پابندیوں سے ٹیکنالوجی کا راستہ روکنا ممکن نہیں
پاکستان میں انٹرنیٹ میں رکاوٹ اور سوشل میڈیا پر کنٹرول کی صورت حال حکومت کے لیے شدید پریشانی و بدحواسی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ اپوزیشن کے علاوہ اب حکومت کی اتحادی پیپلز پارٹی نے بھی قومی اسمبلی کی آئی ٹی کمیٹی کے اجلاس میں اس سرکاری موقف کو مسترد کیا ہے کہ ملک میں انٹر نیٹ سست رو نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کے جدید دور میں پابندیوں کے فرسودہ نظام سے رائے یا معلومات کی فراہمی پر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔
قومی اسمبلی کی آئی ٹی کمیٹی کے اجلاس کے دوران آئی ٹی کی وزیر مملکت شازا فاطمہ خواجہ نے البتہ ارکان کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سہولتوں میں کوئی کمی نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس سلسلہ میں مخالفانہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ انٹرنیٹ کی سہولتوں اور سپیڈ میں کمی کی وجہ سے ملک کو بہت مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اور آئی ٹی کی سہولتیں و سروسز ایکسپورٹ کرنے والی بہت سی چھوٹی بڑی کمپنیاں شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اس لیے بھی غلط ہے کیونکہ صرف گزشتہ یک ماہ کے دوران آئی ٹی سیکٹر میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی ہے۔
اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے وفاقی وزیر مملکت آئی ٹی کے دعوے کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زمینی سطح پر لوگوں سے رابطہ کیا جائے اور معلومات لی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی کمی یا اس کی سپیڈ کم ہونے کی وجہ سے بہت سی کمپنیوں کو شدید نقصان و مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ دریں حالات یا تو حکومت جھوٹ بول رہی ہے یا ہم غلط کہہ رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ان دو انتہائی پوزیشنز میں سے ایک ہی درست ہو سکتی ہے۔ کوئی درمیانی راستہ موجود نہیں ہے۔
حکومت کا موقف رہا ہے کہ ملک میں پروپیگنڈا روکنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے کنٹرول بہت ضروری ہیں۔ اسی لیے نہ صرف مسلسل قانون سازی ہوتی ہے بلکہ انٹرنیٹ کی سپیڈ کنٹرول کر کے یا اس کی بندش سے اور سوشل میڈیا کے مختلف ایپس پر پابندیاں لگا کر صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شازا فاطمہ خواجہ نے آئی ٹی کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پک فوج کے ایک سو کے قریب جوان دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کے ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں ہے جو دوسرے ممالک میں رونما نہ ہوتی ہو۔
یہ مباحث اپنی جگہ پر اہم ہوسکتے ہیں لیکن شازا فاطمہ خواجہ پہلے بھی ایسے موقف اختیار کرتی رہی ہیں جو حقائق سے برعکس ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹی رہی ہیں۔ بعض اوقات ان کے ایسے بیان بھی سامنے آتے ہیں جس سے یہ واضح نہیں ہو سکتا کہ اصل میں وہ ٹیکنیکل مجبوری یا کسی دوسرے عذر کی بنیاد پر مسئلے کی نشاندہی کر رہی ہیں یا تسلیم کر رہی ہیں کہ حکومت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے جن سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور آئی ٹی کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار بھی انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ پاکستان کو انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والی سب میرینز میں کچھ نقص تھا جس کی مرمت کا کام ہو رہا ہے۔ اسی لیے انٹرنیٹ کے مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ گویا ایک طرف ان کا موقف تھا کہ انٹرنیٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ آئی ٹی ایکسپورٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تو دوسری طرف وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ بعض ٹیکنیکل مسائل کے وجہ سے انٹرنیٹ میں کمزوری دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری ترجمان کے اپنے بیان میں یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس کے پاس اصل میں اس صورتحال میں کوئی مناسب جواب نہیں ہے۔
ایک طرف وہ بہت شدید بدحواس اور پریشان ہے کہ کیسے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر کنٹرول کے ذریعے ایسے پروپیگنڈے کا قلع قمع کرے جسے حکومت ریاست دشمنی پر مبنی سمجھتی ہے۔ ان میں کسی ایڈیٹوریل کنٹرول کے بغیر کام کرنے والے یوٹیوبرز یا ایسے پرائیویٹ گروپ شامل ہیں جو جھوٹ پھیلانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ ایسے جھوٹے پروپیگنڈے سے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز لب و لہجہ اور زبان استعمال کی جاتی ہے۔ جھوٹی خبریں عام کی جاتی ہیں۔ حکومت انہیں کسی بھی صورت کنٹرول کرنا چاہتی ہے لیکن اس سے حکومتی موقف میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ صورت حال قابل عمل بھی نہیں ہے۔ حکومت کو کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس سے آج کے زمانے میں کم از کم انٹرنیٹ کی سہولت میں بہتری کے امکانات پیدا ہوں۔ انٹرنیٹ کی خرابی یا کمزور دستیابی معاشی لحاظ سے بھی شدید نقصان دہ ہوگی۔
اس کی تصدیق حال ہی میں سامنے آنے والی ایک عالمی تنظیم ٹاپ 10 وی پی این ڈاٹ کام کی طرف سے انٹرنیٹ کی سہولت کے حوالے ایک جائزہ سے بھی ہوتی ہے۔ اس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو پچھلے ایک سال کے دوران انٹرنیٹ کی سہولتوں میں کمی اور سوشل میڈیا ایپس پر کنٹرول کی وجہ سے ایک ارب 62 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس کمپنی یا تنظیم کے جائزے کے مطابق 1 ارب 34 کروڑ کا نقصان صرف ایکس پر پابندی کے وجہ سے ہوا ہے جو پاکستان میں اس سال فروری سے لگائی گئی ہے۔ پاکستان میں بعض صارفین ایکس کی سہولتوں کو وی پی این کے ذریعے استعمال کرتے ہیں لیکن اس پر بھی کئی طرح کی قدغن لگا کے اس ایپ کو استعمال کرنے میں مشکل پیدا کی جا رہی ہے۔ اس طرح پاکستان انٹر نیٹ پر پابندی لگانے اور نقصان اٹھانے والے ممالک کی فہرست میں سب سے نمایاں ہو گیا ہے۔ ملک میں انٹرنیٹ پر بندش کی وجہ سے حکومت کو بھاری مالی نقصان حکومت اٹھانا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے دنیا بھر میں انٹر نیٹ کنٹرول سے ہونے والے کل نقصان کا تخمینہ 7 ارب 69 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔
اس صورت حال میں حکومت کو یہ بنیادی فیصلہ کرنا ہے کہ آج ٹیکنالوجی کے زمانے میں وہ کیسے پابندیاں لگا کر ملک کو معاشی لحاظ سے ترقی دلانے کا مقصد پورا کرسکے گی۔ وزیراعظم نے حال ہی میں ’اڑان پاکستان‘ کے نام سے معاشی منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس میں آئی ٹی کے شعبے کو ترقی دینا اور اس کی حوصلہ فزائی کرنا سر فہرست ہے۔ حکومت اگر آئی ٹی شعبے کو ترقی دینا چاہتی ہے اور اس کے ذریعے معاشی ترقی کا خواب دیکھا جا رہا ہے تو اسی شعبہ پر پابندیوں کے ذریعے اس کا راستہ روکنا کسی لحاظ سے بھی کوئی دانشمندانہ اور قابل عمل منصوبہ نہیں ہو سکتا۔
حکومت کو دو سادہ باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کا زمانہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ پابندیاں لگانے کا طریقہ فرسودہ، ناکارہ اور غیر پیداواری ہے۔ یا کم از کم پاکستان میں جیسے پابندیوں سے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ ناقابل عمل ہے۔ یہ پرانے زمانے کا طریقہ ہے، جب اخبار میں سنسرشپ کے ذریعے خبر چھپنے سے رکوا دی جاتی تھی۔ اب خبر صرف اخبارات یا ٹی وی چینلز کے ذریعے ہی فراہم نہیں ہوتی بلکہ سوشل میڈیا کے بے شمار میڈیم خبر پھیلا رہے ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود خبر کسی نہ کسی ذریعے سے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے بلکہ پابندی کا سامنا کرنے والی خبر کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب کسی خبر کو جھوٹ کہہ کر روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسے پھیلانے والے عناصر اس پابندی کو اپنے حق میں استعمال کر کے اپنے ’جھوٹ‘ کو حقیقی سچ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ باور کراتے ہیں چونکہ حکومت ایک خاص خبر کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کا مطلب یہ ہے اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ہے۔
اس لیے حکومت کو ایک تو یہ بات سمجھنے کے ضرورت ہے کہ ٹیکنالوجی کا مقابلہ پرانے طریقوں سے اور پرانی پابندیوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مقابلہ مزید معلومات، شفافیت اور فراخدلی سے ہی ہو سکتا ہے۔ اسی معاملے کا یہ پہلو بھی بے حد اہم ہے کہ پاکستان میں نام نہا جمہوری نظام کام کر رہا ہے۔ ملک میں حالیہ انتخابات کے ذریعے جو حکومت اقتدار میں آئی ہے، اگرچہ متعدد پارٹیوں کو اس سے بے بیشمار اختلافات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے جمہوریت کے نام پر حکومت کرنے والے عناصر کو عوام کی خواہشات و ضرورتوں کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ انتخابی عمل سے قائم ہونے والی کوئی حکومت اگر غیر مقبول فیصلے کرتی ہے اور ایسی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جنہیں عام طور سے ناجائز اور غیر ضروری سمجھا جاتا ہے تو ایسی حکومت اپنے اختیار سے محروم ہوتی چلی جائے گی۔
کوئی حکومت نہ تو جدید ٹیکنالوجی کا راستہ روک سکتی ہے اور نہ ہی عوام کی مرضی کے خلاف فیصلے نافذ کر کے اپنے عوام میں مقبولیت قائم رکھ سکتی ہے۔ ملک میں معاملات کو ’کنٹرول‘ کرنے کے شوق میں حکومت کو ان دو پہلوؤں پر خاص طور سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔



میرا تعلق کسی سرکاری ادارے سے نہیں ہے
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوگیا اس میں بے انتہا خامیاں ہیں۔
میں نے اس پوری رپورٹ کے حصے بخرے کئے ہیں۔
میرے گھر میں پورے سال ایک گھنٹہ بھی ایسا نہیں گزرا جب انٹرنیٹ بند ہوا ہو۔
جب کہ 8 فروری ہو یا دس محرم یا 26 نومبر اس رپورٹ کے مطابق میرے علاقے میں انٹرنیٹ بند تھا۔
رپورٹ خود مانتی ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے اعداد hypothetical ہیں۔
–
جہاں تک آپ کا دعوی ہے کہ پابندیوں سے ٹیکنالوجی کا راستہ روکنا ممکن نہیں۔ یہ ایک حد تک صحیح بھی ہے اور غلط بھی۔
–
بہرحال اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اگر ٹوئٹر یا فیس بک یا یو ٹیوب یا انسٹا گرام یا واٹس ایپ کسی ایک کی بھی سہولت عارضی طور پر بھی بند ہو یا مکمل طور پر۔۔۔۔۔۔ بھاٹا ریٹ فی دن معاشی نقصان۔۔۔۔۔ 4 ملین 2 لاکھ ڈالر فی ایپ ممکن ہے (یعنی کسی ایک کی وجہ سے) اگر یہ پانچوں بند ہونگی تو صرف انکا اثر 21 ملین ڈالر یومیہ ہوسکتا ہے۔ اس کے مطابق ٹوئٹر یوٹیوب فیس بک سب کے نقصان برابر ہیں۔
–
یہ رپورٹ اسی تناظر میں فرض کرتی ہے کہ چونکہ ٹوئٹر 319 دن سے بند ہے اس لئے پاکستان کو ایک ارب 300 ملین ڈالر تک کا نقصان ممکن ہے ہوا ہو۔ جب کہ میرا ماننا ہے کہ اگر کسی نے ٹوئٹر استعمال کرنا ہو تو کس نے وی پی این کے استعمال سے روکا ہے ؟
–
چاہیں تو مفت استعمال کریں یا چند ڈالر ماہانہ کے عوض۔ سب ممکن ہے اور نہ پہلے غیرقانونی تھا اور نہ اب ہے۔
–
دوسری طرف لطف دیکھیں کہ چین جہاں ٹوئٹر موجود ہی نہیں وہاں کا ٹوئٹر کی وجہ سے خسارہ صفر ہے۔
–
یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ میں ٹوئٹر استعمال نہیں کرتا لیکن جب وی پی این بھی عارضی طور پر پاکستان میں بند ہوئے تھے تب بھی مجھے ٹوئٹر کی سہولت حاصل تھی !
–
بہرحال یہ اعداد غلط ہیں یہ اور بات کہ سرکاری اہل کار اتنے نااہل ہیں کہ وہ معاملے کو سنبھال نہیں پارہے۔
–
اگر وجاہت بھائی اصرار کریں تو میں ایک مضمون لکھ سکتا ہوں اس معاملے پر۔
یہ رپورٹ فرضی طور پر دعوی کرتی ہے کہ پاکستان میں اگر انٹرنیٹ سارا دن بند ہو تو معاشی نقصان 53 ملین ڈالر یا 15 ارب روپے یومیہ ہوگا۔ یہ اعداد محض ممکنہ یا فرضی ہیں۔
واضح رہے اسی ویب سائٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان کا انٹرنیٹ کی وجہ سے ممکنہ معاشی نقصان 237 ملین ڈالر رہا تھا۔
–
اصولاً دیکھا جائے تو یہ یعنی 2023 کا نقصان 2024 کے نقصان سے بھی زیادہ تھا۔
پچھلے سال 2024 میں کل ممکنہ نقصان 1.62 بلین ڈالر رہا (اگر اس میں سے ٹوئٹر کا حصہ 1.4 بلین ڈالر منہا کردیا جائے) تو 220 ملین ڈالر بنتا ہے۔
اس رپورٹ سے پاکستان کی ساکھ کو وہی نقصان پہنچایا ہے جو غلام سرور وزیر ہوابازی کے بیان سے پی آئی اے اور پاکستان کو پہنچا تھا۔ ٹوئٹر کے پاکستان میں استعمال نہ ہونے سے کون سی قیامت اجاتی ہے؟
–
ممکن ہے اس میں پیچھے کسی کا ہاتھ ہو تاکہ پاکستان کی آئی ٹی سروس کی وجہ سے ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکے۔
–
اس رپورٹ میں ایک اور زبردست خامی یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ٹوئٹر کے متاثرہ صارف آٹھ کڑوڑ تیس لاکھ بتائے گئے ہیں۔ بچارا ایلون مسک خوشی سے مرنہ جائے گا ؟