ایک مزدور کی کہانی
صبح کا وقت تھا اور سورج اپنی پوری تابانی کے باوجود جیسے سست روی کا شکار تھا۔ ہوا میں خفیف سی نمی، دھوئیں کا ہلکا سا اثر، اور فضا میں ایک عجب سی خاموشی تھی۔ میں اپنی پرانی، وقت کی مار کھائی ہوئی بائیک پر دفتر کے لیے نکلا تو راستے میں ایک موڑ پر میری نگاہ ایک ایسے وجود پر پڑی جس کی حالت اور چہرے کی جھریاں زندگی کی بے رحمی کی مکمل داستان سنانے کے لیے کافی تھیں۔ یہ ایک مزدور تھا، وقت کی سختیوں نے جس کے کپڑوں کو دھول اور مٹی سے رنگ دیا تھا، اور اُس کے چہرے پر بھوک، محنت، اور نا انصافی کی تصویریں نقش تھیں۔ اُس کے کھردرے ہاتھ بلند تھے، جیسے ہوا سے التجا کر رہے ہوں کہ کسی دل میں رحم کے آثار جاگ جائیں۔ میں نے بائیک آہستہ کی۔ اُس کی نگاہوں میں ایسی عاجزی تھی جو بیان سے باہر تھی۔
”صاحب، اگر آگے تک ساتھ لے جائیں تو آپ کا بڑا احسان ہو گا،“ اُس نے لرزتے لہجے میں کہا۔ اُس کے الفاظ میں وہ درد تھا جو کسی مجبور انسان کی آخری امید سے جنم لیتا ہے۔ میرے بیٹھنے کے اشارے کے ساتھ ہی اُس نے جلدی سے میری بائیک کی گدی پر جگہ سنبھال لی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے مٹی، پسینے، اور محنت کے اُن لمحات کی خوشبو، جو شاید اُس کی زندگی کے آخری اثاثے تھے۔
راستے کی خاموشی عجیب تھی۔ اُس کی تھکن میرے کانوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی، چند لمحے خاموشی میں گزرے، مگر اُس کی سانسوں کی بے ترتیبی کچھ کہنے کو بیقرار تھی۔ میں نے بات چھیڑنے کے لیے پوچھا، ”کہاں جانا ہے؟“ اُس نے کہا، ”صاحب، اسٹیشن تک، شاید آج کوئی مزدوری مل جائے۔“ اُس کے لہجے میں تھکن کے ساتھ ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے وہ صدیوں کا سفر طے کر چکا ہو۔ اُس کے لہجے میں امید کے ساتھ شکست کی آمیزش تھی، جیسے وہ روز اپنے اندر کسی جنگ کو جیتنے کی ناکام کوشش کرتا ہو۔
میں نے پوچھا، ”ہر روز یہی کرتے ہیں؟“ اُس نے جواب دیا، ”صاحب، یہی نصیب ہے۔ صبح جلدی نکلتا ہوں، بچوں کی آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ واپس آتا ہوں تو وہی آنکھیں مجھ سے سوال کرتی ہیں : ’بابا، آج کھانے کو کچھ لائے؟‘ لیکن میرے پاس اکثر جواب نہیں ہوتا۔“ اُس کی آواز بھر گئی، اُس کی آواز میں ایسی تلخی تھی کہ سردی کے باوجود میرے وجود پر ایک کپکپی طاری ہو گئی اور میری رفتار بے اختیار دھیمی ہو گئی۔
راستے میں اُس نے بتایا کہ اُس کی دن بھر کی جدوجہد محض دو وقت کی روٹی کے لیے ہے۔ ”صاحب، لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مزدور اپنی عزتِ نفس بیچ کر جیتے ہیں، لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ ہم روز اپنا دل اور اپنی سانسیں بیچ کر بھی زندگی کا قرض نہیں چکا پاتے۔“ اُس کی باتوں میں ایسا درد تھا جو کسی عام انسان کے بس سے باہر ہو۔
”صاحب، ہم مزدور ہیں، ہماری زندگی دوسروں کے خوابوں کو بنانے میں گزر جاتی ہے۔ جو گھر ہم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں، اُن کے دروازے ہم پر کبھی نہیں کھلتے۔ لوگ ہماری محنت کو کم قیمت سمجھتے ہیں، لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ ہم اپنی سانسیں بیچ کر اُن کے محل کھڑے کرتے ہیں۔“
اُس کی ہر بات کسی خنجر کی طرح دل میں اتر رہی تھی۔ اُس نے بتایا کہ اُس کی بیوی بیمار ہے، علاج کے پیسے نہیں ہیں۔ پانچ بچے ہیں، جو پڑھائی کے خواب آنکھوں میں سجائے اُس کے گرد بیٹھتے ہیں، لیکن وہ خواب روز بھوک کی نذر ہو جاتے ہیں۔
راستہ کٹتا جا رہا تھا، لیکن اُس کی کہانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ مسلسل بول رہا تھا، جیسے برسوں کا بوجھ اتارنا چاہتا ہو۔ ”صاحب، کبھی کبھی لوگ ہمیں بلاتے ہیں، دن بھر مزدوری کرواتے ہیں، اور شام کو کہتے ہیں کہ کل آنا، آج پیسے نہیں ہیں۔ ہم بات کریں تو کہتے ہیں، تم مزدور ہو، ہماری مہربانی ہے کہ ہم نے تمہیں کام دیا۔“ اُس کے لہجے میں بے بسی کا سمندر تھا، اور میری خاموشی جیسے اُس کے درد کا آئینہ بن چکی تھی۔
اُس نے ایک گہری سانس لی اور کہا۔ ہم روز محنت کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہاتھ خالی رہتے ہیں، جیسے قسمت نے ہمارے ساتھ مذاق کیا ہو۔ ”
جب چوک قریب آیا تو اُس نے بائیک سے اُترتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ”صاحب، آپ نے جو کیا، وہ بہت ہے۔ لیکن یہ دنیا ہم مزدوروں کے لیے نہیں بنی۔ ہماری زندگیاں ایسے بے معنی ہیں جیسے کسی دھند میں کھو جانا۔“ اُس کی آنکھوں میں شکریہ تھا، لیکن اُس کے الفاظ میں درد کا سمندر چھپا ہوا تھا۔
وہ چلا گیا، جب میں نے اُسے جاتے دیکھا تو اُس کی جھکی ہوئی کمر، تھکے قدم، اور لرزتی سانسیں مجھ سے سوال کر رہی تھیں کہ ہم نے اپنی بے حسی کو کب انسانیت پر ترجیح دے دی؟ اُس کی کہانی نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ آج پہلی بار یہ محسوس ہوا کہ مزدور کی محنت صرف جسمانی نہیں، بلکہ وہ ہماری نا انصافیوں کا بوجھ بھی اُٹھاتا ہے۔ اور شاید ہم کبھی اُس کا قرض نہیں چکا پائیں گے۔ اُس کی کہانی میرے ذہن میں ایک گونج بن کر رہ گئی۔ اُس کے کپڑوں کی مٹی میرے دل پر نقش ہو گئی۔ آج میں نے جانا کہ مزدور کا ہر سانس ایک جنگ ہے، اور وہ جنگ وہ اپنے بچوں کے خوابوں کے لیے لڑتا ہے۔ لیکن کیا ہم اُس کے خوابوں کے حق میں کبھی انصاف کر سکیں گے؟ شاید کبھی نہیں۔


