برطانیہ میں پاکستانی طلبہ: تعلیم، کیریئر اور ثقافتی چیلنجز

8 ہر سال ہزاروں پاکستانی نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول کا خواب لے کر برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے ذہن میں ایک ہی تصور ہوتا ہے کہ تعلیم کے اختتام پر ان کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھل چکے ہوں گے، بالفرض یہاں کے معاشرے میں زمیں نہ بھی ہو سکے تو باقی دنیا انہیں سر آنکھوں پہ بٹھائے گی۔ برطانیہ ہوم آفس کے مطابق، صرف 2023 میں 30,000 سے زائد پاکستانی طلبہ کو سٹوڈنٹ

Read more

تقسیم متحدہ ہندوستان: ایک حقیقت یا فریب

ہر سال مارچ آتے ہی ہمارے یہاں پاکستان کے وجود میں آنے کی بحث شروع ہو جاتی ہے جو اگست تک اپنی انتہا تک جا پہنچتی ہے۔ بحث کا محور زیادہ تر یہی رہتا ہے کہ آیا پاکستان کا بننا خطے کے مسلمانوں کے حق میں تھا یا متحدہ ہندوستان کو توڑ کر ہم نے غلطی کی؟ اس بحث سے ہٹ کے کیا کبھی اپنے غور کیا ہے کہ آیا متحدہ ہندوستان جیسی جغرافیائی حدود رکھنے والا کوئی ملک کبھی

Read more

کیا آپ بھی تعلیم اور شعور کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں؟

ہمارے وطن عزیز میں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب کسی شخص کے پاس کہنے کو کچھ نہی ہوتا تو وہ اپنی تعلیم کو ہتھیار کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ اپنی تعلیمی اسناد کو اپنے باشعور ہونے کی دلیل بنا کر سامنے والے کو مرعوب کرنا بھی ہمارے ہی معاشرے کا خاصا ہے۔ اور کیوں نہ ہو جس ملک کے سربراہ آکسفورڈ اور ہارورڈ کے فارغ التحصیل رہے ہوں وہاں کے لوگ اگر تعلیم کو دانش کی

Read more

جمہوریت ایک فرسودہ نظام؟

آج سے کوئی ڈھائی ہزار سال پہلے ایتھنز کے بڑوں نے جب جمہوریت کی داغ بیل ڈالی تب ان کے وہم اور گمان میں بھی یہ خیال نہ ہو گا کہ آگے چل کر یہ نظام بھی شخصی آمریت کو دوام بخشنے کا ایک متبادل ذریعہ ہی ثابت ہو گا۔ انسانوں کی معلوم تاریخ کے ایک تہائی حصے تک بتدریج پروان چڑھنے والی جمہوریت تب سے بہت سی قوموں کی اساس رہی ہے۔ یہاں تک کہ اپنے اقدار سے جنون

Read more

اسلام، ارتقا اور معاشی نظام

ہر وہ چیز جو چاہی کسی بھی شخص یا معاشرے کی طرف سے سامنے آئے اس کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح سے کوئی بھی نظام چاہی وہ اقتصادی ہو معاشرتی یا تعلیمی، اگر وہ نظام اسلام کے بنیادی قوانین کے مخالف نہیں یا ممنوعہ چیزیں نکالنے کے بعد اس کا نفاذ ممکن ہو سکے، اس کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور یہی اسلامی معاشی نظام کی بھی بنیاد ہے۔ اسلامی معاشی نظام میں جن اشیا کا

Read more

اسلامی معاشی نظام: ایک غیر مذہبی، مغربی تناظر میں تجزیہ

ہم سب کے پلیٹ فارم پر اسلامی معاشی نظام کے موضوع پر اکثر کالم شایع ہوتے رہے ہیں۔ ان کالمز میں گاہے بہ گاہے اسلامی بینکاری نظام کے بارے میں شکوک وہ شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ حقیقتاً جس طرح ہمارے وطن عزیز میں اکثر چیزوں کو مذہبی لبادہ اڑھا کہ ان کی اہمیت بڑھا دی جاتی ہے اسی طرح یہ سمجھنا کہ اسلامی بینکاری نظام بھی روایتی بینکاری کا ہی کا دوسرا نام ہے اور کچھ نہیں،

Read more

جمہوریت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان

جنوری 1649 کی سرد رات میں ٹھٹھرتے جسم نے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا کے اس کے جسم کے کانپنے کی وجہ موت کا ڈر نہیں بلکہ ایسا موسمیاتی اثر کی وجہ سے ہے۔ 30 جنوری کی اس رات کو پھانسی پانے والا وہ شخص برطانیہ کا بادشاہ چارلس اول تھا جس کا جرم صرف ملکی مفاد میں کے گئے اپنے فیصلوں کو پارلیمنٹ کی رائے سے بالاتر سمجھنا اور پارلیمنٹ کو 11 سال تک معطل رکھنا تھا۔ اس کی

Read more

اخلاقیات اور اقتصادیات کے بیچ بڑھتا ہوا فاصلہ

ہم میں سے کافی اشخاص جب اپنے معاشرتی ماحول سے نکل کے قدرے مختلف معاشرے میں جا بستے ہیں تو اکثر دیکھا گیا ہے کے انھیں نئے اقدار کو اپنانے کے لیے ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو یہ عرصہ کئی نسلوں تک محیط ہوتا ہے۔ یہ کہنا بھی بیجا نہ ہو گا کہ نئے معاشرے میں ضم ہونے میں ایک بڑی رکاوٹ ہمیں اپنی جان سے پیارے ہمارے اخلاقی اقدار ہوتے ہیں۔ تاآنکہ ایک ایسی نسل وجود

Read more

ہلاکو خان کا شرعی جواز اور مکالمے کی سیاست

سن 1258 کی بات ہے، مسلمانوں کی مسلکی رنجشیں اپنا اثر دکھا چکیں تھیں۔ آخری عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کے قتل کیا گیا تاکہ خلیفہ کے پاک خون کا اک قطرہ بھی خاک آلود نا ہونے پائے۔ شب طرب اپنے عروج پے تھی کہ نئے وزیروں (جو خلیفہ کے بھی وزیر رہ چکے تھے ) کو خیال آیا کہ حق نمک ادا کیا جائے اور بادشاہ سلامت کی لا دینی اور اسلام بیزار امیج کو بدل

Read more

وزیر خارجہ کا غیر محتاط لب و لہجہ

سقراط، بقراط، افلاطون اور ارسطو قدیم یونان کے عظیم فلسفیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انسانوں کو پرکھنے کے ان کے اپنے ہی انداز ہوتے تھے۔ اک مثل اس حوالے سے زبان زد عام ہے کہ ایک بار استاد محترم ارسطو کی محفل میں ایک باوقار دیدہ زیب شخص کی آمد ہوئی۔ محفل میں موجود ہر شخص نو وارد کی شخصیت سے مرعوب ہوا چاہتا تھا کہ استاد محترم نے آنے والے سے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ”حضور

Read more

اپنی تاریخ سے خوفزدہ ہم الباکستانی

حال ہی میں ہم سب پر ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں مضمون نگار نے تاریخ میں موجود ابہام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا اور صاحب علم لوگوں کو دعوت فکر دیتے ہوئے چند سوالات پیش کیے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا اور ان صاحب کی تصحیح کی جاتی لیکن ہوا وہی جو آج کل ہمارے معاشرے کا خاصا بن چکا ہے۔ ایک طرف

Read more