دریائے سندھ کی نئی نہریں

گزشتہ چند ہفتوں سے ایک شور و غل سا مچا ہے کہ دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنی ہیں، نہیں نکالنی ہیں۔ اسی شور و غل کی وجہ سے ہر دو فریق کی بات سننا اور سمجھنا مشکل ہی تھا۔ سوشل میڈیا کے ایک محترم دوست اور قابل انجینئر جو پانی کے مسئلوں پر بڑی جامعیت سے لکھتے ہیں، سے بھی گزارش کی تھی کہ یہ کیا قصہ ہے ذرا سمجھائیں۔ مگر انہوں نے یہ گزارش درخورِ اعتنا نہ

Read more

کریلا

کریلا ایک سبزی ہے۔ اور بد قسمتی یہ ہے کہ انسان سبزی کہی جانے والی ہر چیز کو کھا جاتے ہیں۔ حالانکہ کریلا کسی بھی زاویے سے کھانے کی چیز معلوم نہیں ہوتا۔ اس کا ظاہر خوفناک تو باطن بے حد زہریلا ہوتا ہے۔ ذائقہ ایسا کڑوا زہر کہ کوئی انسان اسے کھانے کی غلطی نہ کرے۔ یہ الگ بات کہ اسے کھانے والوں کو پھر بھی انسان ہی کہا جاتا ہے۔ ہمیں تو اس پہلے انسان کی انسانیت پر

Read more

سنار، حلوائی اور آپ

کہیں پڑھا تھا کہ خاندانی لوگوں کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ ان کا نوکر کتنا پرانا ہے۔ اگر ان کا سنار بھی دہائیوں سے ایک ہی ہو تو سونے پہ سہاگا، نیز حلوائی بدلنے کی نوبت سالوں سے نہ پڑی ہو تو نور علیٰ نور۔ جب پڑھا تھا تو کچھ پلے نہیں پڑا تھا۔ ہاں بھاری بھرکم بات تھی تو یاد رہ گئی۔ اور جو بات یادداشت میں جگہ بنانے کی طاقت رکھتی ہو اس پر غور

Read more

ڈگری، مچھلی اور حکیم لقمان

دو چار دن سے فیس بک پر مچھلی کھانے نہ کھانے، کون سی کھانے کون سی نہ کھانے کی بحث چل رہی ہے۔ لوگ باگ دلائل میں دور دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ لیکن بھئی ہم تو اس معاملے میں نواب صاحب کے قول پر عمل کرتے ہیں۔ نہیں نہیں یہ نواب کوئی اودھ یا لکھنؤ کے نواب نہیں جو کھانے اور پینے، دونوں کے شوقین ہوا کرتے تھے۔ بلکہ ہماری مراد مشہور سیاسی رہنما نواب اسلم رئیسانی سے ہے۔

Read more

اندرون سندھ کس چڑیا کا نام ہے

اندرون سندھ ایک اصطلاح ہے جو اکثر و بیشتر مین اسٹریم میڈیا (اردو میڈیا) ، پنجابی دوست اور کراچی میں رہنے والے مہاجر استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ کچھ تو دو قدم آگے بڑھ کر کہتے ہیں کراچی اور سندھ، جیسے کراچی سندھ کا حصہ نہ ہو۔ اس انتہائی بے تکی اور غلط بات پر تو سندھی لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، اور چونکہ یہ ہے بھی زمینی حقائق کے خلاف اسی لیے ہم فی الحال اندرون سندھ کی

Read more

تربوز

تربوز ویسے تو ایک پھل ہے لیکن حقیقت میں یہ میٹھے پانی کا ایک ٹینکر ہوتا ہے۔ تربوز کو پنجابی میں ہِدوانہ، سندھی میں ہِندانہ اور افطاری میں ”اور دے دو نا“ کہتے ہیں۔ تربوز دائروی اور بیضوی دونوں اشکال میں دستیاب ہوتا ہے۔ لیکن اسے کھانے کے لیے مستطیل اور تکونی شکل میں کاٹا جاتا ہے۔ مشکل پسند خواتین اسے پنج گونہ اور شش گونہ اشکال میں بھی کاٹتی ہیں۔ یوں تربوز کہنے کو تو پھل ہے در حقیقت

Read more