غم و شادمانی کا ازلی امتزاج


شب کے گہرے سکوت میں، بسا اوقات قلب کی دھڑکنیں یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے کسی ویرانے میں گریزاں ہوا کے سرسراہٹ بھرے جھونکے، جو اپنے ساتھ ایک اسرار آمیز پیام لاتے ہیں۔ انہی لمحوں میں، رنج و سرور کی ایک عجیب سی ہم آہنگی دل کے نہاں گوشوں میں نمو پاتی ہے۔ شاید یہی حیات کا سب سے پراسرار راز ہے کہ متضاد جذبات کو ایک ہی قلب میں پنپنے کی صلاحیت ودیعت کی گئی ہے۔

میرے سامنے حالیہ ایام کی یادیں کسی دھندلائے آئینے کی طرح ابھرتی ہیں، جہاں 2019 کے بعد کی دنیا ہر فرد کو الم و مسرت کے ایک انوکھے امتزاج سے روشناس کروا چکی ہے۔ اس وبائی عہد کی خوفناک تیرگی میں، جب موت کی منحوس پرچھائیاں ہر سمت چھائی ہوئی تھیں، میں نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جب ایک نوزائیدہ طفل، اسپتال کے بے رونق ماحول میں اپنی پہلی سانس لے رہا تھا۔ اُس کی والدہ کی آنکھوں میں مسرت کے آنسو تھے، مگر ہونٹوں پر ارتعاش پذیر دعاؤں کے ساتھ، ایک مضطرب غم کی گہری چھاپ بھی نمایاں تھی، جو اس بچے کے غیر یقینی مستقبل پر سوالیہ نشان تھی۔

یہی حیات کا المیہ ہے ؛ ہر سرور کی تہہ میں حزن پوشیدہ ہوتا ہے، اور ہر حزن کی پشت پر امید کی ایک مدھم کرن چمکتی ہے۔ یہ حقیقت اس وقت اور بھی مبرہن ہوتی ہے جب گرد و پیش کی دنیا پر نگاہ ڈالی جائے۔ فلسطین کے معصوم بچے جو کھنڈرات کے بیچ کھیلتے ہیں، ان کی ہنسی الم کی گہرائی سے جدا نہیں۔ ان کے تبسم میں ایک ایسی خاموش پکار پوشیدہ ہے، جو اجڑے دیار کی المناک داستان بیان کرتی ہے۔

یہ حیات کے ایسے لمحات ہیں جو دل پر نہایت گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ ایک جانب، مسرت کی لطافت قلب کو روشنی سے منور کرتی ہے، تو دوسری جانب، الم کی تلخ نوائی انسان کے اندرون کو بے دردی سے زخمی کرتی ہے۔ یہ دونوں کیفیات ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں، جیسے ماہتاب کی چمک بادلوں کی رفاقت کے بغیر بے معنی ہو۔

مجھے وہ لمحہ کبھی نہیں بھولتا، جب میں نے اپنی والدہ کو اپنی بہن کی قبر پر گلاب نچھاور کرتے دیکھا۔ اُن کے چہرے پر ایک عجیب طمانیت تھی، گویا اُن کی دعا قبولیت کا شرف پا چکی ہو۔ مگر اُن کی آنکھوں کے نم گوشے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ غم کا سایہ ابھی بھی دل پر محیط ہے۔ اُس لمحے میں نے جانا کہ خوشی و غم درحقیقت روح کی دو متوازی زبانیں ہیں، جو ایک دوسرے کے بغیر اپنی مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتیں۔

گزشتہ ویک اینڈ پر رنج و سرور کی عجیب و غریب آمیزش کا تجربہ ہوا۔ ایک طرف، ہفتہ کو ایک قریبی عزیز، ڈاکٹر جمیل کے برادر کی شادی کی تقریب میں شرکت کی، جہاں ڈھول کی گونج پر دلہے کے دوستوں کی مستی اور رقص کا سماں تھا۔ دوسری جانب، تھوڑی ہی دیر بعد اسی گلی سے ایک جنازہ گزرتے دیکھا، جس کے ساتھ اہلِ خانہ کی آہ و زاری دل دہلا رہی تھی۔ وقت کے کھیل بھی عجب ہیں ؛ ولیمے کے روز، خبر ملی کہ عزیزم ڈاکٹر جمیل کی دادی اماں کا انتقال ہو چکا ہے۔ ذہن گویا منتشر ہو گیا۔ کہ خوشیوں کے اس ماحول میں مسکراہٹ کو جگہ دوں یا اماں کے فراق میں دل کو سوگوار رکھوں۔

یہ زندگی ایک پراسرار آئینہ ہے، جہاں حزن کی گہرائیاں مسرت کے رنگوں کو مزید جاذبِ نظر بناتی ہیں۔ شاید ہمیں اپنے قلب کو ان دونوں کیفیات کی آماجگاہ بننے دینا چاہیے، کیونکہ یہی جذبات ہماری انسانی سرشت کا جوہر ہیں اور ہماری وجودی حقیقت کا ادراک کراتے ہیں۔

Facebook Comments HS