اسلامی ریاست یا جدید لبرل ریاست؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم خلافت راشدہ کے بارے میں پڑھتے ہیں تو اس کے نظام عدل، حکمرانوں کے عوام کے آگے جوابدہ ہونے اور فلاحی نظام کے خد و خال سب سے پہلے ہمیں اپنی جانب کھینچتے ہیں اور دل کرتا ہے کہ وہی دور لوٹ آئے۔

بدقسمتی سے اب وہ دور تو لوٹ نہیں سکتا ہے کہ نبیؐ پاک کے تربیت یافتہ لوگوں کے مرتبے کو کون پہنچ سکتا ہے۔ نہ ہمیں یہ قبول ہے کہ ہتھیار کے بل پر کوئی بھی شخص حکومت پر قبضہ کر لے اور خود کو زبردستی خلیفہ قرار دے دے۔ مسلم ملک کا حکمران تو ایسا ہونا چاہیے جس کی عوام کا غالب گروہ بیعت کرنے پر رضامند ہو۔

ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سے مغربی تعلیم سے متاثر افراد کے ذہن میں یہ خوف بھی جاگزیں ہو جاتا ہے کہ ملک پر داعش کے ابوبکر البغدادی جیسا حکمران مسلط نہ ہو جائے اس لئے وہ خلافت کے نام سے گھبراتے ہیں۔ ایسے عوام کی اکثریت ہے اور اسی وجہ سے وہ مذہب کے نام پر سیاست نہ کرنے والی پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں اور اسلام کے نام پر ووٹ مانگنے والوں سے گھبرا کر حکومت ان کو دینے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔ تو پھر بہتر یہی ہے کہ اس مضمون میں ’خلیفہ‘ کی بجائے ’حکمران‘ کا لفظ استعمال کر لیا جائے تاکہ یہ لوگ بھی بلا خوف و خطر اسے تسلیم کر لیں۔

سوال یہ ہے کہ ایک جدید اسلامی حکومت کیسی ہونی چاہیے؟ سب سے پہلے تو یہ بات طے ہونی چاہیے کہ ملوکیت نہیں ہو گی۔ قوم ایک معاہدہ کر لے جس میں طے کر لے کہ خلیفہ کیسے منتخب ہو گا اور اسے کیسے رخصت کیا جائے گا۔ قوانین پر سب متفق ہو جائیں اور انہیں ایک تحریری شکل میں لے آئیں جو کہ ہر خاص و عام پر یکساں انداز میں منطبق کیے جائیں۔ آسانی کے لئے اس دستاویز کو آئینِ مملکت کا نام دے دیتے ہیں تاکہ ہمارے لبرل بھائیوں سمیت سب طبقات اس پر متفق ہونے میں عار محسوس نہ کریں۔ جبر کے ذریعے مسلط کیے جانے والا نظام نہیں چل سکتا ہے۔ جلد یا بدیر بغاوتیں پھوٹ پڑیں گی اور بدامنی ہو گی۔ ہاں وہ نظام چل سکتا ہے جس پر یہ تمام طبقہ ہائے فکر اتفاق کر لیں۔ ہر طبقے کو کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑے گا اور اسے سو فیصد اپنی مرضی کا نظام نہیں ملے گا۔ مگر بحیثیت مجموعی اگر ہر ایک ہو اس نظام میں اپنا فائدہ دکھائی دے گا تو اسے اس نظام کی پاسداری میں دلچسپی ہو گی۔

متفقہ آئینِ مملکت بنانے والی شوری میں عوام اپنے اپنے علاقے سے اپنے نمائندے بھیجیں جو عوام کے مسائل سے واقف ہوں۔ یہ شوری ایسی ہو کہ اسے حاکم وقت کا خوف نہ ہو اور وہ آزادی سے عوام کی فلاح کے لئے قوانین بنا سکے۔ اس لئے آئین میں حکمران سے اس معاملے میں اس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔

قاضی کا رول بھی ایک ملک میں اہم ہے۔ قاضی کی ذمہ داری ہو کہ وہ طے شدہ قوانین کا تمام شہریوں، حکمرانوں اور ریاستی اداروں پر یکساں نفاذ کرے۔ قاضی کے سامنے ایک کمزور اور ایک طاقت ور ایک برابر ہوں۔ حاکمِ وقت کو ایک شہری بھی عدالت میں کھِنچ لائے اور اپنا حق وصول کرے۔

