پی ایچ ڈی یورپ اور ہم ( 5 )


ہمیں ڈاکٹر ہارنگی راکوش مونیکا صاحبہ کی طرف سے ای میل آ چکی تھی، ڈاکٹر مونیکا ہمارے ڈاکٹرل اسکول کی سیکرٹری تھیں، ہم صبح جلدی جاگے، آج ناشتہ فجر کی نماز سے بالکل متصل تھا، تیار ہوئے اور ڈاکٹر جوزف پاپ کے ساتھ میٹنگ کے لئے روانہ ہو گئے، ہمیں بعد میں احساس ہوا کہ ہماری تیّاری پاکستانی انداز کی تھی نہ کہ یورپی انداز کی، یعنی ہم نے پاکستانی اعتبار سے رسمی لباس زیب تن کیا تھا یعنی پینٹ کوٹ اور ٹائی لگا کر بابُو بنے پھرتے تھے، وہاں ہنگری میں اس کے علاوہ 2 بار اور ہم اس انداز سے بابُو بنے تھے ایک اپنے پی ایچ ڈی کے ڈیفنس کے دن اور دوسرا بھی ڈیفنس جو کہ اِن ہاؤس ڈیفنس ہوتا ہے جسے ہم پاکستان میں مَوک ڈیفنس کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یورپ میں عام طور پر لوگ ٹائی کوٹ کی زحمت نہیں کرتے۔

ہم میٹنگ کے لئے اپنے کیمپس گئے، ڈیبرسن یونیورسٹی پورے ڈیبرسن شہر میں پھیلی ہوئی تھی یعنی چار کیمپس تھے، ہماری فیکلٹی اگرار یعنی ایگریکلچرل کیمپس میں واقع تھی یہ پہلے الگ ایگریکلچر یونیورسٹی تھی جو بعد میں ایک ہی یونیورسٹی ہو گئی۔ درحقیقت شروع میں بھی تمام شعبہ جات ایک ہی یونیورسٹی میں منتظم تھے جو کہ 1949 و 1950 میں توڑ کر الگ الگ خود مختار تعلیمی ادارے بن گئے یعنی میڈیکل اسکول الگ یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر گیا، اگرار یونیورسٹی الگ اسی طرح نیچرل سائنسز، آرٹس، انجینئرنگ اور لاء کالج الگ یونیورسٹیاں یا کالج بن گئے جو کہ سن 2000 میں دوبارہ یکجا کر دیے گئے لہذا یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیز نے سمٹ کر بھی دیکھا تھا اور بکھر کے بھی۔

اگرار کیمپس بوسرمینی اُتسا پر واقع تھی، بوسرمینی اُتسا دیبرسن کی ایک اہم شاہراہ ہے جو کہ موٹروے سے جا ملتی ہے اسی شاہراہ پر اگرار کیمپس کے سامنے سال میں 2 بار میلہ یا بازار سجتا ہے جس میں اکثر دکاندار جپسی ہوتے ہیں، اِن جپسیوں کی شکلیں ہم برصغیر کے راہ واسیوں سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہیں، انشاء اللہ ان جپسیوں کی تاریخ پر آئندہ کسی تحریر می تفصیلی تذکرہ کروں گا۔

