کریلا


کریلا ایک سبزی ہے۔ اور بد قسمتی یہ ہے کہ انسان سبزی کہی جانے والی ہر چیز کو کھا جاتے ہیں۔ حالانکہ کریلا کسی بھی زاویے سے کھانے کی چیز معلوم نہیں ہوتا۔ اس کا ظاہر خوفناک تو باطن بے حد زہریلا ہوتا ہے۔ ذائقہ ایسا کڑوا زہر کہ کوئی انسان اسے کھانے کی غلطی نہ کرے۔ یہ الگ بات کہ اسے کھانے والوں کو پھر بھی انسان ہی کہا جاتا ہے۔

ہمیں تو اس پہلے انسان کی انسانیت پر شبہ ہوتا ہے جس نے کریلے کو بطورِ سبزی کھایا ہو گا۔ حالانکہ وہ اپنے بزرگوں کی طرح قسم ہا قسم کا گوشت کھا سکتا تھا، شکار کھیلتا ایڈونچر کرتا اور گوشت کھا کر جان بناتا۔ مگر اس نے چُنا کریلے کو۔ اور پھر ہم جیسے احمقوں نے یہ عادت ہی بنا لی۔ یہ حماقت ہی تو کہلائے گی کہ پہلے آپ کریلا بازار سے قیمتاً خرید کر لائیں۔ حالانکہ اسے بطورِ سزا قومی سلامتی کے مجرموں کو کھلانا چاہیے۔ مگر اسے پیسوں کے عوض خریدا جاتا ہے، پھر اسے چھیلا جاتا ہے، نمک لگا کر اس کی کڑواہٹ ختم کی جاتی ہے اور پھر مرچ مسالے ڈال کر اسے پکایا جاتا ہے۔ اتنی محنت۔ اگر کڑواہٹ ختم ہی کرنی تھی تو کوئی سادہ سی سبزی خرید لی گئی ہوتی۔

کریلا صرف کھانے کے کام نہیں آتا بلکہ طعنہ دینے میں بھی کام آتا ہے۔ اسے اردو، سندھی اور پنجابی، ہر زبان میں کریلا ہی کہتے ہیں بلکہ اردو میں تو نیم چڑھا بھی کہتے ہیں۔ البتہ انگریزوں نے اسے Bittergourd کا نام دیا ہے یعنی کڑوا کدو۔ حالانکہ یہ کسی بھی زاویے سے کدو نہیں لگتا۔ کدو کو کدو شریف کہا جاتا ہے مگر کریلا تو صورت سے ہی بڑا بدمعاش سا لگتا ہے۔

ہماری رائے میں تو اسے کھانے کے کم اور ڈرانے کے کام میں زیادہ لانا چاہیے۔ جو بچہ پڑھائی سے دل چرائے تادیباً اسے کریلے کے فرائز بنا کر کھلائے جائیں۔ یا پھر کسی افسر کو سرزنش کرنی ہو تو اسے کھانے کی دعوت پر بلا کر سامنے کچا کریلا رکھ دیں۔ اسی طرح اگر کسی محکمے کے خلاف احتجاج کرنا ہو تو سڑکیں بند کرنے کے عوض ان کی راشن سپلائی بند کر کے کریلے کھانے کا ڈراوا دیا جائے۔ غالب گمان ہے کہ آپ کے مطالبات مِن و عَن تسلیم کر لیے جائیں گے۔

Facebook Comments HS