پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار
پرانے زمانے میں طالب علم چراغ کی روشنی میں اپنا سبق یاد کرتے تھے۔ کاروباری معاملات قلم کے ذریعے لکھے جاتے تھے اور محفوظ کرلئے جاتے تھے۔ پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور بجلی کی ایجاد سے سب سے پہلے روشنی کی ضرورت پوری ہو گئی اور پھر رفتہ رفتہ بجلی سے چلنے والے آلات ایجاد کئے گئے۔ جب ٹائپ رائٹر مشین ایجاد ہوا، جو بغیر بجلی سے چلتا تھا اور تحریر کی ضرورت کو کسی حد تک پورا کرتا تھا۔ آخرکار فوٹو سٹیٹ، لیبارٹریاں، ایکسرے، انجکشن، بے شمار ایجادات ممکن ہوئیں۔
ریڈیو، ٹیلی وژن اور کمپیوٹر کی ایجاد نے ایک طرف ابلاغ کی ضروریات پوری کردی تو دوسری طرف زندگی کی بے شمار دیگر ضروریات بھی پوری ہو گئیں۔ انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا کو گلوبل ویلج بنا دیا اور رابطے کے ساتھ ساتھ تحقیق اور مطالعے کے لئے نئے راستے کھولے گئے۔ نئے نئے ویب سائٹس اور پروگرامنگ کے ذریعے اپنا ڈیٹا، معلومات اور معاملات کمپیوٹر کے ذریعے محفوظ کیے جانے لگے، جن تک رسائی کے لئے انٹرنیٹ کا سہارا لینا پڑا۔ دورِ جدید میں انسان کے لئے خوراک، ہوا اور پانی کے بعد سب سے بڑی ضرورت انٹرنیٹ بھی بن گیا ہے۔
ایسا لگ رہا ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر انسانی زندگی تاریک سے تاریک اور مشکل سے مشکل تر ہو جاتی جا رہی ہے۔ جب انٹر نیٹ بند ہوجاتا ہے تو جو کاروبار انٹر نیٹ کی بدولت ہوتے ہیں وہ بھی متاثر ہو جاتے ہیں اور دنیا سے رابطے منقطع ہو جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں تجارت کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بہت سے کاروباری لین دین اس کے ذریعے ہی ممکن کر دئے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ کے اس بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس کو دور جدید کے چیلنجز کے مطابق بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم ابھی تھری جی اور فور جی کے پھیر سے نہیں نکلے ہیں کہ دنیا فائیو جی اور سیکس جی کے براڈ بینڈ اپنے عوام کو مہیا کر رہی ہے تاکہ ان کے طلبہ تحقیق اور مطالعے کے میدان میں آگے نکل جائے۔ دنیا کی ٹاپ کمپنیز اپنی مصنوعات انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچا رہی ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ ان کا بچہ بچہ انٹرنیٹ کے ذریعے کمائی کرتا ہے اور دور جدید کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ ان کی ریاستوں نے ان کو مواقعے فراہم کیے ہیں۔
دوسری طرف وطن عزیز میں آئے دن انٹرنیٹ کی رفتار کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔ ارباب اختیار اپنی مصلحت کی خاطر عوام سے دیگر حقوق کی طرح یہ حق بھی چھین رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر وہ عوامی رابطوں کو منقطع کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح کرنے سے عوام گوشہ جہالت میں چلے جائیں گے اور انہیں اظہار رائے کا موقع نہیں ملے گا۔ انٹرنیٹ کی موجودہ رفتار سے وطن عزیز کے تمام شعبہ ہائے زندگی تعطل اور جمود کا شکار ہیں۔
کاروبار بند پڑے ہیں۔ آن لائن کام کرنے والے تمام افراد انتہائی اذیت سے دوچار ہیں۔ ان کی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہیں، جس سے وہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ تعلیمی میدان میں نئی تحقیق اور ترقی کی بجائے ہم تاریک دو رکی طرف چلے جا رہے ہیں۔ ہماری نئی نسل کے لئے نئے راستے بند پڑے ہیں اور وہ خود کو وطن عزیز میں غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں کیونکہ ایسے حالات میں ان کا مستقبل خطرے سے دوچار ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے باصلاحیت اور قابل نوجوان وطن سے فرار ہی غنیمت سمجھتے ہیں۔
انٹرنیٹ کے بغیر انسانی زندگی ادھوری رہتی ہے کیونکہ یہ دور انٹرنیٹ کاہے اور انٹرنیٹ کے برق رفتار دور میں اپنے عوام کو تیز سے تیز تر انٹرنیٹ کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ متعلقہ حکام اور اداروں کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے کہ عوام کو سوشل میڈیا تک رسائی کے لئے وی پی این اور دیگر غیر قانونی طریقوں کا استعمال نہ کرنا پڑے۔ دنیا کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کے لئے عوام کو سستا اور تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی ناگزیر ہے۔ تیز انٹرنیٹ کے ذریعے ہماری نئی نسل تعلیم کے میدان میں ترقی کی منازل طے کر سکتی ہے اور ترقی کی دوڑ میں دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ شامل ہو سکتی ہے۔ ہمارا کاروباری طبقہ اپنی تجارت اور دیگر ضروریات انٹرنیٹ کے ذریعے پوری کر کے وطن عزیز کی معیشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔



اسلم صاحب تھوڑا زمینی حقائق پر نظر ڈال لیں۔
آپ کا دعوی ہے کہ
ہم ابھی تھری جی اور فور جی کے پھیر سے نہیں نکلے ہیں کہ دنیا فائیو جی اور سیکس جی کے براڈ بینڈ اپنے عوام کو مہیا کر رہی ہے
–
دنیا بھر میں 6 جی کی سہولت عوام کے لئے کس ملک میں مہیا ہے بتا سکیں گے ؟ یہ محض ریسرچ کے مراحل میں ہے۔
–
پاکستان 5 جی پر جاچکا ہوتا لیکن اس میں حکومت سے زیادہ موبائل کمپنیز کے مسائل سمجھنا ضروری ہے۔
صرف 4 جی کے لائسنس کے لئے ان کمپنیوں نے تین سو ملین ڈالرفی کمپنی تک ادا کئے تھے۔ آج کے کم و بیش 100 ارب روپے جس کے علاوہ ان کو نئے مشینری سافٹ ویئر اور دیگر آلات پر سرمایہ کاری بھی کرنی پڑی تھی۔ خود سوچ لیں ہر کمپنی جس نے 4 جی کا لائسنس لیا کیا انہوں نے اپنے پیسے وصول کرلئے۔ 2020 جب دنیا 5 جی پر جارہی تھی پاکستان بھی جانا چاہتا تھا لیکن غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچتا کیوں کہ 5 جی کا نیا لائسنس لینے والی کمپنیوں کو مللاجلا کر ایک ارب ڈالر تو صرف لائسنس میں دینا پڑتا اور مزید یہ کہ مشینری پر سرمایہ کاری اس کے علاوہ ہوتی۔ 5 جی کے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کا ٹاور کے سگنل کی پہنچ کم ہے یعنی کسٹمر کے لئے زیادہ تاور اور مشینری لگانی پڑے گی۔ اس سے یقیناً خرچ بڑھے گا جس کی وجہ کسٹمر کو موبائل ڈیٹا بہت مہنگا ملنا تھا جس کا نتیجہ کسٹمر کھونا تھا۔
2020 میں ممکن تھا 5 جی پاکستان میں آبھی جاتا کیوں کہ ٹیسٹنگ وغیرہ ہوچکی تھی مگر کرونا سے سب پیچھے رہ گیا اس کے بعد پچھلی حکومت جانے کے بعد ۔۔۔ جیسے ہی ڈالر بے قابو ہوا غیر ملکی کمپنیوں کا ڈالر میں نفع 30 سے 40 فی صد کم ہوگیا۔
وارد اور ٹیلی نار کے پاکستان سے جانے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ آمدنی اٹھنی اور خرچہ روپیہ ہے۔
اس وقت بھی یہ گھاٹے کا ہی سودا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ 5 جی کے لئے موبائل بھی نئے چائے ہوں گے جو بیٹری بہت استعمال کریں گے۔
–
آپ کا ماننا ہے کہ دورِ جدید میں انسان کے لئے خوراک، ہوا اور پانی کے بعد سب سے بڑی ضرورت انٹرنیٹ بھی بن گیا ہے
جناب خواراک ہوا پانی کے بعد پہلے بجلی چاہئے اس کے بعد انٹرنیٹ کی باری آئے گی۔ کئی موبائل کمپنیاں کھلے عام مہنگی بجلی افورڈ نہیں کرسکتیں اور لوڈ شیڈنگ کے دوران جنریٹر کے اخراجات ان کے قابو سے باہر نکل جاتے یہں۔ اس لئے بھی یا تو کسٹمر کو انٹرنیٹ ملتا ہی نہیں یا بے حد سست ہوجاتا ہے اور گاہک سمجھتا ہے کہ ریاست نے اس کے انٹرنیٹ کا نلکا بند کردیا ہے۔
–
آپ کا یہ بھی دعوی ہے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرے تو جناب یہ نجی شعبے کا کام ہے۔ اگر ان کو محسوس ہوا کہ نئی سرمایہ کاری سے پیسے ملیں گے تو پلک جھپکتے ہی تیز ترین انٹرنیٹ ہر وقت اپ کی پہنچ میں ہوگا۔ فی الوقت تو موجود براڈ بہنڈ کے پیسے ہی انہیں وصول نہیں ہوپارہے۔ پی ٹی اے نے اگر زیادہ دباؤ ڈالا تو ایک آدھ کمپنی اور ختم ہوجائے گی۔