دوقومی نظریہ: خلیج بنگال پہ کھڑے طعنہ زن دوستوں سے دو باتیں

دوقومی نظریہ چودہ اگست انیس سوسینتالیس کی رات ختم ہوگیا۔
جواب میں دوباتیں شد ومد سے کہی گئیں
۱۔ نظریہ ختم ہونے کے لیے نہیں ہوتا
۲۔ نظریہ ختم ہوگیا تھا تو پھر خلیج بنگال میں کیا ڈبویا جارہا تھا
پہلی بات سے اتفاق نہیں ہے۔ نظریہ ایک سیاسی موقف ہوتا ہے،عقیدہ نہیں ہوتا۔ نظریہ درپیش صورت حال کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ پیچھے مڑکر ایک نظر اگر تاریخ کے دفینوں پرڈالیں، تو دیکھا جاسکتا ہے کہ کتنے نظریے اب داستان ہوگئے ہیں۔ آگے دیکھیے، کتنے نظریے انگڑائی لے کر اٹھ رہے ہیں۔ نظریے کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ حالات کے بدلتے رنگوں کو وقت کی سب سے بڑی حقیقت تسلیم کرتا ہے۔ تسلیم نہ کرے تو وقت اسے بے رحمی سے بہا لے جاتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ دوقومی نظریے میں الہامی رنگ بھرے گئے جس کے سبب اسے کسی عقیدے کی طرح دل سے لگا گیا۔ یہ کام ازراہ ضرورت ہوا جس کا مقصد خالص سیاسی تھا۔ دو قومی نظریے کے اب دو مفہوم ہیں۔ ایک الوہی دوسرا سیاسی۔ الوہی مفہوم کچھ یوں ہے
مسلم ہندو دو الگ قومیں ہیں جو ساتھ نہیں رہ سکتیں
اور سیاسی مفہوم کچھ یوں ہے کہ
”اوپر تلے سیاسی حادثات اور امتیازی رویوں کے سبب اب ہمارے لیے ہندوستان میں رہنا ممکن نہیں رہا، اس لیے ہمیں بہردو صورت الگ ریاست درکار ہے۔”
دونوں ہی مفہوم طبعی عمر پوری کرچکے، اور دونوں کی زندگی کا جو بھی مقصد تھا وہ پورا کرچکے۔ اس کا دستاویزی ثبوت قائد اعظم محمد علی جناح کا مستند خطبہ ہے جو انہوں نے سولہ اگست انیس سو سینتالیس کی مجلس دستور ساز میں دیا۔ پورے خطبے کا خلاصہ یہ ہے کہ قائد واضح طور پر ایک نئے سمت میں نئے انداز کے ساتھ جانے کی بات کر رہے ہیں۔ مگرعملی طور پر بھی دیکھ لیتے ہیں کہ دو قومی نظریے کا الوہی مفہوم چودہ اگست انیس سو سینتالیس کی رات کیسے ختم ہوا۔ اگر اپنے طور پر اس بات کو میں سمجھنا چاہوں تو اپنے سامنے ایک سوال رکھوں گا۔ سوال کچھ یوں ہوگا کہ
”جب ہم ‘پاکستانی قوم’ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں تو کیا پاکستان میں بسنے والے ہندو شہری اس لفظ ‘قوم’ کے زمرے میں آتے ہیں؟”
اگر ہندو شہری ‘قوم’ کے زمرے میں نہیں آتے تو بحث تمام شد، اگر آتے ہیں تو پھر دو سوال پیدا ہوتے ہیں
الف: دو قومی نظریہ کہاں گیا
ب : قوم ہونے کے لیے ہم بنیاد وطن کو مان رہے ہیں یا کسی الوہی نظریے کو؟ سوال پر پھر سے غور فرمایئے
ظاہر ہے جب ہم مسیحیوں ہندووں اور سکھوں کو بھی قوم میں شامل کریں گے تو دراصل اس بات کا اقرار کریں گے کہ قومیت کی بنیاد زمین ہی ہوتی ہے۔ اب مشکل یہ ہے کہ دو قومی نظریے کو عقیدے کی طرح دل سے بھی لگا کر رکھنا ہے اور ہندو شہریوں کو قوم بھی تسلیم کرنا ہے۔ اب اس کنفیوژن کو کیسے ختم کرنا ہے، میں کیا عرض کروں، خود ہی دیکھ لیجیے۔ بس اتنا کہوں گا کہ پہلے ہمیں طے کرنا ہوگا کہ کنفیوژن ختم بھی کرنی ہے کہ نہیں۔
دو قومی نظریے کا سیاسی مفہوم بھی چودہ اگست انیس سوسینتالیس کی رات منطقی انجام کو پہنچ چکا۔ کیسے؟ وہ ایسے کہ پاکستان جو بن چکا۔ اب اگر دو قومی نظریہ موجود ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ابھی دنیا کے نقشے پہ ابھرا نہیں ہے ۔ پاکستان اگر قائم ہوچکا ہے، تو مطلب یہ ہوا کہ دو قومی نظریہ نام کی کوئی جنس اب ہمارے بیچ موجود نہیں ہے۔ اب دو قومی نظریہ کیا ہے؟ یہ اچھا سوال ہے، اس پر بات ہونی چاہِئے۔
