پختونوں کا مخدوش مستقبل اور کنفیوز سیاست


پختونخوا کے پختونوں کا ہندوستانی سیاست سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ ان کی سیاست ایک دوسرے پر لشکر کشی کرتے ہوئے، چارسدہ کی زرخیز زمین کی خاطر ہشتنغر کا قبرستان بڑھانا تھا۔ ہندوستان اور افغانستان کی سیاست سے ان کا کوئی تعلق تھا بھی، تو وہ محض قبائلی اور خاندانی تھا۔

بابر یوسفزئیوں کا داماد بنا تو انہوں نے بابر کی حمایت میں تلواریں سونت کر ہندوستان میں اپنے بھائی ابراہیم لودھی کی حکومت مغلوں کے حوالے کرنے کے لئے اپنا اور اپنوں کا خون بہایا۔ وہ جس طرح سکھوں کے خلاف کابل کے حکمرانوں کی بزدلی کے باوجود لڑے، اسی طرح وہ سید احمد بریلوی کی ملائیت کی خاطر بھی لڑے۔ سکھوں کو شکست ہو جاتی تو حکومت کس کو ملتی، ان کو اس کی فکر کرنے کی فکر ہی نہیں تھی۔

پختونخوا میں حقیقی اجتماعی سیاست اس وقت نظر آنے لگی، جب غفار خان نے، باچا خان بنکر اپنی اصلاحی تحریک کو کانگریس کی ہندوستان پرست سیاست کے ساتھ نتھی کر دیا۔ جس کی وجہ سے پختون جدید تعلیم، معاش اور تنظیم کے علاوہ ہندوستانی نظریات سے بھی آشنا ہوئے۔ بندوق بردار اور مائل بہ تشدد پختون، بدلے کی قدرت رکھنے کے باوجود ہندوستان سے آئے ہوئے، ان لوگوں کے ہاتھوں اپنے گھر میں پٹنے لگا، جن پر ان کے آبا و اجداد نے مدتوں حکومت کی تھی، اور پختون جن کو کبھی اپنے برابر کا جوڑ نہیں مانتا تھا۔ ’سل پاپڑ او یو لوڑ‘ ، یعنی سو پاپڑ اور ایک سوٹی برابر، کا مقولہ وہ انہی ہندوستانی باشندوں کے لئے کہتا تھا، جو اب وردی پہن کر اسے اس کی گلیوں میں گھسیٹتا پھرتا تھا۔

جدید سیاسی تاریخ میں یہ پہلی جوہری تبدیلی تھی، جس نے عورتوں کے لئے مخصوص لال رنگ کے کپڑے پہنانے کے علاوہ، پختون کو اپنے سے ”کمتر اقوام“ سے پٹوایا۔ دوسری تبدیلی تب دیکھی گئی، جب پختون نے اپنے سے کمتر سماجی درجے کے مالک، ملّا کو، پہلے اپنا مشر (لیڈر) بنایا اور بعد میں خود بھی اسی کمتر سماجی درجے والے نام اور عمل پر فخر کرنے لگا۔

باچا خان نے پختون کو سیاسی شعور تو دیدیا لیکن اسے اس کے قومی مفادات اور تاریخ سے کاٹ کر ہندوستان کا حصہ بنانے کی کوشش بھی کی، جس نے نہ صرف یہ کہ پختون کو کنفیوز اور ”سیاسی طور پر گم راہ“ کر دیا، بلکہ نئے بنے ہوئے ملک میں بھی اسے مقتدرہ اور اکثریتی باشندوں کی نظر میں مشکوک بنا ڈالا۔

گاندھی نے باچا خان سے عدم تشدد سیکھا یا باچا خان نے گاندھی سے، یہ موضوع تحقیق کے لئے کھلا ہے۔ کیونکہ گاندھی کے دیش میں تقسیم کے وقت مہاجرین کے ساتھ جو عمل کیا گیا وہ عدم تشدد نہیں، انسانیت سوز اور شرمناک تھا۔ سماجی اور تاریخی محققین کو یہ بھی کھوجنا ہو گا کہ آمادہ بجنگ پختون کو عدم تشدد کا شکار بنانے کے پیچھے انگریز اور ہندو کے مقاصد کیا تھے؟ کیونکہ مہاتمائیت کے باوجود، ہندوستان بھر میں کوئی دوسرا عدم تشدد پر تیار نہیں ہوا۔

میری نظر میں، عدم تشدد کی پریکٹس، آج کی تبلیغی تحریک کی پہلی شکل تھی، جس کا شکار صرف پختون تھا اور جو آج بھی جاری ہے۔ یاد رہے کہ عدم تشدد اور تبلیغی تحریک، ہندوستان سے پختونخوا میں آئی۔

پختون کی اگر ہندوستان کے اندر اپنی الگ اور حقیقی سیاست موجود ہوتی، تو باچا خان کو کانگریس دھوکا دے سکتی، نہ پختون پاکستان میں مشکوک ہوتا، نہ اس کی سیاست آج اسلام آباد کے تابع ہوتی، نہ افغانستان موجودہ حالت میں ہوتا اور نہ آج ملائیت پختونوں کی پہچان بنی ہوتی، جس کی سامریت اسے لہو لہو کرنے کے باوجود اس کے سینے سے اس کی عقیدت مٹنے نہیں دیتی۔

باچا خان کو ”بھیڑیوں کے سامنے ڈالنے والے“ کانگریسی تھے، مسلم لیگی نہیں، انہیں قیوم خان سے پہلے ڈاکٹر خان صاحب نے بیچا تھا۔ باچا خان کا حوصلہ جتنا بڑا تھا، ان کا دل اتنا سادہ اور مقاصد اتنے عجیب و غریب تھے، انہوں نے پختونوں کو الگ وطن کی ملکیت کا احساس، واضح اور قابلِ حصول اہداف کا تعین اور قومی مفادات سکھانے کی بجائے، ہندوستان میں شامل ہونے اور اپنے آبا و اجداد کے وطن سے لاتعلق رہنے کی سیاست سکھائی، جس کا پختون آج تک اسیر ہے، اور جو عمیق نظر سے دیکھنے سے انگریز کی منصوبہ بندی معلوم ہوتی ہے، جس کا وہ انجانے میں شکار بنے۔

ولی خان اپنی کتاب ’حقیقت، حقیقت ہے‘ میں پاکستان کو انگریز کا منصوبہ بتاتا ہے، تو پھر باچا خان کی اس پختون سیاست کی کیا توجیہہ ہوگی، جس کے ذریعے انہوں نے رنجیت سنگھ کے فتح کردہ پختونخوا کو، افغانستان کی بجائے ہندوستان کا حصہ بنانے کے لئے قید و بند کی تکالیف برداشت کی تھیں۔

کانگریس نے باچا خان کے ذریعے انگریز کو ڈرایا، افغانستان نے ان کی قیمت پر اپنا سرحدی بیانیہ مضبوط کیا، تو ہندوستان کے ساتھ ان کے تعلقات نے، پاکستان کے پختون کو اپنے ہم وطنوں کی نظر میں مشکوک بنا دیا۔ پختونوں کی کنفیوز سیاست، آج اسی بِلا ہدف ماضی کی عزیمت کا شاخسانہ ہے۔ پختونوں کی نظر میں آج بھی جناح اور مسلم لیگ ان کے ولن ہیں، جبکہ ان کا اصل مجرم کانگریس اور پلان بی کے بغیر ان کے ماضی کی سیاست وہ تھی، جو آج بھی پر یگماٹزم کی بجائے رومانیت اور آخرت کی نعمتوں کے حصول کی خوشنودی پر استوار ہے۔

آج کنفیوژن اتنی ہے کہ پختون اے این پی کو ووٹ دینے پر تیار نہیں ہیں، کیونکہ اے این پی نے اس جنگ میں مفاہمت کی ہوئی تھی، جس میں، جو لوگ پختونوں کو قتل کر رہے تھے، وہ ان قوتوں کے ساتھ تھی، لیکن جنہوں نے وہ لوگ تیار کیے ہوئے تھے، پختون ان کو ووٹ دینے کے لئے بے چین ہیں، جنہوں نے ان کے قاتلوں کے لئے دفاتر کھولنے اور ان کی دوبارہ آباد کاری میں عملی کردار ادا کر دیا تھا۔ پختون سیاست اتنی کنفیوز ہے کہ وہ اپنے قاتلوں پر ہونے والے ڈرون حملوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج بھی کرتے ہوئے نکلے، اور انہی قاتلوں پر فخر بھی کرتے ہوئے پائے گئے، جنہوں نے ان کے بچے تک قتل کر دیے تھے۔ جس کا ثبوت ان کے، طالب، ملا اور تبلیغی بن کر اپنے وجود کے لئے کینسر بننے کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔

جنہوں نے امریکی جنگ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کی خاطر پختونوں کو ایندھن بنا کر استعمال کیا، وہ مقدس لوگ آج بھی ان کے جرگوں، معرکوں، جنازوں، تہواروں، اور یہاں تک کہ اسمبلیوں میں شہ بالے بنے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پختون سیاست جتنی 1930 میں کنفیوز اور سمت کے بغیر تھی، اتنی ہی آج بھی سمت کے بغیر اور کنفیوز ہے۔ ہر صوبے کی سیاست کا ایک مخصوص رنگ اور واضح پہچان ہے، لیکن پختونخوا میں ہر شکل، رنگ، نظریے، مفادات اور پارٹی کی سیاست موجود اور پنپ سکتی ہے، نہیں تو پختون سیاست، جس کی واضح پہچان، معین اہداف، کسی بھی صوبے اور بیرونی ممالک کے مفادات سے واضح عدم تعلق کے علاوہ مرکز و مقصد پختونخوا کے عوام کے مفادات اور حقوق کا حصول ہو، نہ کہ 2028 تک ملک سے سودی نظام کا خاتمہ اور جیل میں بند خان صاحب کو رہا کرا کر حقیقی آزادی کا حصول ہو۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani