برطانیہ میں پاکستانی طلبہ: تعلیم، کیریئر اور ثقافتی چیلنجز


8

ہر سال ہزاروں پاکستانی نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول کا خواب لے کر برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے ذہن میں ایک ہی تصور ہوتا ہے کہ تعلیم کے اختتام پر ان کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھل چکے ہوں گے، بالفرض یہاں کے معاشرے میں زمیں نہ بھی ہو سکے تو باقی دنیا انہیں سر آنکھوں پہ بٹھائے گی۔ برطانیہ ہوم آفس کے مطابق، صرف 2023 میں 30,000 سے زائد پاکستانی طلبہ کو سٹوڈنٹ ویزا جاری کیے گئے، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

جو ہوم آفس کی رپورٹ میں نہیں بتایا گیا وہ نکتہ یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانیوں نے اب کی بار امیگرنٹ روٹ کو سٹوڈنٹ روٹ پر فوقیت دی، ورنہ یہ تعداد حالیہ پاکستانی قوم کی ہوشربا نقل مکانی کے پس منظر میں کچھ بھی نہیں۔ بدقسمتی سے زیادہ تر پاکستانی طلبہ وہ پیشہ ورانہ مضامین نہیں چنتے جو ایک مستحکم کیریئر اور اچھی نوکری کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں، جیسے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی جنہیں (STEM) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کے برعکس، یہ زیادہ تر بزنس، مینجمنٹ، فائنانس اور اکنامکس جیسے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں، جن میں کامیابی کا انحصار صرف ڈگری پر نہیں بلکہ نیٹ ورکنگ، تجربے اور انٹرویو لینے والے کی ذاتی رائے پر ہوتا ہے۔ نتیجہ؟ ہزاروں پاکستانی طلبہ برطانیہ میں نہ تو اچھی ملازمت حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی مستحکم مالی زندگی گزار پاتے ہیں، اور یوں ایک ایسے دائرے میں قید ہو جاتے ہیں جہاں ان کے پاس محدود مواقع اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

تعلیم کے اختتام اور پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا کے آتے ہی طلبہ کو یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ ان کے اہداف یا تو ناممکن ہیں یا ان کا حصول بہت زیادہ مشکل ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی توجہ پیسہ کمانے پر مرکوز کر کے قانونی 20 گھنٹے سے بڑھ کر غیر قانونی ملازمتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ذہن نشین رہیں کہ 20 گھنٹے کی قانونی نوکریاں عارضی طور پر کچھ مالی استحکام تو فراہم کرتی ہیں، مگر بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات، کرائے اور روزمرہ کی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

یوں ایک جھوٹے سہارے پر زندگی گزارنے کا آغاز ہوتا ہے، جہاں تعلیم ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور مختصر مدتی بقا طویل مدتی اہداف پر حاوی ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر پاکستانی طلبہ ہوٹلوں، سیکیورٹی سروسز اور ڈلیوری ایپس میں کم اجرت کی ملازمتیں اختیار کرتے ہیں۔ یہاں بھی، مقامی افراد یا افریقی طلبہ کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، اور پاکستانی اکثریت ملازمتوں کی دوڑ میں سب سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ان کو جلد ہی احساس ہو جاتا ہے کہ ان کی ڈگریاں برطانیہ کے جاب مارکیٹ میں کوئی خاص وقعت نہیں رکھتیں۔ جب ان کا پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا شروع ہوتا ہے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ ان کی تعلیمی قابلیت کسی عملی فائدے کی حامل نہیں۔ بعض یونیورسٹیاں تو پاکستان کی اکثر یونیورسٹیز سے بھی درجہ بندی میں پیچھے ہوتی ہیں۔

اس لیے ان تعلیمی ویزوں کے اختتام پر جب قانونی نوکری کا کوئی راستہ نہ ملے تو کچھ طلبہ پناہ کی درخواست دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو ایک اور بحث طلب موضوع ہے۔ برطانیہ کے یورپی ہیومینٹیرین قانون سے بریگزٹ کے ساتھ جدائی کے بعد اب یہ راستہ بھی کم از کم طلبہ کے لیے ناممکنات میں سے ہے۔ جو طلبہ پناہ لینے کی کوشش نہیں کرتے، وہ اکثر غیر متوقع شادیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ان میں سے مردوں کے مقابلے زیادہ تر کچھ خواتین طلبہ ہی کامیاب ہو پاتی ہیں۔

ان کی اس کامیابی کے پیچھے بھی کچھ خاص عوامل ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ چونکہ ہمارے پاکستانی معاشرے کے مقابلے یہاں سانولے رنگ کو کھلے دل سے قبول کیا جاتا ہے اور کئی جگہ قدرتی کشش کی وجہ سے دیسی طلبہ یا سیٹلڈ پاکستانی خواتین اور افریقی مسلم طلبہ کے درمیان جو شادیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں انہیں کھلے دل سے قبول کیا جائے۔ لیکن دوسروں کو نسل پرستی کہنے والے ہم پاکستانی ایسی شادیوں کو قبول نہیں کر پاتے۔

نہ صرف ان شادیوں کا سیدھے سیدھے انکار کیا جاتا ہے بلکہ بعض کیسز میں اساس کے نتیجے میں ہونے والی اولاد کو بھی سات پرتوں میں چھپایا جاتا ہے اور لڑکی غیر شادی شدہ دکھا کر اپنوں میں اس کی دوسری شادی کروا دی جاتی ہے۔ حالات سے پسے ہوئے ان اور طالب علم اور پاکستان سے بیاہی گئی اکثر خواتین کو یہاں ایک مزدور کی طرح ہی دیکھا جاتا ہے جو گھر بھی سنبھالے گی اور کما کر بھی لائے گی۔ جبکہ پاکستانی طالب علم لڑکا شہریت ملنے کے بعد چھوڑ کر اپنی پسند کی شادی کر سکتا ہے اس لیے لڑکے سیدھے پاکستان سے ہی شادی کر کے لائے جاتے ہیں۔

اکثر پاکستانی طالب علم کوئی اور راہ نہ پا کر آپس میں ہی شادی کر لیتے ہیں۔ امید یہ ہوتی ہے کہ دو افراد مل کر زندگی کی مشکلات کو کم کر دیں گے، شوہر قانونی طور پر اسپاؤس ویزا پر فل ٹائم کمائے گا اور بیوی سٹوڈنٹ ویزا پر رہ کر اسپاؤس ویزا کا جواز فراہم کرے گی۔ مگر حالات اتنے سادہ نہیں رہتے۔ کئی سالوں کی جدوجہد، چھوٹے موٹے روزگار اور ذاتی قربانیوں کے بعد ، جو طلبہ برطانیہ کی شہریت حاصل کر بھی لیتے ہیں، وہ اکثر دیکھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی، الٹا پاکستان والی زندگی کہیں درجہ بہتر تھی۔

دونوں فریق اپنی مالی مشکلات اور ملازمتوں کے ٹاکسک رویوں کے بارے میں ایک دوسرے سے سچ نہیں بول سکتے کہ ضرورت کے رشتوں میں کبھی اعتماد کی فضا پروان نہیں چڑھتی، اور جب حقیقت کھلتی ہے تو اکثر دونوں فریق زہر کے گھونٹ پینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا الگ ہو جاتے ہیں۔ یوں ان کی اولاد ایک اور ٹوٹی ہوئی نسل کے طور پر پروان چڑھتی ہے۔ ان کی یہاں پیدا ہونے والی نسل کے لیے یہ مسئلہ صرف مالی مشکلات تک محدود نہیں، بلکہ ثقافتی تصادم اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ نتیجتاً نہ صرف ان کی اپنی بلکہ ان کی نئی نسل کے بھی خواب بکھر چکے ہوتے ہیں اور گوروں کے مقابلے ہم پلا شہری ہونے کی امیدیں دم توڑ چکی ہوتی ہیں۔ مقامی زبان میں ایسے بچوں کو ’بی بی سی دیسی‘ یعنی ’برٹش بورن کنفیوڈ لوکلز‘ کہا جاتا ہے، جو اس شناختی بحران کی عکاسی کرتا ہے جو ان کے والدین کا ہی دین ہے۔

یہ سارا بحران ایک بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غیر وقعتی تعلیمی انتخاب، مختصر مدتی بقا کی حکمت عملی جہاں تعلیم کی بجائے کمانے پر توجہ دینا، اور ثقافتی تضاد مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جو زندگی بھر کی مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ تر پاکستانی طلبہ بس ایک غیر یقینی زندگی سے دوسری میں منتقل ہوتے ہیں، اور وہ خواب جو انہوں نے برطانیہ آتے وقت دیکھے تھے، کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پاتے۔

Facebook Comments HS