یعنی مقننہ، حکمران اور عدلیہ کا دائرہ کار متعین کر دیا جائے اور اپنے اپنے دائرے میں یہ مکمل آزادی سے کام کریں۔ سنہ 1973 کے آئین میں یہ سب کچھ موجود ہے۔

یہ تو تھی نظام حکومت پر ایک طائرانہ نظر۔ اب دیکھتے ہیں کہ ریاست کے شہریوں کے کیا حقوق ہونے چاہئیں۔

تمام شہریوں کو رنگ، نسل، زبان، جنس، عقیدے، سیاسی رائے، جائے پیدائش، مال و دولت کی بنا پر تفریق کیے بغیر برابر کا انسان سمجھا جائے۔ ان کو غلام نہ بنایا جائے۔ ان کا مال و دولت نہ چھینا جائے۔ کسی کو بلاوجہ گرفتار یا جلاوطن نہ کیا جائے۔ انہیں ملک میں نقل و حرکت کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو۔ فرد کی آزادی کے متعلق حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے ماتحت گورنر عمروؓ ابن العاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا دیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔‘ انسانی برابری کے لئے خطبہ حجت الوداع کا حکم ہمارے پاس موجود ہے۔

خدائے بزرگ و برتر نے انسان کو عقل دے کر اپنی راہ آزادانہ طور پر چننے کا اختیار دیا ہے۔ انسان پر جبر نہیں ہے۔ وہ خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا اور شرک سے بچے گا تو جنت میں جائے گا ورنہ جہنم اس کا مقدر ہو گی۔ یعنی انسانوں کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو بھی اچھا برا عقیدہ چاہیں اختیار کریں۔ کسی کو دیوبندی مسلک پسند ہے تو دیوبندی ہو جائے، بریلوی فکر سے متاثر ہے تو بریلوی ہو جائے، اہلحدیث ہونا چاہتا ہے تو ایسا کرے، اس کے آبا مسیحیت، ہندو مت، بدھ مت وغیرہ وغیرہ پر ہیں یا وہ خود ان سے متاثر ہے تو منافقت کیے بغیر اپنی پسند کا کوئی بھی عقیدہ اختیار کرے۔ ریاست کے پاس اختیار نہ ہو کہ عقیدے کے معاملے میں کسی فرد پر جبر کرے۔ اسلام واضح طور پر حکم دیتا ہے کہ دین میں جبر نہیں۔ عقیدے کی بنیاد پر جزا و سزا کا فیصلہ صرف رب العالمین ہی کر سکتا ہے کیونکہ وہی دلوں کا حال جانتا ہے۔

اسی طرح شہریوں کو متفقہ اخلاقی اور قانونی حدود و قیود میں رہتے ہوئے اپنی بات کہنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ ویسا نہ ہو جیسا کہ شام میں بشار الاسد اور مصر میں جنرل السیسی کرتے ہیں کہ شہریوں کو اپنا سیاسی موقف بیان کرنے پر یا اداروں کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر جیل میں ڈال کر بھول جاتے ہیں۔ یا جیسا ایران میں ہوتا ہے کہ سنی حضرات اپنی عبادت کی آزادی کھو بیٹھے ہیں یا جیسے سعودی عرب میں شیعہ عوام کو اپنی بات کرنے پر سزائے موت تک دی جاتی ہے۔ مشرق وسطی کی ان آمریتوں میں عوام پر جلسے جلوس کی پابندی اس حد تک رہی ہے کہ شاہ ایران کے زمانے میں اہل تشیع کو ایران میں محرم کا جلوس تک نکالنے کی اجازت نہیں تھی۔ اظہار رائے کی آزادی ان شہریوں کا حق ہے۔ اس آزادی کی ایک نمایاں شکل ایک آزاد پریس ہے۔

آپ میں سے بہت سے کہیں گے کہ یہ تو اسلام کے اصول ہیں اور ایک جدید اسلامی ریاست کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ چند پکار اٹھیں گے کہ یہ تو لبرل ازم کے اصول ہیں اور ان کو ایسا نظام چاہیے۔ تو صاحبو، آپ کو جو نام بھی پسند ہو، اسے دے دیں۔ مگر ریاست کو ان خطوط پر منظم تو کریں۔ اور کبھی وقت ملے تو سوچیں کہ لبرل ازم اور اسلام کے مشترکات کیا کیا ہیں۔ تعصبات سے بالاتر ہو کر علم حاصل کرنا مفید ہوتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1442 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar