پاکستان میں چائلڈ لیبر
زندگی میں بچپن وہ دور ہوتا ہے جس میں انسان کو کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ کھاؤ پیو موج اڑاؤ مگر کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچپن نصیب ہی نہیں ہوتا۔ پاکستان میں ایسا لاکھوں بچوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہاں آپ کو چائے کے ڈھابے، مکینک، فیکٹریوں، سڑکوں، گھروں وغیرہ یہ کہ ہر جگہ بچہ کام کرتے ہوئے نظر آئے گا اور یہ وہ بدنصیب بچے ہوتے ہیں جن سے چوبیس گھنٹے ہر قسم کا کام کروا لیا جاتا ہے اور بدلے میں جو تنخواہ ملتی ہے وہ بہت کم ہوتی ہے۔ تنخواہ کم ہونے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ بچے ہیں حتیٰ کہ وہ بچے اپنے گھر کے بڑے ہوتے ہیں اور بڑوں سے زیادہ کام کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ضلعی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مطابق دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 168 ملین بچے مزدوری کرنے مجبور ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم کے مطابق ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ دو لاکھ بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان میں ساٹھ لاکھ بچے دس سال سے بھی کم عمر کے ہیں۔
چائلڈ لیبر کی سب سے اہم وجہ غربت کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی اور کئی وجوہات ہیں۔ تعلیم کی کمی کے ساتھ یہاں نچلے طبقے میں بچوں کی زیادہ تعداد ہے۔ ملک میں چلڈرن ایکٹ کے مطابق جو شخص سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کو کام پر رکھے یا اس کی اجازت دے تو اُسے بیس ہزار روپے تک جرمانہ یا قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ چند ماہ قبل انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تحت رپورٹ شائع ہوئی، اس میں دنیا کے 67 ایسے ممالک کی فہرست جاری ہوئی جہاں چائلڈ لیبر کے حوالے سے خطرناک صورتحال ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے حکومت سنجیدگی سے کوشش کرے تو ملک میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
اس وقت لاکھوں کی تعداد میں بچے مزدوری کر رہے ہیں لیکن حکومت کے پاس ایسے اعداد و شمار نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کو یہ علم نہیں ہوتا کہ بچے کہاں کام کر رہے ہیں۔
جن بچوں کو کام کرنے کے لیے گھر میں رکھا جاتا ہے بیشک یہ کہہ کر رکھا جاتا ہے کہ تھوڑا بہت کام کروایا جائے گا مگر اُن سے بھی ہر قسم کا کام کروا لیا جاتا ہے اور وہ بھی انتہائی معمولی تنخواہ پر۔ اگر اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو پھر بچوں کا استحصال ڈرگ ٹریفکنگ اور جسم فروشی جیسے جرائم میں کیا جائے گا۔
اِس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہر سال سروے کیے جائیں۔ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ کتنے بچے محنت مزدوری کر رہے ہیں، ان کے ساتھ ان کے مالکان کس طرح کا سلوک کر رہے ہیں تو ہی پاکستانی بچوں کو غلط اور غیر محفوظ ہاتھوں میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ان کی تعلیم و تربیت کا بندو بست کیا جا سکے کیونکہ اگر آج ہم ان بچوں کا خیال نہیں کریں گے، ان کا دینی و جسمانی استحصال ہونے دیں گے تو کل کو ہمارے پاس وہ بچے ہوں گے جو جسمانی اور دماغی طور پر اس قدر معذور ہوں گے کہ چاہتے ہوئے بھی معاشی اور سماجی زندگی میں ہماری مدد نہیں کر سکیں گے۔


