حقوق نسواں کی پامالی: مسلم خواتین پر قدغن
نئے سال کی آمد سے پہلے 31 دسمبر 2024 کی آخری شب کے آخری پہر، سوئٹزرلینڈ نے برقعہ پر پابندی نافذ کر دی۔ جس نے سماجی ہم آہنگی، ثقافتی آزادی کے ساتھ ساتھ ریاستی آزادی کی حدود پر سوال کھڑا کیا ہے۔ مکمل چہرہ ڈھانپنے والے نقاب یا برقعہ پہننا خواتین کا بنیادی حق ہے۔ لیکن سوئٹزرلینڈ میں پابندی پورے یورپ کی مسلم خواتین کو متاثر کر سکتی ہے۔ اور اس قانون کی خلاف ورزی کی سزا 1000 سوئز فرانک جو تقریباً 3,07,700 پاکستانی روپے بنتے ہیں جرمانے کی صورت ادا کرنے ہوں گے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے ایک ایسا ملک جو کبھی غیرجانبداری اور جمہوریت کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لئے مشہور تھا، یہ اقدام خواتین کی معاشرتی آزادی اور قانونی ضوابط کو عملی جامہ پہنانے کے الحاق میں مسلسل کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔
اس قدغن کی بنیاد 2021 کے ایک ریفرنڈم پر ہے جس میں 51 فیصد سوئس شہریوں نے پابندی کے حق میں ووٹ دیا تھا سوئس پیپلز پارٹی (SVP) کے اس قدام کی وجہ سوئز ثقافت کو مسلم کلچر پر جبری تھوپنا ہے، تاکہ جدّت کے دائرہ کار کو واضح کیا جا سکے اور سوئز ثقافت کو فروغ ملے۔ ناقدین کی رائے میں مسلم خواتین کے پردے کے متعلق عقائد اور ان کی ذاتیات میں دخل دینا غیر آئینی ہے۔ اس طرح کے متضاد قانون اور مغربی ممالک میں مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنے سے اشتعال انگیزی میں اضافہ ہو گا اور حکومتی مشینری مستقبل قریب میں مشکلات کا شکار ہوگی۔ قومی سطح پر ووٹنگ سے منظور ہونے والے اس قانون کے مختلف پہلوؤں کو جائز تو بنایا ہے جس میں پبلک اور پرائیویٹ جگہوں پر اس قانون کا نفاذ ہو گا لیکن اس کے عمل سے نفرت ہی بڑھے گی۔ لیکن طبی حالات، مذہبی مقاصد، موسمی حالات یا غیر سماجی تقریبات کے تحت کچھ رعایت کی امید ہے۔ اس قانون کو فرانس، بیلجیم اور دیگر یورپی ممالک میں موجود قوانین کی نقل کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں ایسے اقدامات مظاہروں اور عدالتوں کے کیسز کا باعث بنے ہیں۔ ایسے قوانین نے معاشرے میں مذہبی آزادی اور کثیر الثقافتی انضمام کے مسئلے پر یورپی ممالک کے لئے کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔
فی الوقت اس قانون سے متاثر ہونے والے سوئٹزرلینڈ میں مسلمان کم تعداد میں ہیں لیکن ملک کے تمام علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ 2019 میں وہ کینٹونز جہاں مسلمانوں کی سب سے زیادہ شرح تھی، باسل۔ سٹڈٹ ( 8.17 %) ، گلارس ( 7.72 %) ، اور سولوتھرن ( 7.63 %) تھے، جبکہ زیورخ اور جنیوا میں یہ شرح بالترتیب 6.49 % اور 6.24 % تھی۔ تاہم، ان کینٹونز میں صرف جنیوا کی مسلم آبادی سوئس اوسط ( 5.40 %) سے زیادہ تھی۔ سوئٹزرلینڈ میں مسلمان زیادہ تر سابق یوگوسلاویہ ( 56.4 %) ، ترکی ( 20.2 %) اور افریقہ ( 6 %) سے آئے ہوئے تارکینِ وطن ہیں۔ جن کی کل آبادی میں مقامی مسلمان صرف 7 سے 10 ہزار کے درمیان ہیں۔
پھر بھی، سوئٹزرلینڈ میں موجود تمام مسلم خواتین برقعہ نہیں پہنتی ہیں۔ یہ عمل مسلمان قدامت پسندوں کی ایک اقلیت ہے۔ بالخصوص سلفی اور کچھ ایرانی نژاد شیعہ ہیں۔ اس صورتحال میں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا برقعہ مسلم حقوقِ نسواں کے لئے ایک ہتھیار بن سکتا ہے تاکہ ایسی پابندیوں کے خلاف لڑا جا سکے؟ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف سوئٹزرلینڈ بلکہ پورے یورپ و امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بڑھتے ہوئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ پہلے ہی مسلم برادری خانہ جنگی اور معاشی و سماجی بحران کا شکار ہیں جس میں فلسطین کا بحران، سوڈان کے فسادات اور عرب اسپرنگ جیسے وسیع سماجی و سیاسی مسائل سے نمٹ رہی ہیں۔ مسلم خواتین کے پردے پر پابندی جیسے اقدامات مسلمانوں کے قانونی حقوق ضبط کرنا، ان سے امتیازی سلوک روا رکھنے کی واضح دلیل ہے۔ اپوزیشن جماعت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حل نا نکالا گیا تو اس طرح کا قانون ملکی صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
اس کالے قانون کے حامیوں کے پاس صرف وہی پرانا سیکیورٹی کا راگ الاپنا ہے تاکہ چوکی پہرے کے نظام کو بہتر کیا جا سکے اور مسلم خواتین کا پردہ کرنا انہیں عوامی تحفّظ سے روکتا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر حملہ اور سوئس حکومت سے نفرت معاشرے کی تقسیم کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ اور اس قانون کی تپش فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ سیکولرازم اور قومی شناخت کے حامیوں کی حکمت عملیوں پر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے الزامات لگے اور مسلم اقلیت غم و غصّے کا شکار ہیں۔
مغربی حکومتوں کے ایسے اقدام ان کے اپنے عوام کو تقسیم کر رہے ہیں۔ اور سماجی یکجہتی پر کاری ضرب کی مانند ہیں۔ یورپی ممالک مسلم خواتین سے ہتک آمیز رویّے کے ساتھ نئے سال میں داخل ہوئے ہیں، جہاں انفرادی اور اجتماعی شناخت کا تصادم ہو رہا ہے اور سوئٹزرلینڈ بیچ چوراہے پر کھڑا ہے۔ اس قانون کا اثر یورپ تک محدود نا رہے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنتا رہے گا۔
جیسے جیسے سوئٹزرلینڈ اس قانونی نفاذ میں آگے بڑھے گا نتائج کا دائرہ کار وسیع و غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس سے سماجی ہم آہنگی بگاڑ کا شکار ہوگی اور تفریق کا عمل تیز ہو گا۔ لیکن اس کا امکان کم ہے کہ ثقافتی انضمام قانونی کے ساتھ الحاق کر پائے جو بنیادی طور پر متضاد نظر کا حامل ہے۔
فی الوقت تو سوئٹزرلینڈ مسلم خواتین کے انفرادی حقوق اور اجتماعی شناخت کے درمیان قانونی اور عملی چیلنجوں کے دوراہے پر ہے۔ اس خطرناک تجربے کا باؤنس بیک شدید بھی ہو سکتا ہے اور ہتک آمیز بھی جو نا صرف سوئٹزرلینڈ میں مسلم کا مستقبل تاریک کر سکتا بلکہ ان نئے تارکین وطن کو کسی اور ملک کی طرف گامزن کرے گا جہاں ان کی خواتین انفرادی و مذہبی آزادی کے ساتھ رہ سکیں۔


