ڈاکٹر خالد سہیل کی خود گزشت : سالک
میں ڈاکٹر خالد سہیل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی خود گزشت : ’سالک‘ بڑے رسان سے مجھے مطالعے کے لیے ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ جب میں ’سالک‘ کا مطالعہ کر رہا تھا تو مجھے اپنا آغازِ کتب بینی کا وہ زمانہ یاد آ رہا تھا جس کا آغاز میں نے سوانح عمریوں سے کیا تھا۔ مجھے وہ دن یاد آرہے تھے جب میں امیر تیمور کی آپ بیتی : ”میں ہوں تیمور“ ، ابراہم لنکن کی : ”لنکن“ اور ”چے گویرا کی ڈائری“ پڑھی تھیں۔ ان سوانح عمریوں کو پڑھ کر میں سوچا کرتا تھا کہ کسی شخص کی داستانِ حیات پڑھتے ہوئے آپ درحقیقت اس چشمے تک جا پہنچتے ہیں جہاں سے بلندیِ کردار، شجاعت، مستقل مزاجی، جہدِ مسلسل اور انسانی ارتقا کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ جو دریاؤں کی مانند آگے چل کر پست ہمتی، جہالت، بے راہ روی اور کاہلی سے متاثرہ، خشک اور بنجر سرزمینوں کو سیراب کر کے ان کو نسلِ انسانی کے کارواں کے لیے ساز گار منفعت بخش اور کارآمد بنا دیتے ہیں۔ ان اکابرین کی کہانیاں آنے والے زمانوں میں پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے قابل تقلید مثالیں بن جاتی ہیں۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
ہوائے شب تجھے آئندگاں سے ملنا ہے
سو تیرے پاس امانت ہے گفتگو میری
مجھے درجنوں آپ بیتیوں نے متاثر کیا مگر ان سب کی فہرست یہاں ضبطِ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔ مگر جن خود گزشتوں نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں نیلسن مینڈیلا کی : لانگ واک ٹُو فریڈم، خوشونت سنگھ کی : ٹروتھ لو اینڈ اے لٹل میلس (سچ محبت اور ذرا سا کینہ) اور جوش ملیح آبادی کی ’یادوں کی بارات‘ تھی۔ میری ان کتب سے متاثر ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کا سچا انداز اور کھرا بیان تھا۔ خوشونت سنگھ نے اپنی ایک دیگر تصنیف : ’لیسنز آف مائی لائف‘ (میری زندگی کے اسباق) میں لکھا ہے کہ ”ایک لکھاری اگر سچ نہیں لکھ سکتا تو بہتر ہے کہ نہ لکھے۔“ مگر بدقسمتی سے سچ لکھنا سچ بولنے سے بھی زیادہ کٹھن کام ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل کی ’سالک‘ چند اوصاف کی وجہ سے ایک منفرد خود گزشت ہے۔ اولین، یہ آپ بیتی حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔ جن کو مختصر کہانیوں کی صورت ایک خوبصورت اور دلچسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ دوئم، اس آپ بیتی کی انفرادیت کی ایک بڑی وجہ اس کا غیر روایتی اسلوب ہے۔ گرائمر کے اعتبار سے عموماً آپ بیتی صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے۔ جب کہ سالک صیغہِ واحد غائب کے اسلوب میں لکھی گئی ہے۔ جس میں اسمِ ضمیر میں ’خضر‘ کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کہانی کے دیگر کردار، مقامات حتیٰ کہ اسمائے صفات بھی استعاراتی عنوانات یا نام رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر خضر کی والدہ کا نام مذہب، والد کا نام تصوف اور مادری وطن کا نام روایت رکھا گیا ہے۔ یوں کتاب میں شامل ہر کہانی ایک استعاراتی عنوان رکھتی ہے۔ سوئم، کتاب کا اختصار ہے جو طویل آپ بیتیوں کی اکتاہٹ سے مبرا ہے۔
خود گزشت میں خضر سچ کی تلاش میں نکلا ہوا ایک مسافر ہے جو اپنے ساتھ معصومیت، حیرت اور کوشش کا زادِ راہ لیے منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ راستہ کٹھن ہے اور منزل کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں۔ مگر خضر بلند حوصلے اور مستحکم ارادوں کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ سالک کے کچھ خواب ہیں، جن کی تعبیر اس کو جہدِ مسلسل اور نیک نیتی سے کی گئی محنت سے ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ ان میں خضر کا طبیب، ادیب اور شاعر بننے کے خواب شامل تھے۔ مگر فطرت اضافی طور پر خضر کو ایک انسان دوست دانشور، سکالر اور فلسفی جیسے تحفے بھی عطا کر دیتی ہے۔ یہ وہ سنگِ میل ہیں جو خضر کے راستے کو منور و ممیز کرتے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ پا لینے کے باوجود خضر کا سچ کی تلاش کا سفر چھ سات دہائیوں سے جاری و ساری ہے۔ شاید اسی لیے اس نے اپنی کتاب کو ’سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے مسافروں کے نام‘ کیا ہے۔ جو میرے سمیت ان سب افراد کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے جو اسی راہ کے مسافر ہیں۔
’تلاش‘ کے عنوان سے کتاب میں لکھی گئی ایک نثری نظم کچھ یوں ہے :
خضر نے اپنی زندگی کی
نجانے کتنی صبحیں اور کتنی شامیں
کتنے دن اور کتنی راتیں
کتنے سال اور کتنی دہائیاں
یہ سوچتے ہوئے گزار دیں
کہ اسے اپنے سوال کا جواب نہیں ملا
ایسا جواب
جو زندگی کا معمہ حل کر دے
زندگی کی بجھارت بوجھ لے
زندگی کا راز منکشف کر دے
اس نے
ساری دنیا کا سفر کیا
اور
بہت سے
ادیبوں اور شاعروں
فنکاروں اور دانشوروں
درویشوں اور فلاسفروں
سے ملاقاتیں کیں
ان سے زندگی کا راز پوچھا
لیکن اس کو کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا
اور آخر جواب ملا بھی تو
اپنے ہی پچھواڑے میں
اپنے ہی خاندان میں
اپنے ہی گھر میں
ایسی جگہ
جہاں اسے بالکل توقع نہ تھی کہ اسے جواب ملے گا
خضر کو زندگی کی حقیقت کے حوالے سے کیا جواب ملا؟ اس کا جواب آپ کو کتاب کے مطالعے سے ملے گا۔
کتاب کا تعارف کرواتے ہوئے مصنف نے دوران قلمبندی ایک نئے شعور کا ادراک ہونے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : ”اس کہانی کو رقم کرتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا کہ کیسے ہر انسان پوری انسانیت کے ساتھ کچے دھاگے سے جڑا ہوا ہے اور دنیا بھر کے سب انسان ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں کیونکہ وہ سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔ اسی لیے ہم سب انسانوں کو محبت، پیار، دوستی اور اپنائیت سے مل جل کر رہنا چاہیے تاکہ کرہ ارض پر کامل انسان بن کر پر امن معاشرے قائم کر سکیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکیں۔“
یہ کتاب مختصر کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ہر کہانی دیکھنے کو مختصر ہے مگر معنویت کے اعتبار سے اپنے اندر ایک گہرا فلسفہ رکھتی ہے۔ 165 صفحات پر مشتمل اس دلچسپ کتاب کو ’سانجھ پبلی کیشنز‘ نے نہایت خوبصورت اور دیو مالائی قسم کے سر ورق کے ساتھ لاہور پاکستان سے شائع کیا ہے۔ خبر گرم ہے کہ ’سالک‘ کی تقریب رُونمائی و پذیرائی 2 فروری 2025 ء کو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ادبی و تخلیقی تنظیم ’فیملی آف دی ہارٹ‘ کے زیرِ انتظام منعقد ہو رہی ہے۔ جس میں اربابِ ذوق کتاب پر اپنی آراء پیش کریں گے۔



