بنگلہ دیش میں کچھ دن: قسط 1


dr shershah syed

(دسمبر کے مہینے میں ڈاکٹر شیرشاہ سید دو سال میں ایک بار ہونے والی نویں کانفرنس آف انٹرنیشنل سوسائٹی آف فیسٹولا سرجنز میں شرکت کی غرض سے ڈھاکہ، بنگلہ دیش گئے۔ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ انہوں نے بنگلہ دیشی سماج اور نظام کا بغور مشاہدہ بھی کیا۔ وہ باقاعدگی سے دوستوں کے واٹس اپ گروپ کو اپنے تجربات اور مشاہدات پہ مبنی روزنامچہ بھیجتے رہے۔ ”ہم سب“ کے لیے ان کی انگریزی تحریر کا ترجمہ اور تلخیص گوہر تاج نے کی)

میری کوتاہی:

چار دسمبر کو جب میں کراچی ائرپورٹ پہنچا تو مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔ بنگلہ دیش کی فلائیٹ پکڑنے کے لیے گیٹ پر موجود گارڈ نے مجھے بتایا کہ میرے ٹکٹ کے مطابق یہ فلائیٹ پانچ دسمبر کی ہے۔ انہوں نے کچھ کہا تو نہیں مگر ان کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ اس نام نہاد پڑھے لکھے آدمی کو تو دیکھو جسے اپنی پرواز کے صحیح دن کے بارے میں بھی معلوم نہ تھا۔

بنگلہ دیش میں یونیورسٹی والوں کو فون کر کے اپنی غلطی سے آگاہ کرنا میرے لیے خاصی شرمساری کی بات تھی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ جمعرات کو آرام کا پلان ملتوی کر دیا جائے اور ہم جمعہ کے اصل پلان کو جاری رکھیں گے۔ اگلی شام میرے دوست ڈاکٹر شعیب سبحانی نے دو بار میری فلائٹ کی تفصیلات چیک کرنے کے بعد مجھے ائرپورٹ پر ڈراپ کیا۔ ائرپورٹ پر پچھلے سے مختلف گارڈز دیکھ کر مجھے سکون ملا۔

میں ڈھاکہ کی فلائٹ پکڑنے کے لیے وقت پر دبئی پہنچ گیا۔ اتفاق سے مجھے کینیڈا کی ایک بنگلہ دیشی لڑکی کے پڑوس میں سیٹ مل گئی۔ اس کے والدین اس وقت کینیڈا ہجرت کر گئے جب بنگلہ دیش، مشرقی پاکستان تھا۔ اس نے کینیڈا میں اچھی تعلیم حاصل کی اور اب کینیڈین گورنمنٹ میں اچھی پوسٹ پر کام کر رہی تھی۔ وہ چار زبانوں پہ قادر اور بنگلہ دیش، کینیڈا، پاکستان اور انڈیا کی سیاست اور معاشیات کو سمجھتی تھی۔

طویل دوستانہ گفتگو کے دوران اس نے مجھے بتایا کہ پاکستان ہر میدان میں بنگلہ دیش سے پچاس سال پیچھے ہے۔ میں نے اس کی تصحیح کی۔ ”لیکن ہم بدعنوانی میں بنگلہ دیش سے بہتر ہیں اور ہم نے لفظ کرپشن کو نئے معنی دیے ہیں۔“ جس پہ وہ ہنسی اور مجھے بنگلہ دیش میں کرپشن کی کچھ کہانیاں سنائیں۔

بنگلہ دیش میں :

میں 6 دسمبر صبح 8 بجے ڈھاکہ پہنچا۔ 51 ڈالر دے کر ویزا مل گیا۔ جب امیگریشن افسر نے میری تصویر کھینچی تو میں نے مذاقاً پوچھا کہ کیا میں اچھا لگ رہا ہوں؟ جواب ملا ”جی بالکل، آپ بالی ووڈ میں گاندھی کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔“ میں اس کی حس مزاح سے متاثر ہوا۔

امیگریشن کے بعد میرا استقبال یونیورسٹی سے آنے والے جہانگیر نے کیا۔ میں نے بیلٹ پہ اپنے سامان کا انتظار کیے بغیر ٹوائلٹ جا کر پہلے جلدی سے شیو کیا اور یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبران اور MPH طلباء سے ملاقات کے لیے تیار ہو گیا۔ جب میں واپس آیا تو جہانگیر بھی اپنے سامان کے ساتھ تیار تھا۔

ائر پورٹ پر بھیڑ تھی ائر پورٹ سے باہر نکلنے میں بیس منٹ لگے اور ہم ڈھاکہ کی سڑکوں سے گزرے اور وقت پر یونیورسٹی پہنچ گئے۔ جہاں قاضی محی الاسلام، ایک بہت پڑھے لکھے آدمی اور سابق سیکرٹری صحت نے میرا استقبال کیا۔ جو مجھے ”دیدی کینٹین“ لے گئے۔ اس کو چلانے والی دیدی کا تعلق سلہٹ سے ہے۔ جو اس کینٹین کو یونیورسٹی اور اس کی ترقی کے لیے رضاکارانہ طور پر چلا رہی ہیں۔

یہ کینٹین تمام عملے کو خدمات اور بات چیت کے لیے جگہ فراہم کرتی ہے۔ یہیں میری پروفیسر قاضی سے بنگلہ دیش کے مستقبل اور سیاسی صورتحال کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ اپنے حقوق اور عزت کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ بنگلہ دیش میں انتخابات جلد ہوں گے۔

میں نے منسٹری آف ہیلتھ کے طلباء سے تفصیلی ملاقات کی۔ جس میں پاکستان میں خواتین کی صحت اور خواتین کے حقوق کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔ سامعین نے بہت دلچسپی اور توجہ سے میری گفتگو سنی۔ اور ساتھ ہی مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ بھی ہو گئی۔ جب ہم نے سیاست پر بات کی تو میں نے بھارت کے خلاف ان کی دشمنی کو واضح طور پہ محسوس کیا۔

مجھے ایک لڑکی نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں سو فیصد لڑکیاں سکول جا رہی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب مجھے اندازہ ہوا کہ کینیڈا کی بنگالی لڑکی صحیح کہہ رہی تھے۔ واقعی پاکستان پچاس سال پیچھے ہے۔

سات دسمبر 2024 ء

ہم ڈھاکہ سے دوپہر ایک بجے شیام نگر منشی پور کے لیے روانہ ہوئے جہاں مجھے جماعت اسلامی کے ایک رکن پارلیمنٹ سے ملنا تھا۔

ہائی وے اچھی طرح سے تعمیر شدہ اوور ہیڈ برجز اور انڈر پاسز کے ساتھ صاف ستھرا تھا۔ تعمیر بہت پیشہ ورانہ تھی۔ اور ہمارے گرتے ہوئے مخدوش پلوں سے کوئی مماثلت نہیں ہے جن کی تعمیر میں کوئی جمالیاتی حس نہیں۔

راستے میں ہم بھاٹیہ پور میں آم کے 131 سال پرانے درخت کو دیکھنے کے لیے رکے۔ یہ ایک بہت بڑا اور متحیر کن درخت ہے جس کی چاروں سمت دریا بہتے ہیں۔ یہ پورا علاقہ مختلف قسم کے درختوں کی عظیم شجرکاری کا حصہ ہے۔ لوگ اس درخت کا دورہ کرتے ہیں اور یہاں تازہ پھلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

حال ہی میں ملتان میں ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے آم کے سینکڑوں عظیم درخت کاٹ دیے گئے۔ جو ایک غلط فیصلہ تھا۔ درختوں، پودوں اور جانوروں کی حفاظت ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے ہم ان مسائل کے سلسلے میں بے حس اور بے رحم واقع ہوئے ہیں۔

متواتر تین گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد ہم بھاٹیہ پور پہنچے۔ بنگلہ دیش سرسبز، قدرتی جھیلوں، چھوٹی ندیوں اور درختوں سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کا رویہ دوستانہ ہے اور وہ آپ کو فوری چائے پینے کی پیش کش کرتے ہیں۔

بنگلہ دیشی ڈھابہ میں زبردست چائے :

ڈاکٹر نظمل نے مجھے بتایا کہ یہ ان کا پسندیدہ ٹی ہاؤس ہے۔ چائے بالائی کی ایک موٹی تہہ سے ڈھکی ہوئی تھی۔ یہ ایک پرہجوم جگہ تھی۔

ڈاکٹر نظمل مجھے ایک اور ڈھابہ لے گئے جہاں ہم نے ویجیٹئرین کھانے کا مزہ لیا۔ دال، مکس سبزی، لال ساگ، توری اور آلو کا سالن۔ تین گھنٹے کی طویل ڈرائیو کے بعد یہ ایک دعوت تھی۔ ہم تازہ ناریل پینے کے لیے ایک اور جگہ رکے۔ بنگلہ دیش کو قدرت نے بہت ہی زرخیز زمین سے نوازا ہے، اس پر محنتی سپر جینئس کسان محنت اور اپنے ہنر سے نہ صرف فصل اگاتے ہیں۔ بلکہ نت نئے تجربات بھی کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی درست ہے کہ اس ملک کی وزیر اعظم حسینہ شیخ آمر بن گئیں اور کرپٹ اشرافیہ کی مدد سے جمہوریت کو تباہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے ملک کی ترقی کے لیے کچھ اچھے کام بھی کیے۔ مثلاً زچگی میں اموات کی شرح کو کم کرنے کے لیے سخت محنت کی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ کرپشن میں بھی شریک بن گئیں۔ اور یوں نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمٰن کا نام ڈبویا۔

ہم موت کلی کے راستے میں تبلیغی جماعت کے ایک اجتماع میں رکے۔ جہاں سینکڑوں لوگ انتہائی غیر صحت مند حالت میں موجود مذہبی نعروں والی تقریر سن رہے تھے۔ حال ہی میں یہ تبلیغی جماعت دو گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ دہلی گروپ اور بنگلہ دیشی گروپ اور زیادہ تر تقریریں اس تقسیم کے بارے میں تھیں۔

واپسی میں ہم ایک اور ڈھابے پر رک گئے اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ عورتیں بغیر حجاب کے مردوں کے ساتھ بیٹھی ہیں اور چائے اور بسکٹ سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

—————–

ڈاکٹر نظام الاسلام کے ذریعے میں نے جماعت اسلامی کے ایم پی قاضی نذر السلام سے ملاقات کا وقت طے کیا جو رات دس بجے ہم سے ملنے آئے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ سارا دن بہت مصروف رہتے ہیں۔

ڈاکٹر نظمل نے مجھے قاضی صاحب کے متعلق بتایا کہ وہ ایک استاد ہیں ایک کمرے کے چھوٹے سے گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں جہاں صرف بنیادی ضروریات زندگی ہیں۔

قاضی صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز عوامی لیگ سے کیا لیکن پالیسیوں پر اختلافات کے بعد عوامی لیگ چھوڑ کر سوشلسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ وہ سوشلسٹ لیڈروں اور ان کے طرز زندگی کے تضادات کے باعث مزید اس میں نہ رہ سکے۔ پھر وہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کے بعد رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ دیر سے اس لیے آئے کیونکہ وہ مصروف تھے اور لوگوں سے مل رہے تھے اور انہیں 2025 ء کے انتخابات کی تیاری کروا رہے تھے۔

انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے حلقہ کتھا کلی میں ہر لڑکی سکول جا رہی ہے۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے بہت حامی تھے اور ان لوگوں سے اتفاق نہیں کرتے جو خواتین کی تعلیم بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر لڑکی سکول جائے اور ریاضی پڑھے۔ وہ مولانا بھاشانی کے بہت بڑے پرستار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بنگال کے حقیقی رہنما تھے۔ ”اب لوگوں کو اس کی عظمت کا اندازہ ہو رہا ہے۔“

ہم نے مختلف امور پر طویل بحث کی۔ میں نے انہیں اجرک کا تحفہ دیا اور اس کے مخصوص ڈیزائن / پرنٹنگ کے متعلق بھی بتایا۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS