راولپنڈی کی بینک روڈ اور میٹرو کا سفر
کئی دنوں سے راولپنڈی کی اُس سڑک کی وڈیو دیکھ رہی تھی جو میٹرو بس کے صدر اسٹیشن سے ملحقہ ہے، اور جسے اب خوابناک حد تک بدل دیا گیا ہے۔ اپنے شہر میں گرد و پیش کچھ اچھا ہو اور ہماری بصارت اس سے محروم ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
ملگجا سا اندھیرا چھا رہا تھا۔ ارد گرد پھیلے کوڑا کرکٹ کو رات کی سیاہی اپنے پہلو میں چھپا کر ایک نئے منظر نامے کو تخلیق کر رہی تھی۔ ہم نے اسلام آباد آئی ایٹ کے میٹرو اسٹیشن پر گاڑی کھڑی کی۔ اور سیڑھیاں چڑھ کر ایک لمبے پل پر چلتے ہوئے نیچے نائنتھ ایونیو پر دوڑتی گاڑیوں اور ان میں بیٹھے لوگوں کو گھروں کی جانب بھاگتے ہوئے دیکھتے دیکھتے گرد و پیش کو عبور کر کے دوسری جانب پہنچنے والے تھے کہ راستے میں میرے میاں نے میٹرو بس کارڈ میں کچھ پیسے ڈلوائے۔ یہ کارڈ ہم نے میٹرو کے افتتاح کے پہلے دن ہی بنوا لیے تھے اور میٹرو بس پر ہمارا پہلا سفر اس کی پیدائش کے پہلے ہی دن منہ دکھائی کے طور پر ہوا تھا۔
میٹرو اسٹیشن پہنچے۔ قطار میں لگے، کیونکہ وہاں ڈیوٹی پر کھڑا عملہ لوگوں کی قطار بنوانے اور اُسے برقرار رکھنے میں مستعد تھا۔ بس کھڑی ہوئی تو کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ مشکل سے ایک آدھ بندے کی ہی گنجائش تھی۔ میرے آگے کھڑی بچیوں نے مجھے راستہ دے کر کہا آنٹی آپ بس پر سوار ہو جائیے۔ میں جانے لگی تو ایک لڑکی نے پکارا آنٹی انکل نہیں بیٹھے آپ بھی باہر آ جائیں۔ وہ شاید ہم دونوں بزرگوں کو ایک ساتھ اکٹھے دیکھ چکی تھی۔ مگر پھر فوراً ہی دوسری نے کہا انکل بس میں جا چکے ہیں آپ بھی چلی جائیں۔ مجھے اُن کی اس توجہ اور باخبری سے بہت خوشی ہوئی۔
لندن کی میٹرو پر اتنا سفر کیا ہے کہ وہاں رہتے ہوئے مجھے ہر اسٹیشن ازبر ہو گیا تھا۔ مجھے یہاں بھی وہی منظر تھوڑے سے ردو بدل کے ساتھ نظر آیا۔ بس مسافروں کے لباس کا فرق تھا۔ عوام کے لیے اتنی اچھی سفری سہولت دیکھ کر بہت مسرت ہوئی۔ میں بس میں سوار ہوئی تو رش اتنا تھا کہ منہ سے منہ، جسم سے جسم جڑا ہوا تھا۔ بس کی چھت پر لگے ڈنڈوں کی وجہ سے کھڑے مسافروں کو کافی سہارا مل جاتا ہے۔ چونکہ میں دروازے کے ساتھ کھڑی تھی لہذا بس کے رُکنے اور چلنے پر دروازہ مجھے چھو کر ہی کھلتا اور بند ہوتا۔ جونہی دروازہ بند ہوتا، دو تین آوازیں میری سماعت سے ٹکراتیں۔ آنٹی دیکھیے۔ سنبھل جائیے۔ کہیں دروازہ نہ لگ جائے۔ مجھے اپنے سفید بالوں اور بزرگی کی وجہ سے ارد گرد کھڑی بچیوں نے مکمل طور پر اپنی حفاظت میں لے رکھا تھا۔ ان کی وجہ سے مجھے رش میں بھی لطف آ رہا تھا۔
ایک دو اسٹیشن کے بعد میں کھسکتے کھسکتے درمیان میں آ چکی تھی۔ اب ایک بچی تیزی سی اپنی سیٹ سے اُٹھی اور مجھے بیٹھنے کے لیے اپنی نشست عطا کر دی۔ اس کی خالی کردہ نشست پر بیٹھنے کے بعد میں اُس کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہی تھی مگر اُس کا منہ دوسری طرف تھا اور وہ میری تعریف سے بالکل بے نیاز تھی۔ صدر اسٹیشن کے قریب پہنچے تو میرے ساتھ والی سیٹ خالی ہو گئی اور میری محسن کو بھی بیٹھنے کی جگہ مل گئی۔ میں نے شفقت بھری نظروں سے اُسے دیکھا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔ اور پوچھا کہاں سے آ رہی ہیں اور منزل کہاں ہے؟
کہنے لگی کہ میں نمل یونیورسٹی میں سافٹ ویئر کی طالبہ ہوں۔ روز میٹرو پر آتی جاتی ہوں۔ کتنا وقت لگتا ہے؟ میں نے پوچھا۔ اس بچی نے جواب دیا آدھا گھنٹہ۔ اور ساتھ ہی میٹرو بس سروس پر تبصرہ کیا آنٹی، بچیوں کے لیے یہ بہت بڑی سہولت ہے اور سب سے بڑھ کر محفوظ ہے۔ ہمارے والدین بھی مطمئن ہیں۔
صدر جا کر بس خالی ہو گئی۔ اور اترنے کے بعد ہم چند قدم چل کر اُس مشہور زمانہ بینک روڈ پر تھے، جسے انتظامیہ نے اپنی بہترین کارکردگی سے یورپ کی مصروف سڑکوں کی طرز پر تجرباتی طور پر بنایا ہے۔ گو یہ چھوٹا سا ہی حصہ ہے لیکن یقین جانیئے دیکھ کر لطف آ گیا۔ جی چاہا اپنے اوپن مائیک کے فنکاروں سے کہوں کہ یہاں آ کر کوئی راگ شری، ایمن، یا راگ درباری کا الاپ لگائیں تاکہ لطف و سرور کا مزا دوبالا ہو جائے۔
یہاں بے شمار کپڑوں کے ڈیزائنرز کی دکانیں تھیں۔ جو بے رونق ہی تھیں۔ مگر کسی دکان کے اندر جانے کے لیے یہ دلِ مسکین نہ مچلا۔ مچلا تو موبائل فون کی دکانیں دیکھ کر۔ میری التجا بھری نظریں میاں کو دیکھنے لگیں۔ اور اپنے موبائل فون کی بوسیدہ لباسی کا گلہ کرنے لگیں۔ دکان پر موبائل فون کی تبدیلی پوشاک کے دوران میں نے دکاندار سے پوچھا کہ اس سڑک کی نئی صورت کے بعد آپ کے کاروبار میں کیا تبدیلی آئی؟ کہنے لگے کہ اس سڑک پر گاڑیوں کا داخلہ بند ہونے سے ہمارا گاہک تو کم ہوا ہے، مگر ہم بہت خوش ہیں۔ یہ وقتی سا اثر ہے۔ انشاءاللہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے۔
واپسی کے سفر میں مجھے آرام سے سیٹ مل گئی اور میں اونچائی سے گرد و پیش کا جائزہ لیتی رہی۔ بس تیزی سے منظر بدل بدل کر، میری منظر کَشی کے حسن میں اضافہ کرتی رہی۔ کہیں اسلامی شہد، سٹوڈنٹ بریانی، پہلوان ریوڑی، میاں حیات بخش پلازا، رابی سنٹر۔ مزید یہ کہ اندرون شہر کے بہت سے محلوں کی چھوٹی چھوٹی گلیاں بھی نظر آ رہی تھیں، جنہیں دیکھ کر میں تصورات میں کھو گئی۔
ان میں آمنے سامنے والے گھروں کے دروازے کُھلنے پر مکینوں کی آنکھیں چار بھی ہوتی ہوں گی۔ کئی نوجوانوں کے دل بھی راز و نیاز کی منزلیں طے کرتے ہوں گے۔ خواتین بھی ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتی ہوں گی۔ دُکھ درد بانٹتے ہوئے زمانے بھر کے حالات پر بھی نظر ہوتی ہوگی۔ ایک دوسرے کی زندگیوں میں بھر پور دخل اندازی، کیا پکایا، کیا کھایا، کیا پہنا، کس کی میاں کے ساتھ بنتی ہے، اور کس کی لڑائی رہتی ہے؟
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کلچر سے دور ہوئے تو ہمارے اندر تنہائیوں نے ڈیرے ڈال لیے۔ کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ایک حسرت ضرور ہے۔ کہ کاش مجھے راولپنڈی کی تنگ گلیوں اور محلوں میں کچھ عرصے کے لیے ہی سہی رہنے کا موقع مل جائے۔ تاکہ ساتھ ساتھ جُڑے گھروں کے مکینوں کے شب و روز کے معمولات کو محسوس کرنے اور تنہائی بمقابلہ پرائیویسی کی پرکھ کا ٹھیک سے اندازہ ہو سکے۔ انسان بھی کیا چیز ہے۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
اور پھر یہ بھی کہ
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے



بنک روڈ کے فٹ پاتھ ایک عرے تک بہترین اولڈ بک شاپ کا متبادل تھے۔ اور یہ زیادہ تر وہ لوگ چلاتے تھے جن کی دکانیں ذرا دور ہاتھی چوک کے چق بازار میں تھیں۔ اب کہاں ہیں ! شاہد ہوں ہم ہی نہیں۔