تھوڑی سی فکر
وہ بچپن کا ساتھی تھا۔ سکول اکٹھے پڑھے پھر میں مزید تعلیم اور بعد ازاں جاب کے سلسلے میں لاہور آ گیا جبکہ وہ ملک سے باہر چلا گیا۔ یوں تقریباً 15 سال بعد ہماری ملاقات ہوئی۔ باہمی دوستی کی پرانی روایت کے مطابق اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا اور میرے پاس ہمیشہ کی طرح سننے کا حوصلہ۔ اب بھی مدتوں بعد ملے تو اس نے اپنی پورا ماضی میرے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ ماضی کیا تھا گویا خاندان، دوستوں اور معاشرے سے شکوے، شکایتوں اور لڑائیوں کی طویل داستانیں تھیں جو اس نے مجھے اپنے مخصوص انداز میں سنا دیں۔ اس نے بہت عمدہ جابز چھوڑیں، کئی چلتے کاروبار خراب کیے، رشتہ داروں بالخصوص بھائیوں کے جبر اور ستم کے ہاتھوں جتنے نقصانات اٹھائے ایک ایک تفصیل اس نے میرے سامنے رکھ دی۔ طویل آہ بھری اور تھکے لہجے میں بولا ”میرے پاس جیتنے کو کچھ نہیں رہا اور ہارنے کو بھی اب محض ایک جان بچی ہے میں پے در پہ ناکامیوں کا مزید بوجھ نہیں اٹھا پاؤں گا“ ۔ میں سنتا رہا، سنتا رہا حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر اپنی ساری داستان سنا چکا اور طویل آہ بھر کر میری طرف اضطراب بھری سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
”تو پھر آپ کا آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟“ میں نے اس کی طویل خاموشی کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ میرے پاس اب کرنے کو کچھ نہیں اور ہارنے کو بھی کچھ نہیں۔ میں مزید کوئی جاب یا کاروبار کرنے سے بھی چڑ چکا ہوں۔ اول تو سرمایہ بھی نہیں ہے اور نہ کوئی مزید مدد کرنے کو تیار ہے۔ میرا خود سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ کئی بار تو خود کو زندگی کے بوجھ سے آزاد کرنے کا بھی خیال آتا ہے۔ ”کیا اپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اپ کی ان ساری ناکامیوں کی وجوہات کیا ہیں؟“ وہ سوچنا شروع ہو گیا اور کہنے لگا کہ میرے ذہن میں تو ایسی کوئی بات نہیں آتی۔ میں نے عرض کیا کہ چلیں کوئی ایک وجہ ہی بتا دیں۔ مجھے جتنی نوکریاں اور کاروبار خراب ہونے کا اپ نے بتایا ہے ان سب میں کوئی ایک چیز جو مشترک ہو؟ اس نے تھوڑی دیر کو سوچا اور انکار میں سر ہلا دیا۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کی ان تمام سلسلہ وار ناکامیوں میں ایک مشترک چیز جو میں نے نوٹ کی ہے وہ آپ کی ”لڑائی“ ہے۔ آپ کی ہر جاب اور بزنس لڑائی پر ختم ہوئے ہیں۔ وہ میری قوت مشاہدہ اور اس بارے میں مشترکہ کڑی ملانے پر حیران رہ گیا۔ وہ آنکھیں چراتے ہوئے بولا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ دراصل مجھ سے“ غلط بات ”برداشت نہیں ہوتی۔“ میں نے اس کی بات پر مسکرا کے اس سے پوچھا کہ پھر برداشت کرنا کس کو کہتے ہیں؟ بھائی میرے غلط، ناجائز اور ناپسندیدہ بات کو ہی برداشت کیا جاتا ہے۔ اچھی بات کے لئے تو برداشت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ میری طرف ہونقوں کی طرح دیکھنے لگا اور پھر اس کے چہرے پر پھیکی اور حیرت آمیز سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ہاں یار واقعی برداشت تو سخت، بری، ناپسندیدہ بات کو ہی کیا جاتا ہے۔
میں نے عرض کیا کہ بزنس، جاب، یا تعلقات کے ضمن میں کامیاب ہونے کے لئے پہلا قدم برداشت کا ہوتا ہے۔ یہ ہمارے فوری اور جذباتی ردعمل کو روک لیتا ہے، اور پھر اس مسئلہ کو عقل کے حوالے کرتا ہے۔ عقل اس مسئلے کے حل کی کوئی نہ کوئی تدبیر تجویز کر دیتا ہے۔ اگر آپ برداشت نہیں کرتے تو آپ فوری اور سخت ردعمل دے کر اپنے یا دوسروں کے ساتھ تعلق اور کیرئیر کے لئے مسائل کھڑے لیتے ہیں۔ اگر ہم غور و فکر کریں اور ہر ناکامی کے بعد دوسروں کو دوش دینے کی بجائے خود کو کٹہرے میں کھڑا کر کے خود سے سوال کریں کہ ہم سے غلطی کہاں ہوئی ہے تو اگلی بار اس غلطی سے بچا جا سکتا ہے۔ اسی عمل کو تجربہ بھی کہتے ہیں۔ یہی عمل حدیثِ مبارکہ کے الفاظ میں یوں ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔ اور یہ بھی کہ مومن کا ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہوتا ہے۔ اس عمل کے لئے خود کو روز کٹہرے میں کھڑا کر کے اپنا محاسبہ کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کو دوش دینے کی عادت انسان کو اپنے محاسبے کے عمل سے دور کر کے ناکامی کی راہ ہموار کر دیتی ہے۔ اس کی مسکراہٹ گہری اور پرامید ہو چکی تھی۔


