عرب دنیا میں بعث پارٹی کی میراث
شام سے صدر بشار الاسد کا فرار بعث ازم کی موت ہے۔ اس صورتحال میں شام کا بطور ریاست مستقبل اور عرب دنیا میں صیہونیت مخالف جذبات، دونوں ہی غیر یقینیت کا شکار ہیں۔
حال ہی میں پورے ہونے والے سال نے کچھ ایسے واقعات کا مشاہدہ کیا ہے جن کے اثرات عالمی سطح پر معیشت اور خارجہ پالیسی کے میدانوں میں تادیر رہیں گے۔ وہ چاہے مشرق وسطیٰ ہو یا یورپ، سال 2024 کے اندر ان دونوں خطوں میں فوجی و سیاسی نوعیت کے تنازعات بامِ عروج پر پہنچے ہیں۔
جہاں تک جنگی میدان کا سوال ہے تو عرب دنیا میں علاقائی عدم استحکام اور تنازعات نے خاص طور پر زور پکڑا ہے اور اس میں تازہ ترن جھٹکا شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہے جہاں بعث پارٹی کے ساٹھ سالہ اقتدار کا سورج اب شاید ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ہے۔ شام کے باغیوں نے حیران کن تیزی سے اہم علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے دارالحکومت دمشق کا انتظام سنبھالنے کے بعد ”ایک نئے شام“ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے جہاں ایک طرف عرب دنیا میں بعث نظریے کا خاتمہ کیا ہے وہیں دوسری طرف کئی ایسے سوالات چھوڑے ہیں جن کے جوابات ابھی باقی ہیں۔
ایک تاریخی تناظر
اس سے پہلے کہ ان سوالات کی طرف متوجہ ہوا جائے، اسد خاندان کی حکمرانی اور عرب دنیا میں بعث نظریات کا ایک مختصر جائزہ لے کر ہی ہم اس خطے میں تنازعات کی نوعیت کو سمجھ سکتے ہیں۔
اس ساری تاریخ کو سمجھنے کے لئے ہمیں 1950 کی دہائی میں واپس جانا ہو گا جب دنیا میں جنگ عظیم دوم کے دیے ہوئے زخم ابھی بھرے نہیں تھے۔ اس جنگ کے بڑے متاثرین میں سے ایک سلطنت ِبرطانیہ تھی۔ 1952 تک اس سلطنت کا بہت حد تک خاتمہ ہو چکا تھا اور 1947 میں برصغیر کی آزادی کے بعد تو اس عظیم ترین بادشاہت کی شاہی بہت ہی کم علاقوں تک باقی رہی تھی۔ اور وہ علاقے جہاں ابھی تک برطانوی راج باقی تھا وہاں بھی بغاوت اور آزادی کی تحریکیں مسلسل زور پکڑ رہی تھیں۔
مشرق وسطیٰ کا خطہ بھی انہیں علاقوں میں سے ایک تھا جہاں نوآبادیاتی تسلط کے خلاف عوامی جذبات عروج پر تھے۔ عام لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ برطانوی سلطنت کی طرف سے مسلط کردہ حکمران استعمار کے گماشتے ہیں جنہوں نے عربوں کو تقسیم کر کے انہیں اپنی جائیداد سمجھ رکھا تھا۔ 1948 میں اسرائیل کی صیہونی ریاست کی تشکیل کے بعد بھی مشرق وسطیٰ میں برطانوی سلطنت کے لئے حالات میں کسی قسم کی بہتری دکھائی نہیں دیتی تھی اور یہیں سے ہماری کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔
سن 40 اور 50 کی دہائی میں عرب دنیا میں ایک نیا فلسفہ ”بعث ازم“ اپنی جڑیں پکڑ رہا تھا۔ شام کے فلسفی اور قوم پرست رہنما مائیکل افلاق اس نظریے کے بانی تصور ہوتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق ایک ایسی اشتراکی عرب دنیا کا قیام ممکن بنانا تھا جو استعمار کی زنجیروں سے آزاد ہو اور جہاں عرب دنیا کے حکمران خود عرب ہوں۔ یہ فلسفہ ناصرف عرب قومیت پر مرتکز تھا بلکہ یہ پوری قوت سے صیہونیت مخالف تھا اور 1950 کے نہر سویز تنازع اور 1967 کی چھے روزہ عرب اسرائیل جنگ نے ان جذبات کو مزید بڑھاوا دیا تھا۔ یہ نظریہ تمام عرب دنیا خاص طور پر لیوانت (شام، لبنان اور عراق ) کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ میں بہت تیزی سے مقبول ہو رہا تھا۔
بعث تحریک کے علمبردار
مصر میں یہ تحریک بہت مضبوط تھی جہاں ایک رہنما اس تحریک کی علامت بن کر ابھرنے والے تھے۔ یہ کرنل جمال عبدالناصر تھے جنہوں نے 1952 میں مصر کے بادشاہ فاروق کا تختہ الٹ کر مصر میں عرب جمہوریہ قائم کی تھی۔
ناصر کے اقدامات کے سبب اس تحریک نے دیگر عرب معاشروں میں بھی بہت زور پکڑا اور جلد ہی دنیا نے دیکھا کہ مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں اشتراکی انقلاب آنا شروع ہو گئے۔ الجزائر کے انقلاب کی قیادت ہواری بومدین نے کی جبکہ عراق میں یہ انقلاب عبدالکریم قاسم کی قیادت میں وقوع پذیر ہوا۔ اگرچہ اس وقت تک یہ تمام ممالک بعث ازم کے قائل نہ تھے تاہم ناصر کے لئے ایک متحد عرب دنیا کے قیام کا خواب ابھی زندہ تھا۔ اس خواب کی تعبیر کے لئے پہلا اقدام 1958 میں اٹھایا گیا جب مصر اور شام کو ایک متحدہ عرب جمہوریہ (یو اے آر) کی صورت میں اکٹھا کر دیا گیا۔ یہ پہلی بار تھا جب شام باضابطہ طور پر بعث ازم سے واقف و آشنا ہوا۔
تاہم یہ متحدہ عرب جمہوریہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 1961 میں شام اس متحدہ ریاست سے علیحدہ ہو گیا اور وہاں ناظم القدسی کی قیادت میں ایک بغاوت ہو گئی۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ القدسی کے خلاف بھی ایک کامیاب بغاوت ہوئی جب جنرل امین الحافظ نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر کے 1963 میں خود شام کا اقتدار سنبھال لیا اور یوں شام میں بعث پارٹی کی پہلی حکومت قائم ہوئی۔ امین الحافظ کی حکومت کا خاتمہ 1966 میں ہوا جب حافظ الاسد اور دیگر نے ان کے خلاف بغاوت کردی۔ چار سال کے بعد 1970 میں حافظ الاسد کی قیادت میں ایک بار پھر بغاوت ہوئی جس کے نتیجے میں خود حافظ الاسد شام کے حکمران بن گئے۔
باوجود اس کے کہ شام نے مصر کے ساتھ قائم ہونے والی عرب جمہوریہ سے خود کو علیحدہ کر لیا تھا تاہم دونوں ممالک میں حکمران بعث نظریاتی اشتراک کے سبب بہت قریبی تعلقات تھے۔ ان تعلقات میں مزید مضبوطی 1967 کی چھے روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قائم ہوئی۔ اس جنگ میں اسرائیل کی پشت پناہی امریکہ کر رہا تھا جبکہ متحارب عرب ممالک یعنی مصر، شام اور اردن کو سابقہ سوویت یونین کی حمایت میسر تھی۔
اس جنگ کے نتیجے میں بعث ازم میں صیہون مخالف جذبات اپنے عروج پر پہنچ گئے اور استعمار سے نفرت ایک سیاسی عقیدے کے طور پر مضبوط ہوئی۔ نتیجے کے طور پر امریکہ اور دیگر مغربی دنیا سے کسی قسم کا تعلق یا رابطہ جرم سمجھا گیا۔
یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ سن 70 کی دہائی کے آخر میں امریکہ ثالثی کے نتیجے میں جب مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے پر دستخط ہوئے تو مصر اور شام کے تعلقات کھٹائی میں پڑ گئے۔ اس معاہدے کے بعد عرب دنیا میں شام اور عراق ہی اب ایسے ممالک تھے جہاں بعث نظریات کی حکمرانی تھی اور اب عراق میں صدارت کے عہدے پر صدام حسین موجود تھے۔ تاریخ کا پہیہ تیز گھماتے ہوئے سال 2003 میں چلے آتے ہیں جب عراق میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو عرب دنیا میں شام وہ واحد ملک رہ گیا جہاں صیہون مخالف بعث نظریات کی حکمرانی تھی۔ اب جبکہ صدر بشار کی حکومت کے خاتمے کے بعد عملی طور پر بعث پارٹی کا خاتمہ ہو گیا ہے تو بہت سے ایسے سوالات سامنے آئے ہیں جن کا تعلق شام کی ریاستی بالادستی، عرب دنیا کے اتحاد اور صیہون مخالف نظریات سے ہے۔
اسد خاندان کی حکومت میں شام کے اندر ترقی اور ریاستی بالادستی کی اصطلاحیں بہت حد تک متنازع تھیں۔ مثال کے طور پر شام میں جہاں ایک طرف بعث پارٹی کی آہنی گرفت تھی تو دوسری طرف شام کی ایک جدید معاشرے کے طور پر تعمیر پر کافی توجہ دی گئی۔ شام میں متنوع مذہبی و نسلی گروہوں کے مابین ہم آہنگی بحال رکھنے پر بہت زور دیا گیا۔ اس دوران چھوٹے موٹے جرائم پر بھی قابو پایا گیا۔
بعث پارٹی کے زیر انتظام شام میں ریاستی وسائل خاص طور پر تیل پر حکومتی تسلط برقرار رکھا گیا۔ یہ انتظام جہاں ایک طرف معاشی طرز کی آزادی کو ظاہر کرتا ہے تو وہیں دوسری جانب اسد حکومت نے شام میں ایران اور روس کی فوجی موجودگی کو اس لئے برقرار رکھا کہ وہ اسد حکومت کے مخالفین کا خاتمہ کرسکیں۔
غیر یقینی مستقبل
اب جبکہ ہیئت التحریر الشام حکومت بنا چکی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اس گروہ کی پشت پناہی ترکی اور اسرائیل کر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ شام کا بطور ریاست مستقبل کیا ہو گا اور خاص طور پر شام کے تیل کا کیا بنے گا؟ شاید یہ ترکیہ اور صیہونی ریاست کے قبضے میں چلا جائے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ شام کے مستقبل سے متعلق فیصلے انقرہ سے کیے جائیں گے کیونکہ ترکیہ کی یہی کوشش رہی ہے کہ وہ روس کی جگہ لیتے ہوئے یورپ کے لئے توانائی کے واحد ذریعہ کے طور پر خود کو سامنے لائے۔
صیہونیوں کے لئے ایک ایسا کمزور شام فائدہ مند ہو گا جس کے ہوتے ہوئے وہ اپنے زمینی مقاصد پورے کر سکیں یعنی گولان کی پہاڑیوں پر اپنا قبضہ مزید بڑھاتے ہوئے شام کی ریاست کو اس قدر کمزور کر دیا جائے کہ وہ نہ تو اپنے علاقے واپس لے سکے اور نہ ہی صیہونی فوج کی پیش قدمی کی صورت میں وہ اپنا دفاع کرسکے۔
جہاں تک عرب دنیا میں صیہونیت مخالف جذبات کا سوال ہے تو خیال یہی ہے کہ شام میں بعث پارٹی کی حکومت کا خاتمہ عرب اشتراکیت کے تصورات کے تابوت پر وہ آخری کیل تھا جس کے بعد یہ تصور اب مردہ ہو چکا ہے۔ شام بطور ریاست اور معاشرہ عرب دنیا میں شاید وہ آخری کھلاڑی تھا جو اسرائیل کے خلاف فوجی مزاحمت کا عملاً حصہ تھا۔ اب یہ کاز چند گروہوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جو کبھی مضبوط ہوا کرتے تھے مگر اب وہ سیاسی، سفارتی اور تزویراتی کمزوری کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شام ہی وہ واحد ملک تھا جو ابھی تک اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں تھا اور اس کے متعلق یہ خیال تھا کہ وہ ہی اسرائیل کے لئے کسی علاقائی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ بخلاف دیگر عرب ممالک کے، جنہیں امریکہ اور اسرائیل نے تجارتی عہد و پیمان کے عوض خرید لیا ہے۔
لہذا یہ کہنا کہ ”شام اب آزاد ہو گیا ہے“ قبل از وقت ہو گا۔ بلکہ یہ خوف زیادہ حقیقی محسوس ہوتا ہے کہ کہیں شام بھی عراق، لیبیا یا مصر کی صورت میں بدل جائے جو مغربی ممالک اور اس کے صیہونی اتحادی کے ہم نوا زیادہ ہیں۔
موجودہ صورتحال نے کردوں کے مستقبل سے متعلق بھی کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ شمال مشرقی شام میں امریکہ کے اتحادی سیرئین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) وہ کرد افواج ہیں جو اس علاقے میں ترکیہ کے وسیع عزائم کے مقابل واحد قوت ہیں۔ کرد افواج اگرچہ بعث نظام کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت چل پا رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ اس نئے نظام کے ساتھ کیسے ڈیل کرتے ہیں جس پر غیر ملکی چھاپ بہت واضح ہے اور جو ان کے علاقوں پر قابض ہونے کا خواہشمند بھی ہے۔
اب نہ صرف شام کا مستقبل غیر یقینیت کا شکار ہے بلکہ بعث نظام کے خاتمے سے وہ اسرائیل مخالف جذبات بھی ختم ہو گئے ہیں جو کبھی شام کی سرکاری پالیسی ہوا کرتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ اس نظریے کے بانی جمال عبدالناصر اور افلاق بھی عہد ِ گزشتہ کے کردار بن کر رہ گئے ہیں۔
بعث نظریات اب یا تو تاریخ کے عجائب گھر میں کہیں ماضی کی ایک یادگار کی صورت دیوار پر ٹنگے ہوئے ملیں گے یا تاریخ کی کتابوں پر پڑی ہوئی گرد کی صورت میں۔
مصنف حسین قاضی اے لیول کے طالب علم ہیں جنہیں تاریخ پڑھنے میں دلچسپی ہے۔
مترجم : شوذب عسکری
بشکریہ روزنامہ ڈان 12 جنوری 2025

