیت سے طلبہ میں بے حد مقبول تھے جس کے نتیجہ میں آپ 16 اگست 1946 کو اسلامیہ کالج کی طلبہ یونین کے بلا مقابلہ جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ بنگال کے معروف سیاستداں بیرسٹر حسین شہید سہروردی کے ساتھ منسلک ہو گئے جو بعد میں آپ کے سیاسی گرو بھی کہلائے۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا اور قید و بند کی سزائیں بھی بھگتی تھیں۔
آپ مشرقی پاکستان کے کروڑوں عوام الناس کی ایک مقبول ترین سیاسی جماعت عوامی لیگ کے شریک بانی تھے اور آپ اپنی پوری سیاسی زندگی کے دوران مشرقی پاکستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور ملک کے مشرقی بازو کی خودمختاری کے زبردست علمبردار رہے اور خطہ بنگال کی خودمختاری کے لئے آپ کے پیش کردہ چھ نکات نے بے حد مقبولیت حاصل کی تھی۔ آپ کی قیادت میں مشرقی پاکستان کے حقوق اور انصاف سے محروم عوام الناس کے حقوق کے تحفظ کے لئے کی جانے والی طویل اور زبردست سیاسی جہدوجہد کے نتیجہ میں 1970 کے عام انتخابات میں آپ کی جماعت عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں واضح اکثریت حاصل کی تھی۔
آپ کی بنگالی باشندوں کے لئے گرانقدر سیاسی خدمات کے نتیجہ میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے شیخ مجیب الرحمٰن کو بنگلہ بندھو کا خطاب دیا گیا۔ 1970 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی اکثریت سے واضح کامیابی کے باوجود اقتدار سپرد نہ کیے جانے کے باعث ایک سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا جس کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان میں سول نافرمانی جیسی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن عاقبت نا اندیش حکمرانوں نے اس مسئلہ کے سیاسی حل کے بجائے عسکری طاقت کے استعمال کا غیر دانشمندانہ فیصلہ کیا اور پاک فوج نے جنرل ٹکا خان کی قیادت میں 25 مارچ 1971 کو علیحدگی پسند بنگالی طبقہ کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کیا جس کے رد عمل کے طور پر عوامی لیگ کے قائد شیخ مجیب الرحمٰن نے 26 مارچ کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کر دیا تھا جس پر فوج نے انہیں گرفتار کر کے مغربی پاکستان میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔
مشرقی پاکستان کے طول و عرض میں جاری رہنے والی نو ماہ کی اس خونی سول وار کے دوران لاکھوں بے گناہ بنگالی اور غیر بنگالی شہری قتل و غارت گری کا شکار ہوئے اور ان کے مکانات اور املاک کو لوٹ لیا گیا۔ اس صورت حال کے بعد 16 دسمبر 1971 کو آزاد ریاست بنگلہ دیش کا قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ آزاد بنگلہ دیشی حکومت نے 27 دسمبر کو حکومت مغربی پاکستان سے مغربی پاکستان میں نظر بند اپنے قائد شیخ مجیب الرحمٰن کی رہائی کا مطالبہ کر دیا تھا۔
جس پر سخت ترین عالمی دباؤ اور رائے عامہ کے نتیجہ میں حکومت مغربی پاکستان کو انہیں مجبوراً رہا کرنا پڑا تھا۔ رہائی کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن راولپنڈی سے بذریعہ ہوائی جہاز لندن روانہ ہوئے جہاں انہوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس کی اور برطانوی وزیر اعظم ایڈورڈ ہیتھ سے بھی ملاقات کی۔ اس کے بعد وہ دہلی روانہ ہو گئے جہاں ہندوستانی صدر وی وی گری اور وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ان کا پر جوش خیر مقدم کیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن ایک فاتح قائد کی حیثیت سے 10 جنوری کو ڈھاکہ پہنچے تھے جہاں عوام الناس نے پرجوش نعروں سے ان کا فقیدالمثال خیر مقدم کیا کیا تھا۔
