ڈیوڈ ایٹنبرو۔ ایک ممتاز ماحولیاتی براڈ کاسٹر

ڈیوڈ ایٹنبرو ماحول، حیاتیاتی تنوع اور آبی تبدیلیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک توانا آواز ہے۔ وہ 70 سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے دنیا کے دور دراز صحراؤں، جنگلات، سمندروں، میدانوں کے فطری حسن اور شان و شوکت کو ٹیلی ویژن پروگراموں کے ذریعے اجاگر کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ان ڈاکیومینٹریز اور دیگر پروگراموں کی وجہ سے دنیا بھر کے ماحول دوست ناظرین کے محبوب براڈ کاسٹر بن گئے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 2020 میں اداکارہ جینفر اینسٹن کا انسٹاگرام پر سب سے کم وقت میں دس لاکھ فالوورز بنانے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق سر ڈیوڈ ایٹنبرو کے فالوورز کی تعداد چار گھنٹے 44 منٹ میں ایک ملین ( 10 لاکھ) تک پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنی پہلی پوسٹ میں لکھا کہ : ’ہمارے سیارے کو بچانا اب کمیونیکیشن یا مواصلات کے لیے ایک چیلنج ہے‘ ۔
ایٹنبرو پچھلے برس اپنی 98 ویں سالگرہ منا چکے ہیں۔ لیکن تسلسل کے ساتھ منظر عام پر آنے والا ان کا کام یہ ثابت کرتا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ان کا ماحول دوست براڈ کاسٹنگ کے ساتھ لگاؤ میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ جنگلی حیات کے بارے میں بی بی سی سے نشر ہونے والے ان کے پہلے پروگرام کو ستر سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد ڈیوڈ ایٹنبرو کو نیچرل ہسٹری کے حوالے سے براڈکاسٹنگ کے اثرات کا خوب اندازہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر فطرت کی تاریخ کے عنوان کے تحت یہ پروگرام نشر نہ ہوئے ہوتے تو ہماری آج کی دنیا کہیں زیادہ خراب صورتحال سے دو چار ہوتی، کیونکہ ماحولیاتی تباہی کے حوالے سے عالمی شعور بیدار کرنے میں ان پروگراموں کا کلیدی کردار ہے۔ لیکن عالمی شہرت حاصل کرنے کے باوجود وہ اپنے بارے میں بہت عاجزانہ رویہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ مجھے کافی ساری چیزوں کا کریڈٹ دیتے ہیں۔ لیکن میں تو صرف الفاظ کی ادائیگی کرتا ہوں جو کہ ان پروگراموں کی تیاری کے سارے عمل کا ایک آسان کام ہے۔ جبکہ ریکارڈنگ، کیمرا چلانے، سفری انتظامات اور دیگر کام کرنے والی ٹیم کا کام زیادہ قابل ستائش ہے۔
ایک براڈ کاسٹر کے ساتھ ساتھ ڈیوڈ ایٹنبرو ایک نیچرلسٹ اور محقق بھی ہیں جو دنیا کے قریباً 83 ملکوں سے ماحولیات سے متعلق مواد فلمبند کر چکے ہیں۔ ان کی ٹی وی ڈاکیومینٹریز فلموں اور پروگراموں میں امیزون کے کچھووں سے لے کر روانڈا کے پہاڑی گوریلے اور جنوبی جارجیا کے کنگ پینگوئنز کی کہانیاں شامل ہیں۔ حیاتیاتی تنوع کے حسن، دنیا کے مختلف حصوں کے منفرد ایکو سسٹمز کے گہرے مشاہدے اور جمال فطرت کو انوکھے انداز سے پیش کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ڈیوڈ ایٹنبرو بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن سے لے کر نیٹ فلیکس کے ناظرین میں یکساں مقبول رہے ہیں۔ سال 2023 میں بھی ان کے برطانیہ کے فطری جزائر اور آئرلینڈ کے بارے میں بی بی سی سے نشر ہونے والے پروگرام کو بے پناہ مقبولیت ملی ہے۔
ڈیوڈ ایٹنبرو برطانیہ کے شہر لندن میں 1926 میں پیدا ہوئے، وہ فطرت اور ماحولیاتی تاریخ میں بچپن سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اور چھوٹی عمر سے ہی انہیں حیاتیاتی آثار جمع کرنے کا شوق تھا۔ انہوں نے نیچرل سائنسز میں 1947 میں ماسٹرس کیا اور تھوڑا وقت پبلشنگ کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد بی بی سی کو ایک ٹیلی ویژن پروڈیوسر کے طور پر جوائن کر لیا۔ 1954 میں ان کا مقبول پروگرام زو کویسٹ شروع ہوا۔ اس کے بعد ان کی مقبول ترین ٹیلی ویژن سیریز میں لائف آن ارتھ، بلیو پلانیٹ اور دیگر پروگرام شامل ہیں۔ نیچرل ہسٹری کے حوالے سے ان کی ٹی وی سیریز لائف آن ارتھ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا بھر کے تقریباً پانچ سو ملیں لوگوں نے اس پروگرام کو دیکھا۔ اس طرح وہ وائلڈ لائف اور فطری دنیا کو ہمارے گھروں کے ٹی وی لاؤنج اور کلاس رومز تک لے آئے۔ صنعتی انقلاب کے بعد فطرت اور انسان کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلوں کو کم کرنے کی ان کی اس کوشش کو ماحولیاتی براڈ کاسٹنگ کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
وہ گزشتہ سالوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جو کہ دنیا کے فطری حسن کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔ فطرت اور ماحولیاتی تنوع کے وہ رنگ، جن کو فلمبند کرنے کے لیے ایٹنبرو نے پوری زندگی وقف کردی، اب ماحولیاتی بحران کی زد میں ہیں۔ اس حوالے سے وہ اپنے آپ کو خوش قسمت بھی سمجھتے ہیں کہ وہ ماحولیاتی تباہی سے کافی عرصہ پہلے ان علاقوں میں پہنچے جن کی فطری اور حیاتیاتی رنگینیاں اب ماحولیاتی تبدیلیوں کی نظر ہو گئی ہیں۔ اسی طرح کے دستاویزی پروگراموں کی ایک سیریز دی پرائیویٹ لائف آف پلانٹس یعنی نباتات کی نجی زندگی بھی ہے جس میں پودوں کی زندگی کے مختلف مراحل کو نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حیاتیاتی تنوع سے اسی عاشقی کے اعتراف میں دنیا بھر میں کئی جانوروں اور نباتات کے نام ان کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ ان کی ایک اور فلم کے توسط سے گہرے سمندروں میں رہنے والی آبی حیات کی کئی نئی اقسام متعارف ہوئی۔
ڈیوڈ ایٹنبرو خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی طرف سے ماحولیاتی براڈ کاسٹ یا وائلڈ لائف کے حوالے سے پروگراموں کا سلسلہ شروع کرنے کا بنیادی مقصد حیاتیاتی تنوع کی حفاظت سے زیادہ ان کا فطرت سے لگاؤ تھا۔ وہ فطرت کے مشاہدے سے مسرور ہوتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو احساس ہوا کہ وہ جن جانوروں کی فطری آماج گاہوں کی فلمبندی کر رہے ہیں وہ شدید خطرے سے دو چار ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے فطرت کی رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی مسائل اور خطرات کو اپنے پروگراموں کے ذریعے اجاگر کرنا شروع کیا۔ اس حوالے سے ان کی ایک کتاب ”اَ لائف آن اوور پلانیٹ“ بھی چھپ چکی ہے، جس کو وہ ماحولیاتی بحران کے حوالے سے اپنی ایک گواہی یا فریاد سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان ٹی وی پروڈیوسر کے طور پر میں دنیا بھر کے جنگلات، بیابانوں، پہاڑوں اور سمندروں کی سیر کرتا رہا اور ہمیشہ پر جوش رہا لیکن یہ ایک دھوکہ تھا۔ اصل میں ہمارے ارد گرد ایک ٹریجڈی برپا ہو رہی تھی جس کا احساس روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن اس عرصے میں ہم دنیا کی فطری حسن سے آباد جگہیں اور حیاتیاتی تنوع کھو رہے تھے
ڈیوڈ ایٹنبرو کا کہنا ہے کہ اگر انسان نے فطرت کی طرف اپنے رویے تبدیل نہ کیے تو یہ جان لیں کہ ایک بڑی تباہی ہمارے انتظار میں ہے۔ ہم جنگلی حیات کو گھریلو بنانے اور فطری ماحول پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا سیارہ تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں ہزاروں سالہ انسانی تاریخ میں سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ کیونکہ درجہ حرارت بڑھنے سے دنیا کے کئی خطے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ڈیوڈ ایٹنبرو کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے ارد گرد درخت نہیں ہوں گے تو ہمیں سانس لینے میں بھی مشکل ہوگی۔ اسی طرح پرندوں کے گیت ہمارے روح کو توانائی بخشتے ہیں۔ اس لیے ماحول کو بچانے کی کوشش دراصل ہماری اپنے آپ اور اپنی آئندہ نسلوں کو بچانے کی کوشش ہے۔