دو قومی نظریہ اب نظریہ نہیں ہے، حربہ ہے۔ یہ طاقت کےغیرجمہوری مراکز کا حربہ ہے جواسے اپنے غیر آئینی اقدامات کوجواز بخشنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیسے؟ عرض کیے دیتے ہیں۔
ایک مثال لیجیے۔ دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کی صورت گری کیا ہوگی، یہ طے کرنے کا اختیار منتخب عوامی قیادت کا ہے۔ منتخب قیادت سمجھتی ہے کہ پاکستان کے تعلقات ہندوستان کے ساتھ خوشگوار سفارتی سیاسی اورخاص طور سے معاشی تعلقات ہونے چاہیئں۔ خطے میں استحکام، مسئلہ کشمیر کے حل اور دیگرمسائل کے حل کی طرف جا سکیں۔ لیکن طاقت کے دیگر مراکز ایسا نہیں چاہتے۔ ان کے مفاد میں ہے کہ سرحدوں پرکشیدگی رہے، ہندوستان میں مذہبی انتہا پسند ہندو برسراقتدار رہیں تاکہ مراعات کی وصولی و حصولی کا جواز برقرار رہے۔ اس کے لیے اہم یہ ہے کہ عوامی تائید اور مذہبی تصدیق شامل حال رہے۔ تاکہ منتخب سیاسی قیادت کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس تائید و تصدیق کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ دو قومی نظریہ کو مرنے نہ دیا جائے۔ یہ مرگیا تو مذہبی جذبات کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بروئے کار لانا مشکل ہوجائے گا۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب کبھی پاکستان کا کوئی سیاسی و غیر سیاسی طبقہ پاکستان ہندوستان تعلقات کی بات کرے گا تو فورا ایک سوال سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ
”اگر برہمن کے ساتھ بہتر تعلقات ہی قائم کرنے تھے تو پھر ہم ہندوستان سے الگ کیوں ہوئے؟ اور یہ کہ بہتر تعقات کی بات کرنا دو قومی نظریے سے انحراف ہے”
حالانکہ یہ بہت سیدھی اور سادہ سی بات ہے کہ دوقومی نظریے سے انحراف کا طعنہ تب ہی دیا جا سکتا ہے جب کوئی پاکستان کے وجود سے ہی انکار کر دے۔ یہاں سفارتی تعلق کی بات ہو رہی ہے۔ اور سفارتی تعلق کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ آپ آیک آزاد وخود مختار ریاست کے مالک ہیں اور اپنی شناخت کے ساتھ ایک دوسرے ملک کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ غیر جمہوری عناصر کو جاننا چاہیں گے تو میں اس کی ایک عملی مثال سامنے رکھتا ہوں، اس کو کیس اسٹڈی بنا کر آپ تاریخ کی سطروں پر الٹے قدموں چل کر حادثات و واقعات کو ایک ترتیب میں دیکھ سکتے ہیں۔ زرداری دورحکومت میں سول قیادت ہندوستان میں کانگریس حکومت کے ساتھ معاملات کو کافی بہتر رخ پر لے گئی۔ طے یہ ہوا کہ ہم انڈیا کو ایم ایف این یعنی موسٹ فیورٹ نیشن ڈیکلئیر کریں گے تاکہ بہتر تجارتی روابط فروغ پاسکیں۔ یہ سرگرمیاں جاری تھیں کہ مرحوم جنرل حمید گل صاحب کی سرکردگی میں دفاع پاکستان کونسل کا وجود عمل میں آگیا۔ اس تحریک میں قائدانہ کردار جماعۃ الدعوہ کا تھا۔ اس میں مزید جو جماعتیں شامل تھیں ان میں سر فہرست سپاہ صحابہ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (س) جہادی تنظیم انصارالامہ، جہادی تنظیم جیش محمد اور مہمان اداکار کے طور پر کشمیر کے کمانڈر صلاح الدین اور لشکر جھنگوی کے ملک اسحق شامل تھے۔ دفاع پاکستان کونسل نے دو سطری ایجنڈہ رکھا جس میں اہم یہ تھا کہ ہندوستان پاکستان کا یہ رومانس چلنے نہیں دیا جائے گا، کیونکہ ہندوستان کے ساتھ خواشگوار تعلقات دو قومی نظریے اور قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ ایجنڈے کی دوسری سطر نیٹو سپلائی روکنے کے حوالے سے تھی۔ یہ دوسری سطر صرف اور صرف مذہبی جذبات کو دوآتشہ کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔ یعنی اندازہ کیجیے کہ مرحوم جنرل حمید گل جماعت اسلامی و ہمنوا نیٹو سپلائی کے خلاف تحریک تب اٹھا رہے ہیں جب افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہے اور افواجِ عالم واپسی پر غور کررہی ہیں۔ یہ تحریک اس وقت تک چلتی رہی جب تک سول قیادت سہہ طرفہ سیاسی بحرانوں کا شکار ہوکر خاموش نہیں ہوگئی۔ جونہی یہاں خاموشی ہوئی، توں ہی وہاں دفاع پاکستان کونسل کی تحریک سمٹ کر جوتوں سمیت غیب کے پردوں میں اتر گئی۔ نیٹو سپلائی البتہ ویسے کی ویسے ہی جاری رہی جیسے کہ جاری تھی۔ کیا سمجھنے کے لیے یہ معاملہ نہایت آسان نہیں ہے؟
غیر جمہوری مراکز اور ان کے ہمنوا اٹھ کر دو ممالک کے بیچ بہتر سفارتی تعلق کی بات کرنے والوں کو غداری کا تمغہ دیتے ہیں۔ یہ تمغہ اس وقت تک کار گر ثابت نہیں ہوسکتا جب تک دو قومی نظریہ کو زندہ نہ رکھا جائے۔ یعنی دو قومی نظریہ اس وقت ملکی مفاد مقابلے میں ادارہ جاتی مفادت کے تحفظ کے سوا کوئی کردار ادا نہیں کررہا۔ اگر یہ رائے غلط ہے تو پھر خود سے ایک سوال ہونا چاہیئے کہ اگردو قومی نظریہ کسی صحیفے کی اتنی ہی سخت گیر آیت ہے تو پھر سفارتی معاملات میں یہ آیت فقط ہندو پر کیوں صادرہو رہی ہے؟ یہی آیت چین کی دہریوں امریکہ و برطانیہ کے یہود ونصاری اور روس کے ملحدوں پر صادر کیوں نہیں آتی؟
اصل بات کیا ہے؟ اصل بات قومی مفاد ہے۔ اورقومی مفاد کبھی عقیدے کے گرد نہیں گھومتا۔ اگرگھومتا، توعالم اسلام کے سب سے بڑے ہیرو طیب اردوان اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھاتے۔ سنیوں کے خلاف صفیں ترتیب دینے والا ایران طالبان شوری کو تہران میں پناہ گاہیں دیتا اور نہ ہی ہندو ریاست کے ساتھ چاہ بہار کا معاہدہ کرتا۔ مسلم مذہب پسند آبادی پر مشتمل افغانستان کا اجتماعی سیاسی و مذہبی ذہن ہندوستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان پر ترجیح نہ دیتا۔ حرمین شریفین کے خدام مصر میں اخوان المسمون کو دیوار سے نہ لگاتے، اسرائیل کے دفاع پر توانائیاں صرف نہ کرتے اور نرندرمودی کو حجاز کی تاریخ کا سب سے بڑا ایوارڈ نہ دیتے۔ استحکام اور عدم استحکام، دونوں کی وجوہات سیاسی ہوتی ہیں، اسی لیے نظریہ ایک طرف رہ گیا اور ملک کا کلمہ گو تن سے جدا ہوکرخلیج بنگال کی طرف نکل گیا۔
پوری ہمدردی کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ نوجوان بھٹکائے گئے ہیں اور واللہ بہت برے بھٹکائے گئے ہیں۔ اس پورے معاملے میں ہمیں کہیں بھی نہیں الجھنا۔ ہمیں ان جماعتوں کے ساتھ فقط ہمدردی کا مظاہرہ کرنا ہے جن کے کارکن افغان جھاد کا صلہ بے روزگاری لاوارثی اور فوجی عدالتوں کی صورت پا رہے ہیں اور کل جب سرحدوں پر کشیدگی ختم ہوگی تو جھادِ کشمیر کا صلہ یہ "کالعدم” کے تمغوں اور "ملک دشمن عناصر” کے ٹائٹل کی صورت پائیں گے۔ تب بات تو سمجھ آجائے گی مگر افسوس یہ ہے کہ بے رحم پانی کئی پلوں کو بہا لے جا چکا ہو گا۔

