پیکا قانون: آزادی اظہار کی سسکیاں


یہ ایک ایسا عہد ہے جس میں الفاظ کو زنجیروں میں جکڑنے کی سعی کی جا رہی ہے، ایک ایسا سماج جس میں قلم کی حرمت کو بیڑیوں میں قید کرنے کے جتن کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں پیکا نامی قانون کا نفاذ ایک ایسے دور میں کیا گیا جب آزادیٔ اظہار پہلے ہی سیاست، معیشت اور معاشرت کے پیچیدہ دھاگوں میں الجھ چکی ہے۔ یہ قانون ابتدائی طور پر 2016 میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں متعارف کروایا گیا، مگر بعد ازاں 2022 میں تحریک انصاف کے دور میں اس میں مزید ترمیمات کی گئیں، جنہوں نے اس قانون کی اصل روح کو مزید قید کر دیا۔ پیکا کی آڑ میں آزادیٔ رائے پر وہ قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں جو نہ صرف صحافتی اقدار بلکہ آئینِ پاکستان کے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔

یہ تاریخ کا ستم ظریفانہ پہلو ہے کہ ہر دورِ اقتدار اس قانون کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرے گا۔ ابتدا میں تو اس کا مقصد سائبر کرائمز کی روک تھام قرار دیا گیا ہے، مگر بعد ازاں خدشہ ہے کہ اسے تنقید دبانے اور مخالف بیانیے کو خاموش کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر برتا جائے گا۔ صحافی، دانشور، اور عام شہری، جو ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھائیں گے، اس قانون کے تحت مقدمات کا سامنا کریں گے۔ پیکا کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں ملزم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکتا ہے، اور یہ قانون اس حد تک مبہم رکھا گیا ہے کہ کسی بھی تحریر، تبصرے، یا رپورٹنگ کو ”جھوٹا“ یا ”گمراہ کن“ کہہ کر جرم کے دائرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

یہ قانون اس بنیادی اصول کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں آزادیٔ اظہار ہی وہ بنیادی اکائی ہے جو فکری ارتقا کو ممکن بناتی ہے۔ یونانی فلسفی سقراط کی تاریخ کو یاد کیجیے، جسے محض اس لیے زہر کا پیالہ پینا پڑا کہ اس نے نوجوانوں کو سوال اٹھانے کی ترغیب دی۔ برطانوی مؤرخ لارڈ ایکٹن نے کہا تھا کہ ”اقتدار کرپٹ کرتا ہے، اور مطلق العنان اقتدار مطلق کرپشن پیدا کرتا ہے۔“ یہی اصول پیکا کے اطلاق پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ قانون طاقت ور حلقوں کے ہاتھ میں ایک ایسا آلہ بن جائے گا جو تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے بے دریغ استعمال ہو گا۔

ماضی میں، برطانوی راج میں بھی اسی نوعیت کے قوانین نافذ کیے گئے تھے تاکہ آزادیٔ صحافت اور اظہار پر قدغن لگائی جا سکے۔ 1867 کا ورناکیولر پریس ایکٹ، جو برطانوی ہندوستان میں نافذ کیا گیا، کا مقصد یہی تھا کہ کسی بھی ایسی تحریر کو جو حکومتِ وقت کے خلاف ہو، سخت سزاؤں کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔ یہی اصول آج کے پاکستان میں پیکا کے تحت لاگو کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نوآبادیاتی دور میں ایسے قوانین جابرانہ سمجھے جاتے تھے، تو آج انہیں جمہوری ریاست میں کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟

پیکا کے تحت زیادہ تر مقدمات صحافیوں اور حکومتی ناقدین کے خلاف درج کیے جائیں گے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر مخالف آواز کو ”ریاست مخالف“ یا جھوٹا ”کہہ کر خاموش کر دیا جائے، تو کیا یہ سماج فکری ترقی کر سکے گا؟ تاریخ شاہد ہے کہ وہ اقوام جو سوال اٹھانے سے ڈرتی ہیں، وہ زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔ اندلس کے زوال کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہاں علمی مکالمہ ختم کر دیا گیا، سوال اٹھانے والوں کو غدار کہا گیا، اور علم کو محض ایک مخصوص بیانیے تک محدود کر دیا گیا۔

پیکا قانون کے نتائج نہ صرف صحافت بلکہ سماجی ڈھانچے پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ قانون ایک ایسے معاشرے کو جنم دے گا جہاں لوگ اپنی رائے کا اظہار کرنے سے خوف زدہ ہوں، جہاں تنقید کرنا بغاوت تصور کیا جائے، اور جہاں سچ بولنے کی قیمت قید و بند کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا، تو یہ قوم فکری قید میں مبتلا ہو جائے گی، جہاں صرف وہی سنا جائے گا جو حکمران سننا چاہتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون پر ازسرِ نو غور کیا جائے، اس کی خامیوں کو درست کیا جائے، اور اس کا دائرہ کار ایسا بنایا جائے کہ یہ آزادیٔ اظہار کو نہیں بلکہ حقیقی جرائم کو روکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو پاکستان ایک ایسے راستے پر چل نکلے گا جہاں اختلافِ رائے بغاوت کہلائے گا، اور تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ جو اقوام سچ کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ بالآخر اپنی تباہی کی بنیاد خود رکھتی ہیں۔

Facebook Comments HS