پیرس کی سیر اور اولڈ ہاؤس میں قیام
پیرس کی خوبصورتی کے متعلق بہت سی افسانوی اور رومانوی داستانیں دنیائے عالم میں زبان زد عام ہیں۔ اس کی سڑکیں شیشے کی ہیں۔ یہ روشنیوں کا شہر ہے یہ دنیا کا پایہ تخت ہے اور بہت سے ایسے محاسن اس سے منسوب ہیں۔ یہ فرانس کا دارالحکومت ہے جس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ بائیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ جو فرانس کی کل آبادی کا 19 فیصد بنتا ہے۔ یہ ایک اہم ریلوے، ہائی وے اور ہوائی نقل و حمل کا مرکز ہے۔ دو ہوائی اڈے چارلس ڈیگال ائر پورٹ اور پیرس اورلی ائر پورٹ اس شہر میں واقع ہیں۔
پیرس میٹرو روزانہ 5.23 ملین لوگوں کو اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔ پومپیدو سنٹر جدید فن کا قومی عجائب گھر، رودان عجائب گھر، پکاسو عجائب گھر، ایفل ٹاور، مقدس چیپل، گرینڈ محل، پاتی محل، شانزا لیزے پر فتح کی محراب، سیکرڈ ہارٹ آف مونمارتے اور ایسی ہی دوسری بہت سی مشہور و معروف جگہیں قابلِ دید ہیں۔ اس لیے یورپ میں آنے والے ہر ٹورسٹ کا پیرس آنا ایک فطری امر ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بہت سی بین الاقوامی تنظیموں کے مرکزی دفاتر یہاں پر واقع ہیں۔ انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، بیورو آف ویٹ اینڈ میٹرز انٹرنیشنل انرجی ایجنسی، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق، یورپی خلائی ایجنسی، یورپی بنکنگ اتھارٹی، سیکورٹیز اینڈ مارکیٹ اتھارٹیز کے علاوہ اور بھی بہت سی بین الاقوامی تنظیموں کے مرکزی دفاتر کی یہاں موجودگی سے پیرس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس میں سے گزرنے والا دریائے سین اس کے حسن اور خوبصورتی کو دوبالا کرتا ہے۔
یہاں پر انسانی سکونت کی تاریخ ساڑھے دس ہزار سال کے طویل عرصے پر محیط ہے۔ 2008 ء میں پیرس میں انسانی آبادی کے جو قدیم ترین آثار دریافت ہوئے تھے وہ 8000 قبل مسیح میں شکار جمع کرنے والوں کے لشکروں کے تھے۔ 250 سے 225 قبل مسیح کے درمیان سیلیسٹک سینونس کا ایک ذیلی قبیلہ پیرسی دریائے سین کے کنارے نائٹرے میں آباد ہوا اور اسی کی مناسبت سے اس جگہ کا نام پیرس مشہور ہوا۔ ان لوگوں نے یہاں پر ایک قلعہ تعمیر کیا، سکے ڈھالے، دریائے سین پر ایک پل تعمیر کیا اور اردگرد موجود دوسری بستیوں کے ساتھ تجارت شروع کی۔
52 قبل مسیح میں ٹائیٹس لاہینس کی سربراہی میں ایک رومی فوج نے پیرسی کو شکست دے کر یہاں رومن گیریثرن شہر قائم کیا۔ اس شہر نے تیسری صدی عیسوی میں عیسائیت اختیار کی۔ رومن سلطنت کے خاتمے پر 508 ء میں اس پر فرانس کے بادشاہ کلووس اول نے قبضہ کر کے اپنا دارالحکومت بنالیا۔
قرون وسطیٰ کے دوران پیرس یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا۔ جو ایک مذہبی اور تجارتی مرکز تھا اور گوتھگ طرزِ تعمیر کی جائے پیدائش تھا۔ تیرہویں صدی عیسوی میں پیرس یونیورسٹی اور لیفٹ بنگ اس شہر کا طرۂ امتیاز تھا۔ پندرہویں صدی میں اس پر برگنڈیوں اور انگریزوں کا قبضہ تھا۔ سولہویں صدی میں پیرس یورپ میں کتابوں کی اشاعت کا مرکز تھا۔
1789 ء میں یہاں پر انقلاب فرانس رونما ہوا۔ جسے ہر سال 14 جولائی کو ایک قومی پریڈ کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں نپولین نے اس شہر کو فوجی وقار کی یادگاروں سے آراستہ کیا۔ 1860 ء میں اس شہر کو وسیع و عریض راستوں چوکوں اور نئے پارکوں کے ساتھ دوبارہ تعمیر کر کے موجودہ حدود تک بڑھا دیا گیا اور یہی آج کا پیرس ہے۔
میں بھی کیوں کہ یورپ گھومنے آیا ہوا تھا۔ اس لیے ہمارا بھی پیرس جانا ایک فطری امر تھا۔ ناروے سے واپسی پر ہم لوگوں نے پیرس جانے کا پروگرام ترتیب دے ڈالا۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ صرف ویک اینڈ کے دو دنوں کے لیے پیرس جانا مناسب نہ ہو گا۔ کیوں کہ ساڑھے چھ سات سو کلومیٹر کے فاصلے پر جانے کے لیے اور وہاں پر گھومنے پھرنے کے لیے ویک اینڈ کے دو دن بہت کم تھے۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ جمعرات اور جمعہ کے دو دنوں کو بھی ویک اینڈ کے ساتھ ملا کر اس پروگرام کو چار دنوں پر محیط کر لیا جائے۔
جمعرات کو تقریباً ساڑھے گیارہ بارہ بجے گھر سے نکلے۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے عمیر کے دوست ذیشان بھی اپنی فیملی کے ہمراہ ہمارے ساتھ چل رہے تھے۔ ہم لکسمبرگ سے روانہ ہوئے اور اس نے یہاں سے چالیس پنتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہونا تھا۔
دونوں پارٹیاں تقریباً ساتھ ساتھ ہی گھر سے نکلیں۔ دونوں پارٹیوں نے فرانس کی ہائی وے نمبر چار پر اکٹھا ہونا تھا۔ ہم تقریباً دو ماہ پہلے فرانس سے ہوتے ہوئے سوئیٹزرلینڈ گئے تھے۔ اس وقت زمینی مناظر بہت حسین بلکہ لش گرین تھے۔ سڑک کے دونوں اطراف دور تک سرسبز و شاداب درختوں کی بہار دکھائی دے رہی تھی لیکن اب خزاں کے اثرات کافی غالب آ چکے تھے۔ خزاں رسیدہ زرد پتوں کے ساتھ درخت پژمردہ سے اور تھکے تھکے دکھائی دے رہے تھے۔ آمنہ نے احتیاطاً میرا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی ساتھ رکھ لیا تھا۔ تاکہ کوئی سرکاری یا غیر سرکاری ملازم روک ٹوک نہ کرے۔ راستے میں ایک پٹرول پمپ پر ذیشان بھی اپنی فیملی کے ہمراہ ہم لوگوں سے آن ملا۔ اس کی فیملی اس کی بیوی ایک بیٹا اور ایک چھوٹی سی گڑیا سی بیٹی پر مشتمل تھی۔ یہاں پر ہم نے یورپ کی مشہور زمانہ سیاہ کافی کا ایک ایک کپ پیا اور آگے نکل پڑے۔
شام کو تقریباً پانچ چھے بجے کے قریب ہم لوگ پیرس سے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے قصبے میں پہنچ گئے۔ ہم نے یہیں پر ایک ہوٹل میں قیام کرنا تھا اور یہیں پر رہائش رکھتے ہوئے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر پیرس آنا جانا تھا۔ ہم نے گاڑیاں ہوٹل کی ایک سائیڈ پر پارک کیں۔ سامان ڈگیوں سے باہر نکالا اور ہوٹل کی طرف چل دیے۔ میں نے اپنی دانست میں ایک اچھے سیاح کی طرح گرد و پیش کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جس کے تقریباً تمام گھر ایک ہی ڈیزائن کے بنے ہوئے تھے بلکہ اُن سب کا رنگ بھی یکساں تھا۔ سبھی گھروں کو فاختائی رنگ کیا ہوا تھا۔ یہ سب لوگ تو ہوٹل میں داخل ہو گئے لیکن میں ابھی باہر تانک جھانک میں مصروف تھا۔
سارے شہر کو ایک ہی قسم کے چھوٹے چھوٹے بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا اور یہ سارے کے سارے بلاکس قصبے میں بنائی گئی متوازی سڑکوں کے درمیان بنائے گئے تھے۔ دو متوازی سڑکوں کو ایک سڑک کے ذریعے آپس میں ملا کر اس رابطہ سڑک کے دونوں اطراف دو دو منزلہ فلیٹس بنائے گئے تھے اور اس سڑک کو دونوں اطراف سے دروازے لگا کر بند کیا گیا تھا۔ گویا کہ ہر محلے کو گیٹڈ کمیونٹی کی شکل دے دی گئی تھی۔
میں اپنے ہوٹل میں داخل ہوا جس کے اوپر (Medicis Villas) میڈیسس ولاز لکھا ہوا تھا۔ ہوٹل کا دروازہ بہت بڑے استقبالیہ ہال میں کھلتا تھا۔ وہاں پر ایک طرف ایک کاؤنٹر تھا۔ جہاں ایک خاتون رجسٹر تھامے کھڑی ہوئی تھی۔ حالاں کہ یہاں پر رجسٹروں کا کام لیپ ٹاپ وغیرہ سے لیا جاتا تھا لیکن یہاں ابھی تک پرانا نظام ہی چل رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ہال میں تین چار لوگ اور بھی موجود تھے۔ جو آہستہ آہستہ ایک دوسرے بڑے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ جو کامن روم ٹائپ کمرہ تھا اور جہاں پر چھ سات لوگ پہلے سے ہی موجود تھے اور وہاں پر پڑی ہوئی کرسیوں اور صوفوں پر براجمان تھے۔
میں ابھی کاؤنٹر پر جا کر اپنے کمرے کے بارے میں پوچھنے والا ہی تھا کہ مجھے ایک راہداری سے دو تین اور لوگ بھی اسی استقبالیہ ہال کی طرف آتے ہوئے دکھائی دیے۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ اب تک جن آٹھ دس لوگوں کو میں نے دیکھا ہے۔ وہ نہ صرف بوڑھے لوگ ہیں بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک بوڑھے ہیں یعنی بہت ہی بوڑھے ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق ان میں سے اکثر کی عمریں سو سال سے تجاوز کرتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ اس استقبالیہ ہال میں تین راہداریاں کھلتی تھیں اور تینوں میں ہی ایسے بزرگ اپنے اپنے سہاروں پر چلتے ہوئے اسی طرف آرہے تھے۔ کسی کے پاس وہیل چیئر تھی اور اس نے وہیل چیئر کو پیچھے سے پکڑا ہوا تھا اور اس کا سہارا لے کر چلا آ رہا تھا۔ کوئی وہیل چیئر کے اوپر بیٹھا ہوا تھا اور اس کو پاؤں کی مدد سے چلاتا ہوا آ رہا تھا۔ کوئی اسی وہیل چیئر پر بیٹھا اُسے ہاتھوں کی مدد سے حرکت دے رہا تھا۔ بعض لوگوں نے سہاروں کے لیے سٹینڈ پکڑے ہوئے تھے اور وہ سٹینڈ بھی مختلف اقسام کے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ ہر فرد کو اس کی معذوری کی مناسبت سے چلنے کا سہارا فرداً فرداً ڈیزائن کر کے دیا گیا ہے۔
اب مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہر نیا نظر آنے والا بابا پہلے والوں کی نسبت بڑا بابا ہے اور آخر میں تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں ان بابوں کی بجائے ان کے شائبے سے دیکھ رہا ہوں۔ پتہ نہیں کیوں ان لوگوں کو دیکھ کر مجھے فرسٹ ائر کلاس میں پڑھا ہوا اُردو کا ایک شعر اور ہمارے اُردو کے اُستاد محترم ایم ڈی اسلم صاحب کی اس شعر کی کی گئی تشریح یاد آ گئی۔ جو کچھ یوں تھا کہ
کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے راہنما کرے کوئی
اس کی تشریح انہوں نے کچھ یوں فرمائی تھی کہ سکندر دُنیا کا بادشاہ تھا اور اس کے زمانے میں ایک روایت زبان زدِ عام تھی کہ دنیا میں کسی جگہ پر آب حیات کا ایک ایسا چشمہ موجود ہے جس کو اوپر سے دو پتھروں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ جو ہر لمحہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ پھر علیحدہ ہو جاتے ہیں اور پھر آپس میں ٹکراتے ہیں اور اسی درمیانی وقفے میں اُن کے درمیان موجود پانی کو حاصل کر کے اگر کوئی شخص اُسے پی لے تو پھر وہ لافانی ہو جاتا ہے اور اُسے موت نہیں آتی اور اس کے بارے میں صرف حضرت خضر علیہ السلام کو علم ہے جو نہ صرف دنیا میں زندہ سلامت موجود ہیں بلکہ قیامت تک موجود رہیں گے۔
اب سکندر اعظم کیوں کہ تمام دنیا کا بادشاہ تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ حضرت خضرؑ کو ڈھونڈ کر اس کے پاس لایا جائے۔ اس کے حکم کی تعمیل ہوئی اور حضرت خضرؑ کو ڈھونڈ کر بادشاہ سلامت کے حضور پیش کر دیا گیا۔ بادشاہ نے اُن سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ میں تو دنیا کے چپے چپے سے واقف ہوں اور مجھے آب حیات کے چشمے کے بارے میں بھی علم ہے۔ آئیں میں آپ کو وہاں پر لے چلتا ہوں لیکن باہم ٹکراتے ہوئے دونوں پتھروں کے درمیان موجود چشمے سے پانی آپ خود حاصل کریں گے۔ میں آپ کو صرف چشمہ دکھا سکتا ہوں باقی سارا کام آپ خود ہی کریں گے۔ چناں چہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو کر آب حیات پر پہنچ گئے۔
سکندرِ اعظم کو اس آب ِ حیات کے چشمے کے اطراف انسانی وجود کے کچھ شائبے سے کچھ واہمے سے کچھ لکڑی نما ہڈیوں کے ڈھانچے سے دکھائی دیے۔ اس نے پانی پینے سے پہلے حضرت خضرؑ سے دریافت کیا کہ یہ اردگرد کچھ ہے یا میرا وہم ہی ہے تو حضرت خضرؑ نے جواب دیا کہ یہ آپ کا وہم نہیں ہے یہ زندہ سلامت وہ لوگ ہیں جو آبِ حیات پی چکے ہیں۔ اب قیامت تک موت تو انہیں آئے گی نہیں اور ان کی زندگی کی مدت ختم ہو چکی ہے اس لیے یہ زندگی اور موت کے درمیان قیامت تک اسی حالت میں ہی رہیں گے۔ چناں چہ اُن کو دیکھ کر سکندر نے عبرت پکڑی اور اسی طرح ہی واپس آ گیا۔
مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میرے چاروں طرف ایسے ہی بابے بکھرے ہوئے ہیں۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ ہم تو یہاں ہوٹل میں ٹھہرنے کے لیے آئے تھے یہ کیسا ہوٹل ہے جہاں کے مکین سارے کے سارے ہی بوڑھے بابے ہیں کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آمنہ اور عمیر مجھ سے تنگ آ کر مجھے بھی یہاں بھرتی کروانے کے لیے لائے ہوں اور مجھے یہاں چھوڑ کر خود رفو چکر ہو گئے ہوں۔ کبھی اس سازش کے پیچھے مجھے ڈاکٹر ارشد کا ہاتھ نظر آتا کہ کہیں اس نے ان لوگوں سے کوئی ملی بھگت نہ کر لی ہو۔ میں ابھی انہیں خدشات میں ڈوبا ہوا تھا کہ عمیر مجھے تلاش کرتے کرتے یہاں آ پہنچا اور مجھے دیکھتے ہی بولا کہ انکل آئیں میں آپ کو لینے آیا ہوں۔ میں اس کے ساتھ اپنے کمرے میں آیا تو میں نے دیکھا کہ یہاں پر مروجہ طریق کار کے برعکس ہمارے قیام کے لیے ایک چھوٹے سے کمرے کی بجائے ایک کشادہ اپارٹمنٹ موجود ہے۔ جس میں ایک کشادہ بیڈروم ایک وسیع ٹی وی لاؤنج، ڈائننگ روم اور ضرورت کی اشیاء سمیت ایک کچن موجود تھا۔
عمیر نے وضاحت کی کہ ہم نے اس جگہ کا انتخاب صرف رہائشی جگہ کی کشادگی کی وجہ سے کیا ہے۔ یہ پورا ہوٹل تقریباً ایک ڈیڑھ ایکڑ پر مشتمل تین منزلہ وسیع و عریض عمارت پر مشتمل تھا۔ جس کا ایک حصہ اولڈ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتا تھا جس کا مشاہدہ میں ہوٹل میں داخل ہوتے ہوئے کر چکا تھا۔ اس کے علاوہ یہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں اپارٹمنٹ موجود تھے۔ ان میں کچھ اپارٹمنٹ تو لوگوں کی ملکیت تھے۔ جن میں وہ رہ رہے تھے یا انہوں نے ویسے ہی رکھے ہوئے تھے۔ اُن اپارٹمنٹس پر اُن لوگوں کے مالکان کے نام کی تختیاں لگی ہوئی تھیں اور کچھ اپارٹمنٹس ہوٹل کے کمروں کے طور پر کرائے پر دیے جاتے تھے۔
یہ دراصل ایک ویلفیئر پراجیکٹ تھا جہاں پر موجود اولڈ ہاؤس کے تمام اخراجات انہی اپارٹمنٹس کے کرائے سے ہی پورے کیے جاتے تھے۔ اولڈ ہاؤس میں بھی ہر مکین کے پاس ایک ایک اپارٹمنٹ تھا ایک بہت بڑا ہال کمرہ بطور ڈائننگ روم استعمال ہوتا تھا۔ جس میں ایک میز کے گرد چار چار کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ اُن کے لیے ایک بڑا کامن روم تھا جہاں وہ بیٹھے سارا دن گپ شپ کرتے رہتے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے ملازمین بھی موجود تھے اور یہ سارے اخراجات اسی ہوٹل کی آمدنی سے ہی پورے کیے جاتے تھے۔
ہم نے یہاں ایک ڈیڑھ گھنٹہ آرام کیا اور اس کے بعد پیرس کی طرف چل دیے۔ پہلے ہم نے وہاں پر ایک انڈین ہوٹل سے کھانا کھانا تھا۔ وہ ہوٹل اندرونِ شہر تھا جہاں سڑکیں بھی تنگ تھیں اور ٹریفک کا تو ایک اژدھام تھا۔ جو ان سڑکوں پر رواں دواں تھا۔ بہرحال کافی دیر کے بعد اسی ٹریفک میں رینگتے ہوئے ہم اپنے مطلوبہ ہوٹل پہنچ گئے۔ اب یہاں پر وہی پارکنگ والا پرانا مسئلہ اپنی جگہ موجود تھا۔ بڑی مشکل سے ایک جگہ میں گاڑی گھسیٹر دی۔ اتنی دیر میں ذیشان بھی اپنی گاڑی کھڑی کر کے ہمارے پاس پہنچ چکا تھا۔
ہوٹل میں کافی رش تھا ویٹر کو بتایا تو اس نے ایک کونے میں دو میزوں کو اکٹھا جوڑ کر ہمارے بیٹھنے کے لیے جگہ بنا دی۔ یہاں سے روایتی دیسی کھانا کھایا جس میں تکے، سیخ کباب اور مٹن کڑاہی شامل تھی۔ کھانا کھانے کے بعد ہم ایفل ٹاور آ گئے۔ یہاں پر اندر داخل ہونے والوں کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ ہم بھی اسی لائن میں شامل ہو کر اندر داخل ہو گئے۔ رات ہو چکی تھی۔ رات کے اندھیرے کے ساتھ دھند بھی شامل ہو گئی تھی اور ٹاور کا بڑا حصہ اس دھند میں دھند لایا ہوا تھا۔ لوہے سے بنا ہوا 1063 فٹ اونچا یہ ٹاور دریائے سین کے کنارے واقع ہے۔ اس کا نام ایفل ٹاور اس کو ڈیزائن کرنے والے انجنیئر گستاف ایفل کے نام پر رکھا گیا ہے۔
ہم کافی دیر یہاں گھومتے پھرتے رہے۔ رات تقریباً گیارہ ساڑھے گیارہ بجے جب کہ سردی بھی بڑھ چکی تھی۔ ہم اپنے ہوٹل میں واپس آ گئے۔ پیرس کی رونقیں اس وقت بھی پورے عروج پر تھیں۔
یورپ میں عام طور پر سورج غروب ہونے کے ساتھ زیادہ تر لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہو جاتے ہیں لیکن پیرس میں لوگوں کا اسی طرح ہی رش تھا جیسے کہ لاہور میں ہوتا ہے۔ ویسے بھی جس طرح لاہور کے بارے میں مشہور ہے کہ پاکستان میں جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ اسی طرح پیرس کے بارے میں مشہور ہے کہ جس نے پیرس نہیں دیکھا اس نے یورپ نہیں دیکھا۔