بوسرمینی ہنگری کی تاریخ میں دو نامور شخصیات کے نام ہیں ایک ڈاکٹر ایون بوسرمینی ناج کہ جو سائیکیٹری میں فیملی تھیراپی کے بانیوں میں سے ہیں، ڈاکٹر ایون ناج 1920 میں بوداپست میں پیدا ہوئے، 1950 میں امریکہ سدھار گئے اور 86 برس زندہ رہنے کے بعد پینسلوانیا میں اس فانی جہان کو خیر باد کہہ گئے، دوسری اہم شخصیت ایک شاعر کی ہے یہ ہیں زولٹن بوسرمینی، یہ 1951 میں رومانیہ کے شہر اراد میں پیدا ہوئے، اراد 1918 تک ہنگری کا حصہ رہا، اور آسترو ہنگیرین ایمپائر کے ٹوٹنے کے بعد ٹرانسلوینیا علاقے کا یہ شہر رومانیہ کے زیر سلطنت آ گیا، اس علاقے میں اب بھی ہنگیرین اقلیت میں ہیں، مَیں ایک بار اپنے پروفیسر صاحب کے ساتھ اس شہر میں گیا تھا، وہ اراد کی ایک یونیورسٹی میں رفاہی طور پر پڑھانے جایا کرتے، انہوں نے مجھے وہ جگہ بھی دکھائی کہ جہاں زولٹن بوسرمینی اکثر شام کو چہل قدمی کیا کرتے اور پھر رومانیہ کی سیکریٹ پولیس نے انہیں پکڑ کر ٹارچر کیا اور وہ رہائی کے بعد کینیڈا چلے گئے، زولٹن بوسرمینی نے بچوں کی بہت معروف نظمیں اور انقلابی ترانے لکھے اور انہیں بھی حبیب جالب، فیض صاحب اور فراز کی طرح زندان دیکھنا نصیب ہوا۔ یعنی بقول فیض صاحب کے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

تاریخ کے مطابق بوسرمینیا ایک مسلم قبیلے کا نام تھا جو کہ دسویں سے بارہویں صدی عیسوی کے درمیان بلغاریہ یا پھر خوارزم یا دونوں مقامات سے ہنگری آئے، معروف عرب تاریخ دان المسعودی کے مطابق بھی مسلم تاجر ہنگری آئے اور ماجار یا ہنگیرین قبائل نے ان کو خوش آمدید کہا، پُر تپاک استقبال بھی کیا یہی نہیں بلکہ یہ ہنگیرین کو مسلمان بنانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ سلطنت عثمانیہ نے ہنگری پر ڈیڑھ صدی سے زیادہ حکومت کی یعنی 1520 سے 1686 تک۔ مگر سمجھ نہیں آتی کہ ہنگیرین مسلمان کیوں نہ ہو سکے، کہیں ایسا تو نہیں کہ مغل راج کی طرح عثمانیوں نے بھی ہنگیریوں سے اپنی عیّاشیوں کا سامان خوب جی بھر کے مہیا کیا ہو کہ جیسے مغل شہنشاہوں کے ہاتھوں سے طوطے اڑ جایا کرتے تھے نازک بدن کنیزوں کو دیکھ کر۔ ہماری ہنگیرین زبان کی پروفیسر نے ایک بار باتوں باتوں میں کہہ دیا تھا کہ ہم خنزیر اس لئے کھاتے ہیں کہ عثمانی جِتنا عرصہ ہم پر حکمران رہے، ہمارے پاس اور کوئی گوشت بچتا ہی نہیں تھا کھانے کو تو پھر ہمارے پُرکھوں نے خنزیر پر ہی گزارا کر لیا۔ ممکن ہے ہماری محترم استانی صاحبہ حقیقت ہی بیان فرما رہی ہوں، ویسے تو حضرت علامہ اقبال نے عثمانیوں پر ٹوٹنے والے کوہ غم کا ذکر اپنی معروف نظم طلوع اسلام کے اس شعر میں خوب کیا ہے کہ:

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

نہ جانے کس مصلحت کے تحت حضرتِ اقبال غموں کے اُن پہاڑوں کا ذکر اپنے اشعار میں نہ لا سکے کہ جو عثمانیوں کی خلافت کی جانب سے اُمت پر ڈھائے گئے اور ان غموں کا سلسلہ آج بھی طیب اردگان صاحب تک جاری ہے کہ جنہوں نے فلسطینی مظلومین کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا اور بظاہر منافقانہ انداز میں حماس کے ساتھ مگر حقیقت میں صیہونیوں کی پشت پناہی کرتے رہے۔

خیر ہم اپنی پہلی مِیٹنگ کی کَتھا کی جانب پلٹتے ہیں، اگرار کیمپس ایک وسیع کیمپس ہے، کشادگی، وسعت، سبزے اور خوشبوؤں کا احساس غالب رہتا ہے، بے تحاشا درخت اور کیاریوں میں پُھول، بطور خاص لیونڈر کہ جس کی خوشبو نے ہمیں اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا، اگرار کیمپس میں داخل ہوں تو داخلے پر کوئی بڑا دروازہ یا کِواڑ نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی پُرشکوہ چیک پوسٹ کہ جس پر سنتری یا پاسبان آہنی و آتشیں اسلحے کے ساتھ مورچہ بند ہوں، یہاں تو فقط گاڑیوں کے لئے آٹومیٹڈ پارکنگ ٹکٹ والے بیریئرز لگے ہیں داخلے کے ساتھ ہی دائیں جانب ٹی وی کے بلڈنگ کہ جو ماڈرن تعمیر کے طرز پر بنائی گئی تھی اس بلڈنگ پر جی ٹی کے لکھا ہوا تھا جسے ہنگیرین زبان میں گازتاش تو دیومانئے کار پڑھا جاتا ہے یعنی فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ بزنس۔ بلڈنگ کے باہر خوبصورت سے بنچ نصب ہیں اور ان کے ساتھ ہی ایش ٹرے بھی بنے ہوئے ہیں کہ جہاں بیٹھ کر سگریٹ نوشی کی جا سکے، ہنگری میں سگریٹ بہت زیادہ پیا جاتا ہے اور اس معاملے میں جنس کی تمیز نہیں ہے بلکہ شاید وہاں کی خواتین مردوں کی نسبت زیادہ ہی سگریٹ سے اپنے غم غلط کرتی ہوں کہ ان کے غم ہیں بھی مردوں کی نسبت زیادہ ہی کہ وہ ہمارے ہاں کی عورتوں کی نسبت کم عرصہ ہی بے غم رہ پاتی ہیں کہ بہت جلد ان کے شوہر انہیں داغ بے وفائی دے جاتے ہیں اور پھر وہ اپنے بچوں یا بوائے فرینڈ اور سگریٹ کے علاوہ مے سے بھی غم غلط کرتے کرتے گزر جاتی ہیں۔ سگریٹ پینے کی اتنی زیادہ عادت ہونے کے باوجود میں نے اپنے محترم پروفیسر صاحب کے علاوہ کسی کو بھی کسی بِلڈنگ کے اندر سگریٹ پیتے نہ دیکھا تھا ہر بلڈنگ کے باہر سگریٹ نوشی کے لئے مقام مخصوص ہوتا جہاں ایش ٹرے بھی نصب ہوتے تھے۔ مجھے اپنے تین سالہ قیام میں نہ تو کبھی کوئی سگریٹ کا ٹکڑا اور نہ ہی کوئی ریپر یا کاغذ کا ٹکڑا سڑک یا فٹ پاتھ پر نظر آیا، خدا ہمیں بھی اس قدر صفائی ستھرائی کی توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے لئے تو صفائی آدھے ایمان کا درجہ رکھتی ہے ہاں فقط زبانی کلامی ہی نہ کہ عملی طور پر۔

داخلے کے گیٹ کے سامنے گھنے درخت اور درختوں کے اّس پار ایک وسیع سبز میدان جس میں سالانہ زرعی میلہ لگایا جاتا تھا، داخلے کے بائیں جانب فیکلٹی ہاسٹل، اس کے ساتھ ہی اس کیمپس کا یونیورسٹی ریستوران اگرار ایٹرم تھا، گرار ایٹرم کے سامنے کھڑے ہوں تو دائیں جانب فنانس ڈیپارٹمنٹ کی بہت اعلیٰ اور نئی بلڈنگ اور اس کے ساتھ منیجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی عمارت اور اس کے پیچھے گھنے درخت اور ان درختوں کے پیچھے یونیورسٹی کے طلبہ کی کاشتکاری کے شوق کو فروغ دینے کے لئے زرعی زمین کے پلاٹ کہ جہاں یونیورسٹی کا کوئی بھی طالب علم رجسٹریشن کروا کے سبزیاں وغیرہ اگا سکتا ہے۔

ریستوران کے پیچھے ہاسٹل اور ہاسٹل کی اُس جانب اگرار کیمپس کی مین بلڈنگ واقع تھی جہاں پہنچتے ہی ڈاکٹر مونیکا نے انتہائی خوش مزاجی سے ہمارا والہانہ استقبال کیا، وہ سیاہ رنگ کا اسکرٹ پہنے تھیں، ہم تینوں نے انہیں ہیلو کہا وہ ہم سے ہاتھ ملانا چاہتی تھیں مگر فقط میڈم سحر نے ہی ان کا ساتھ دیا ہم بات کر ہی رہے تھے کہ ڈاکٹر پاپ دروازے پر آ گئے، ڈاکٹر مونیکا نے ان کا اور ہمارا تعارف کروایا، انہوں نے ہم سے ہاتھ ملایا، میڈم سحر سے بھی ہاتھ ملانا چاہا جو کہ میڈم نے انکار کر دیا، جس پر پاپ صاحب نے فرمایا کہ ہم نے تو بے نظیر بھٹو کو ہاتھ ملاتے دیکھا ہے۔

اتنے میں ہم پاپ صاحب کے دفتر داخل ہوئے، مناسب سا دفتر تھا، ہمارے پروفیسروں کی طرح کوئی شاہانہ طرز کا نہیں تھا، البتہ کشادہ تھا، پاپ صاحب نے دیگر پروفیسروں سے ہمارا تعارف کروایا اور ہمارے علاوہ ایک اور بین الاقوامی پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر یحییٰ الشیہی جو کہ ابو ظہبی سے تھے ان سے بھی ہم متعارف ہوئے۔ پاپ صاحب نے فرض میزبانی کے طور پر ہم سے چائے پانی کے علاوہ وہسکی، بیئر اور مشہور ہنگیرین شراب پالِنکا کا بھی پوچھا پاپ صاحب کا فِرج ہمہ وقت نایاب مغربی مشروب سے بھرا رہتا، اگر ہم مفتی قوّی صاحب سے بیعت ہوتے تو ضرور استفادہ کرتے، ہم نے فروٹ ٹی پر اکتفا کر لیا، پاپ صاحب نے خود گرم پانی کے کپ ہمارے سامنے رکھے اور ساتھ ہی کئی قسم کی گِرین ٹی یا فروٹ ٹی کے ٹی بیگ بھی۔

ہم اس مِیٹنگ کے لئے ذہنی تناؤ میں تھے مگر ہماری توقع اور پاکستانی رواج کے برعکس تمام پروفیسر صاحبان بہت ہی خوش گوار مُوڈ میں تھے، انتہائی پرسکون ماحول تھا سارے پروفیسرز نے ہم سے حال احوال پوچھا، تحقیقی موضوعات پر کچھ بات ہوئی، ہمیں تحقیق کو چھاپنے یا پبلش کرنے کی جو لازمی ضروریات تھیں ان کا تعارف کروایا، اچھی بات یہ تھی کہ آغاز ہی سپروائزر یا تحقیقی نگران کے ساتھ کام کرنے سے ہو رہا تھا جب کہ ہمارے ہاں پہلے کورس ورک پھر، کمپری ہینسو امتحان اور پھر جا کر سپروائزر کی بات چلتی ہے۔ مِیٹنگ بہت اچھی رہی ہم سب بہت خوش تھے اور یہ تاثر لے کر اٹھے کہ یہ لوگ کتنے سادہ طبع، خوشگوار، با اخلاق اور تعاون کرنے والے ہیں۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS