پاک افغان بحران


پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ چند مہینوں میں پاک افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردی کی وارداتوں اور حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے دونوں ممالک کی سیکیورٹی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے اور افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے حملوں کے الزامات، دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

جون 2024 میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے میں ہونے والے ایک خودکش حملے نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا تھا۔ اس حملے میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہوں کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور افغان حکومت سے فوری کارروائی کی درخواست کی۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اسی طرح، اگست 2024 میں پاک افغان بارڈر کے قریب ایک اور حملہ ہوا، جس میں درجنوں افغان شہری ہلاک ہو گئے۔ اس حملے کے بعد افغان حکومت نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی سرحد پر باڑ لگا کر افغان عوام کی آزادی کو محدود کر رہا ہے، اور اس سے نہ صرف تجارت بلکہ انسانی نقل و حرکت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ افغانستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں افغان خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان نے اب واضح پیغام دیا ہے کہ افغان سرحد سے دہشت گردوں کی آمد کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، اور اس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان نے بار بار افغان حکومت کو اپنے علاقے میں موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں، پاکستان نے اپنی سرحد پر سیکیورٹی بڑھانے کے اقدامات کے طور پر باڑ لگانے کا عمل جاری رکھا ہے، جس پر افغان حکومت نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ سرحدی باڑ کی تنصیب سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں بلکہ یہ اقدام عوامی سطح پر بھی مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ افغانستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس باڑ سے سرحد پار نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے، جس سے نہ صرف تجارت بلکہ انسانی حقوق کی پامالی بھی ہو رہی ہے۔

پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان نے کئی بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہ پناہ گزین ہیں اور پاکستانی علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان حملوں میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں۔

افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہونے والے حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاک افغان بارڈر پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو ایک دوسرے کی سیکیورٹی کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ افغان حکومت کو دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی، اور پاکستان کو اپنے سیکیورٹی اقدامات میں احتیاط سے کام لیتے ہوئے عوامی سطح پر اثرات کو کم کرنا ہو گا۔

پاک افغان سرحد پر حالیہ دہشت گردانہ حملے اور کشیدگی دونوں ممالک کے عوام اور خطے کی سیکیورٹی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن رہے ہیں۔ دونوں حکومتوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کشیدگی کی بجائے تعاون اور باہمی سمجھوتے سے ہی اس بحران کا حل نکل سکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک مل کر دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کریں اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تو یہ نا صرف پاک افغان تعلقات کو بہتر بنائے گا بلکہ پورے خطے میں امن کی فضا قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

Facebook Comments HS