حکومت سازی کے وقت شیخ مجیب الرحمٰن کی آزاد وطن بنگلہ دیش کے لئے بے مثال قربانیوں اور گرانقدر خدمات کے اعتراف میں انہیں 12 جنوری 1972 کو نو آزاد ملک بنگلہ دیش کا پہلا وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ نئی مملکت کی زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن نے دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم بنگالی پیشہ ور ماہرین کو ملک واپس آنے اور استحکام کے لئے کام کرنے کی دعوت دی اور ان کی آمد کے بعد مل جل کر نوزائیدہ ملک بنگلہ دیش کے انتظامی اور معاشی ڈھانچہ کی کی از سر تعمیر نو اور معیشت و تجارت کے فروغ کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔
آزادی کے بعد رفتہ رفتہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد اور خود مختار ملک تسلیم کر لیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں بنگلہ دیش 17 ستمبر 1974 کو اقوام متحدہ کا 136 واں رکن ملک بن گیا تھا اور شیخ مجیب الرحمٰن نے 25 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 29 ویں اجلاس میں پہلی بار بنگلہ زبان میں تقریر کی تھی۔
مشرقی پاکستان کے محروم اور نا انصافی کا شکار عوام الناس کے حقوق کی آزادی جنگ میں آپ کی گرانقدر خدمات کے نتیجہ میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے شیخ مجیب الرحمٰن کو بنگلہ بندھو کا لقب عطا کیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن 1948 سے 1971 تک پاکستان کی سیاسی منظر نامہ میں مضبوط حزب مخالف کے ایک بے حد اہم اور فعال کردار رہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن نوزائیدہ وطن کے خالق کی حیثیت سے کافی عرصہ تک سیاہ سپید کے مالک بنے رہے۔
لیکن بعد ازاں شیخ مجیب الرحمٰن اپنے دور اقتدار میں مطلق العنانی اور اقرباء پروری کی ڈگر پر چل پڑے اور ان کی آمرانہ و جابرانہ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور سنگین بدعنوانیوں اور سرکاری خزانہ میں بڑے پیمانے غبن کے نتیجہ میں سماجی انصاف اور ایک جمہوری اور خوشحال وطن کا خواب دیکھنے والے عوام الناس تیزی سے بد دلی کا شکار ہونے لگے اور کرشمہ ساز شخصیت بنگلہ بندھو رفتہ رفتہ عوامی ہمدردی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی طرح فوج کے نوجوان افسران میں بھی بنگلہ بندھو کی آمرانہ ناقص پالیسیوں اور سرکاری خزانہ کی زبردست لوٹ کھسوٹ کے خلاف اندر ہی اندر ایک لاوہ پک رہا تھا جس کے نتیجہ میں 15 اگست 1975 کو نصف شب کے قریب رونماء ہونے والی خونی فوجی بغاوت کے دوران بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن اپنی بیوی شیخ فضیلت النساء، نوجوان صاحبزادگان شیخ کمال، شیخ جمال، شیخ رسل، چھوٹے بھائی شیخ ابو نصر، شیخ کمال کی اہلیہ رضیہ، شیخ جمال کی اہلیہ پروین، بہنوئی عبدالرب، شیخ فضل الحق مونی بھانجا اس کی اہلیہ بچوں دیگر نزدیکی عزیزوں اور محافظوں سمیت باغی فوجیوں کے ہاتھوں بیدردی سے قتل ہو گئے تھے جبکہ خوش قسمتی سے ان کی ایک صاحبزادی شیخ حسینہ واجد بیرون ملک جرمنی میں مقیم ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھیں۔
وہ بعد ازاں 2009 سے 2024 تک دو بار بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز رہیں اور رواں برس ان کی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور آمرانہ دور حکومت کے خلاف رونماء ہونے والی ایک پرتشدد ملک گیر عوامی تحریک کے نتیجہ میں انہیں 5 اگست کو اپنے عہدہ سے معزول ہو کر ہندوستان فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا جہاں وہ تاحال مقیم ہیں اور حال ہی میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ان کے مطلق العنان وزیر اعظم کی حیثیت سے سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر ہندوستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔


