علمائے دیوبند اور مسلم لیگ: ایک موازنہ اور پورا سچ

رسالہ ’الحق‘ دارالعلوم اکوڑہ خٹک کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔ دسمبر 2015 کے شمارے میں ایک مضمون ’مولانا محمد قاسم نانوتوی کا سیاسی تفکر اور شیخ الہند‘ کے نام سے شائع ہوا۔ شیخ الہند کا لقب مدرسہ دیوبند کے عالم محمود حسن صاحب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ سب کو علم ہے، پہلی جنگ عظیم کے دوران انہیں حجاز سے گرفتار کر کے مالٹا میں قید رکھا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران ترک حکومت سے مل کر برطانوی حکومت کے خلاف سازش کی ہے۔ اگرچہ اس وقت محمود حسن صاحب نے اس الزام سے انکار کیا تھا۔ مختصر یہ کہ اس مضمون میں مختلف حوالے درج کر کے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ انگریزوں کے دور میں دیوبند کے علما برطانوی حکومت کے خلاف سرگرم تھے۔
یہ تو سچ ہے کہ عبید اللہ سندھی صاحب نے جو کہ دیوبند میں استاد رہ چکے تھے، برطانوی حکومت کے خلاف تحریک چلائی تھی جو کہ ریشمی رومال کی تحریک کے نام سے معروف ہے۔ اور مدرسہ دیوبند کے محمود حسن صاحب کو برطانوی حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں مالٹا میں قید رکھا گیا تھا لیکن یہ آدھا سچ ہے۔ اب بہت سی خفیہ دستاویزات منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ہم ان کی روشنی میں پورا سچ جاننے کی کوشش کریں گے۔ سب سے پہلے تو یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر محمود حسن صاحب کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا؟
گزشتہ چند دہائیوں میں جو ریکارڈ منظر عام پر آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ترکی کی سلطنت عثمانیہ جرمنی کی اتحادی بن کر پہلی جنگ عظیم میں کود پڑی تو ظاہر ہے کہ انگریز حکمرانوں کو اس امر کی پریشانی تھی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہمدردیاں ترکوں کے ساتھ ہوں گی اور اس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ اس لئے ہندوستان میں برطانوی حکومت نے ان مخالفانہ جذبات کا راستہ روکنے کے لئے کچھ اقدامات اٹھانے شروع کیے۔ گورنر کو یہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ دیوبند کے مدرسہ میں برطانوی حکومت کے خلاف جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ اور ان کے علماء کا ایک حکومت خلاف طبقہ دہلی منتقل ہو چکا تھا۔ شروع میں تو انگریز گورنر جیمز میسٹن نے ان اطلاعات کو نظر انداز کیا لیکن پھر مدرسہ کے مہتمم مولوی محمد احمد صاحب اور دوسرے اساتذہ نے گورنر کو تجویز دی کہ وہ دارالعلوم دیوبند کا دورہ کریں۔ چنانچہ یکم مارچ 1915 کو گورنر نے مدرسہ دیوبند کا دورہ کیا۔ گو اس موقع پر حکومت مخالف علما کا گروہ بھی موجود تھا لیکن پھر بھی یہ دورہ بہت کامیاب رہا اور اکثر علما نے حکومت کی تائید کی۔
اس کے بعد حکومت نے جو اقدامات اٹھائے، ان میں سے ایک اہم قدم یہ تھا کہ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم محمد احمد صاحب کو، جو کہ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب کے صاحبزادے تھے، شمس العلماء کا لقب اور ایک سند دی۔ اس کے بعد اس درسگاہ اور برطانوی گورنر کے درمیان مزید روابط پیدا ہوئے۔
چنانچہ 27 ستمبر 1915 کو دیوبند کے علماء کے ایک وفد نے گورنر جیمز میسٹن (James Meston) سے ملاقات کی اور انہیں ایک سپاس نامہ پیش کر کے اس بات کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے مدرسہ کے سربراہ کو یہ لقب عطا کیا گیا ہے اور یہ درخواست کی کہ وائسرائے تک بھی ان کا شکریہ پہنچا دیا جائے۔ اس سپاس نامہ میں یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ مختلف انگریز افسران بھی دارالعلوم دیوبند کا دورہ کرتے رہتے ہیں اور دیگر مراعات پر بھی برطانوی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر ہم یہ شکریہ نہیں ادا کریں گے تو یہ ہمارے مذہبی احکامات کی خلاف ورزی ہو گی۔ یہ سپاس نامہ اب تک محفوظ ہے۔ اور بعد میں وائسرائے نے گورنر کی وساطت سے اس ایڈریس کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
جب باقی علماء چلے گئے تو مہتمم مدرسہ دیوبند نے برطانوی گورنر سے تنہائی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم نے گورنر کو دیوبند کے چند علماء کی مشکوک سرگرمیوں کی بارے میں اطلاعات مہیا کیں۔ انہوں نے گورنر کو بتایا کہ دیوبند کے مولوی محمود حسن صاحب 18 ستمبر کو بمبئی سے بحری جہاز کے ذریعہ سے حجاز کے لئے روانہ ہو چکے ہیں اور اور وہ مدینہ کے شیخ کے ذریعہ سے ترکی کی سلطنت ِ عثمانیہ کے انور پاشا سے تعارف حاصل کریں گے تا کہ ہندوستان کی سرحدوں پر برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت شروع کرائی جا سکے۔ محمود حسن پہلے دہلی گئے تھے جہاں پر ایک اور حکومت مخالف دیوبند کے سابق استاد عبید اللہ سندھی صاحب نے ان کے اعزاز میں ایک بڑے استقبالیہ کا اہتمام کیا۔ اور اس موقع پر کانگرس کے ڈاکٹر انصاری صاحب بہت نمایاں تھے۔ وہ محمود حسن صاحب کو اپنے گھر لے گئے تھے اور وہاں انہیں ایک بہت بڑی رقم مہیا کی تھی۔
اصل میں ڈاکٹر انصاری کے بیگم صاحبہ مہتمم دارالعلوم دیوبند مولوی محمد احمد صاحب کی مرید تھیں۔ انہوں نے یہ باتیں سن کر مولوی محمد احمد صاحب کو بتائیں اور انہوں نے یہ مخبری انگریز گورنر تک پہنچائی۔
مولوی محمد احمد صاحب نے ہی گورنر کو یہ اطلاع دی کہ عبید اللہ سندھی صاحب اور ان کی حکومت مخالف تنظیم نظارۃ المعارف کا مرکز فتح پور مسجد دہلی ہے اور انہیں بھوپال کی ریاست سے دو سو روپیہ ماہانہ کا وظیفہ مل رہا ہے۔ اور انہوں نے گورنر پر زور دیا کہ عبید اللہ سندھی صاحب کو دہلی سے نکال کر سندھ بھجوا دینا چاہیے۔
اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ جب محمود حسن صاحب حجاز سے واپس ہندوستان آ رہے تھے تو کس نے یہ اطلاع حکومت تک پہنچائی تھی۔ اس وقت کے خفیہ محکموں کے جو کاغذات اب منظر عام پر آئے ہیں ان کے مطابق یہ اطلاع بھی مہتمم مدرسہ دیوبند مولوی محمد احمد صاحب ہی نے دی تھی اور اس کی بنا پر ہی محمود حسن صاحب کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جنوری 1916 میں وائسرائے کی حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو سہارنپور سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ مولوی محمد احمد صاحب نے یہ اطلاع دی ہے کہ محمود حسن صاحب حجاز سے واپس روانہ ہو چکے ہیں اور حجاز میں ان کی ترکی کے انور پاشا صاحب کے نمائندوں سے ساز باز ہو ہوئی ہے۔ اور اب محمود حسن صاحب کا ارادہ ہے کہ ہندوستان میں اور سرحدی علاقوں میں بغاوت پیدا کی جائے۔ اور ان کا ہم خیال گروپ یہ خبریں پھیلا رہا ہے کہ اس جنگ میں جرمنی کامیاب ہو گا اور اس کا فیصلہ ہندوستان میں ہو گا۔ اس کے علاوہ مولوی محمد احمد صاحب نے ان لوگوں کے نام بھی مہیا کیے جو اس سازش میں ملوث تھے۔
(The Indian Muslims Vol 5, compiled by Shan Muhammad, p 46-52)
آخر میں یہ دلچسپ موازنہ درج کرنا ضروری ہے کہ اس وقت دیوبند کے مہتمم اور ان کے ساتھی علماء برطانوی حکومت کو اطلاعات اور ثبوت مہیا کر رہے تھے کہ ان کے اپنے نمایاں استاد محمود حسن صاحب اور ان کے کچھ ساتھی حکومت کے خلاف بغاوت اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے چنانچہ ان کی بنا پر حکومت نے محمود حسن صاحب کو واپسی پر گرفتار کر کے مالٹا بھجوا دیا تھا۔ اور دوسری طرف آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے 1918 کے اجلاس میں محمود حسن صاحب کی رہائی کے لئے بھرپور آواز بلند کی تھی۔ اور حکومت کے اقدامات کی مذمت کر کے اسے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اور یہ اصرار کیا تھا کہ مولوی محمود حسن صاحب بے قصور ہیں۔ بعض لوگوں نے تو یہاں تک تجویز پیش کی گئی تھی کہ ہم محمود حسن صاحب کو رہا کروا کے مسلم لیگ کا نائب صدر بنا لیں گے اور اس وقت سی آئی ڈی نے اپنی رپورٹوں میں اس کا ذکر بھی کیا تھا۔ اس کے باوجود اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ سرکار پرستوں کی جماعت تھی اور علمائے دیوبند آزادی کے لئے جد و جہد کر رہے تھے۔ یہ منطق ناقابل فہم ہے۔

یہ حقیقت تاریخی حقائق سے ثابت شدہ ہے کہ مدرسہ دیوبند اور اس کے متعلقین انگریزی حکومت کے حمایتی تھے اور انہیں انگریز سرکار کی طرف سے وظیفہ بھی ملتا تھا اور وہ مدرسہ کے اجتماعات کی صدرات بھی کرتی تھی اسی لئیے قیام پاکستان کی سب سے زیادہ مخالفت علماء دیو بند نے کی تھی۔اشرف علی تھانوی اور شبیر احمد عثمانی کو تحریک پاکستان کی حمایت کرنے پر سب و شتم کا سامنا کرنا پڑا۔اج بھی دیو بند کے تمام فتاوی حکومت ہند کی منشاء کے مطابق دئئے جاتے ہیں،جسے گائے کی قربانی پر بندش کا فتویٰ دیا گیا پے۔