کیا نکی نکی کرپشن نظرانداز کی جا سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرپشن ایک ناسور ہے۔ اس کی موجودگی میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ یہ میرٹ کو ختم کر دیتی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا بیڑہ غرق کر دیتی ہے۔ حقدار کو حق سے محروم کر دیتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن اگر ہمارا کام کسی سرکاری ادارے میں پھنس جائے تو ہمیں ایک کرپٹ اہلکار ہی کی تلاش ہوتی ہے خواہ ہمارا کام جائز ہی کیوں نہ ہو۔ عام تجربہ یہی ہے کہ ایکسٹرا ایماندار سرکاری اہلکار عوام کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔ جائز کام کے لئے بھی دفتر کے دس چکر لگواتے ہیں اور اس کے بعد بھی انکار کر سکتے ہیں کہ آپ کا کام نہیں ہو گا۔ ان دس دنوں میں آپ کی ملازمت اور کاروبار وغیرہ کا ہزاروں لاکھوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔

جبکہ درد دل و جگر رکھنے والا ایک کرپٹ اہلکار اسی سیٹ پر بیٹھا ہو تو سبحان اللہ۔ آپ کی شکل دیکھتے ہی اسے آپ کی مشکل کا اندازہ ہو جائے گا۔ کام کی نوعیت کے حساب سے سو پچاس یا چند ہزار کا ہدیہ پا کر وہ آپ کی ہزاروں لاکھوں کی پریشانی اپنے سر لے لے گا۔ یا تو اسی وقت آپ کا کام ہو جائے گا، یا پھر اگلے چکر میں۔ اگر آپ کرپٹ اہلکار کے مطالبے پر آپ خواہ مخواہ کا بھاؤ تاؤ نہ کریں تو ممکن ہے کہ کام خود بخود ہو کر آپ کے گھر پر ہی پہنچ جائے۔

مثال کے طور پر ٹریفک چالان کا معاملہ ہی دیکھ لیں۔ آپ کیونکہ نہایت ایماندار ہیں اور کرپشن کے بہت زیادہ خلاف ہیں تو چالان کی پرچی کٹوا لیتے ہیں۔ اس کے بعد اگلے دن آپ کام سے چھٹی کر کے متعلقہ بینک کا رخ کرتے ہیں اور لائنوں میں لگ کر وہاں پانچ سو روپے جمع کرواتے ہیں۔ اس کے بعد آپ ٹریفک والوں سے اپنے کاغذات لینے کے لئے دوسرے دفتر کا رخ کرتے ہیں اور وہاں سے لائنوں میں لگ کر اپنے کاغذات واپس حاصل کرتے ہیں۔ جبکہ اگر آپ ایکسٹرا ایماندار نہ ہوں اور نکی نکی کرپشن پر یقین رکھنے والے ہوں تو جس وقت ٹریفک اہلکار نے آپ کو چالان کی خاطر روکا تھا، اسی وقت اس کے ساتھ تعاون کر لیں تو نہ صرف یہ کہ آپ کو بہت کم پیسے ادا کرنے پڑیں گے بلکہ آپ ایک دن کی بھرپور خواری سے بھی بچ جائیں گے۔

ہاں یہ بات تسلیم کہ کچھ محکمے درست کام نہیں کر رہے ہیں۔ جیسے کہ موٹروے پولیس والے۔ وہ موقعے پر ہی چالان کاٹ کر پیسے لے لیتے ہیں اور عوام کو خوار ہونے کا موقع نہیں دیتے۔ لیکن اس ایک محکمے کو مثال نہیں بنایا جانا چاہیے۔

آپ نے اپنے پراپرٹی ٹیکس وغیرہ کے معاملات دیکھنے ہوں یا دوسرے کسی ٹیکس کے۔ ہر جگہ یہی معاملہ چلتا ہے۔ گھر بیٹھے بیٹھے اچانک آپ کو ایک نوٹس ملتا ہے کہ آپ نے دو لاکھ روپے جمع کروانے تھے جس کی تاریخ بھی گزر چکی ہے۔ اب اگر آپ بدقسمت ہوں اور آپ کسی ایکسٹرا ایماندار دفتری اہلکار کے ہتھے چڑھ جائیں تو آپ کے نصیب میں نہ صرف یہ کہ سرکاری دفتروں کے بے شمار چکر لکھے ہیں بلکہ یہ سارے پیسے، جو کہ آپ جانتے ہیں کہ غلط شرح سے آپ پر منطبق کیے گئے ہیں، آپ کو جمع کروانے ہوں گے۔ جبکہ ایک نکا نکا سا کرپٹ افسر مل جائے تو نہ صرف یہ کہ ٹیکس کی درست سرکاری شرح سے آپ کے گھر پر دس ہزار روپے کا ٹیکس لگے گا، بلکہ گھر بیٹھے ہی آپ کا کام بھی ہو جائے گا۔

سیاستدانوں کو ہی دیکھ لیں۔ آپ کے حلقے کا ممبر اسمبلی اگر ایک قانون پسند اور ایماندار شخص ہے تو آپ کے بدمعاش برخوردار کو تھانے سے چھڑا کر لانے سے انکار کر دے گا۔ کہے گا کہ قانونی کارروائی ہونے دیں، بچہ بے قصور ہے تو عدالت اسے دو چار برس میں باعزت بری کر دے گی۔ جبکہ نکا نکا کرپٹ ممبر اسمبلی نہ صرف تھانے کچہری میں آپ سے مکمل تعاون کرے گا، بلکہ آپ کو بھرپور یقین بھی دلائے گا کہ یہ تو مار پیٹ کا چھوٹا مسئلہ تھا، اپنا بچہ ہے، قتل بھی کر دے تو پریشان مت ہونا، ہم خدمت کے لئے حاضر ہیں، آخر آپ نے ہمیں ووٹ دیا ہے۔ اسی خوبی کی بنا پر ہم اسے ووٹ بھی دیتے ہیں۔

تو حاصل کلام بس یہی ہے کہ جب تک نظام ایسا ہے جس کا مقصد عوام کو مشکل میں مبتلا کرنا ہے، نکی نکی کرپشن ہمارے لئے ایک رحمت ہے۔ اسے نظرانداز کیا جانا چاہیے۔ اگر قانون آپ کے لئے آسانیاں پیدا نہیں کر رہا ہے اور آپ کے جائز مسائل حل نہیں کر رہا ہے تو خدا کا شکر ادا کریں کہ نکی نکی کرپشن آپ کو بہت سی پریشانیوں سے بچانے کو موجود ہے۔

جب سرکار خود ہی یہ نہیں چاہتی ہے کہ آپ براہ راست اس کے خزانے میں پیسے جمع کروائیں بلکہ اس کی منشا یہی ہے کہ آپ نکی نکی کرپشن کرتے رہیں، تو پھر آپ کیوں سرکار سے ٹکر لینے پر تلے ہوئے ہیں؟ آپ کیوں سلطانہ ڈاکو بننا چاہتے ہیں؟  کیا نکی نکی کرپشن نظرانداز کی جا سکتی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1249 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar