طلبا پر ذہنی دباؤ اور دورِ حاضر کے چیلنجز
صبح اٹھنے سے رات سونے تک کی تگ و دو میں آج کا نوجوان متزلزل پن کا شکار ہے۔ کبھی حالاتِ حاضرہ ناساز اور کبھی مستقبل میں نا ہموار رستے کی لو دن بہ دن اس نوجوان نسل کو دیمک کی مانند کھا رہی ہے۔ یوں وہ نہ صرف روز مرّہ زندگی میں دلچسپی لینے سے عاری ہو رہی ہے بلکہ ناقص سرگرمیاں بھی سرانجام دے رہی ہے۔
زندگی سب کے لئے یکسر نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ ہو گی۔ ہر انسان گزرتے دن کے ساتھ مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے وقت کی کشتی پر سوار ہے۔ بھوک پیاس کی اس جنگ کے مارے وہ نتائج کے افکار سے آزاد ہو کر استحکام کی گردان لئے ہر ادارے کی خاک چھان رہا ہے۔ چونکہ میرا تعلق طلبہ برادری سے ہے اس لئے حالات کا ادراک اپنے ہی گردونواح سے کرایا جائے تو برا نہ ہو گا۔ حال ہی میں چند جامعات ملک و قوم کی ترقی کی خاطر اپنا کردار نبھاتے ہوئے طلبہ کی کھیپ کو ریاست کی جھولی میں ڈالنے کے لئے کوشاں رہی ہیں اور سو کالڈ امتحانی نظام اس کا کلیدی عنصر رہا ہے۔
یکے بعد دیگرے طلبہ اس زہر کو پیتے ہیں۔ لہٰذا اپنی پیداواری مہارت کو زنگ لگاتے ہیں اور اساتذہ اس مبارک عمل میں ساتھ دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ تعلیم کے نام پہ روزانہ کی بنیاد پر ایک بیٹھک ان جامعات کی زینت بنتی ہے۔ استاد دس دس بیس بیس سال کے تجربے کے بعد بھی صدیوں پرانی باتوں کو دہرانا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ پرانے ویژن کو آج کے جدید سائنسی دور میں لاگو کرنا ان کی فطرت کا حصہ بن گیا ہے۔ ان کے قانون و ضوابط پتھر پہ لکیر کی مانند ہیں۔ جس کا ہر گزرتے وقت کے ساتھ طلبہ کی نفسیات پر گہرا اثر ہو رہا ہے۔ بیش بہا ایسے کئی واقعات ہیں جن کا اساتذہ سے کوئی واسطہ نہیں لیکن پھر بھی وہ سرانجام دے رہے ہیں۔
تصویر کا دوسرا رُخ بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ بلکہ یہاں حالات پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں وہ اس لیے کہ طلبہ کی نوے فیصد میجورٹی پڑھائی کے بارے میں غیر سنجیدہ ہے۔ جامعات میں استعمال کی جانے والی ٹرمینالوجی ”ONE NIGHT STUDY“ کے دوغلا پن سے دماغوں میں رات و رات سکالر بننے کا وہم انہیں پڑھائی سے دور کیے رکھتا ہے۔ پھر استاد کی ہر کہی بات ان کے لئے قرآن کی آیات کے برابر ہوتی ہے جس پہ سوال اٹھانا تو کیا سوچنا بھی ناممکن ہے۔ تنقیدی سوچ سے لاتعلقی، گہرا علوم اور تجزیے سے وابستگی ظاہر کرنا ان کے زمرے سے باہر ہے۔ نوکریوں کا حصول ان سے تخلیقی صلاحیتیں چھین رہا ہے۔ جس کے پیش نظر دن بہ دن یہ شعبہ تنزلی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
معاملات دونوں طرف ہی سازگار نہیں۔ جہاں اساتذہ جدید تعلیم سے عاری ہیں وہیں دوسری طرف طلبہ کی بھاری اکثریت اس کو سر کرنے میں ناکام ہے اور نظام کے خلاف بولنے سے قاصر ہے اور اس کا ناجائز فائدہ اساتذہ اپنے کیرئیر کو گَرو کرنے میں اٹھا رہے ہیں۔ اگر طلبہ کی جانب رہ کر سوچا جائے تو انہیں بات کرنے کے مواقع ہی فراہم نہیں کیے جاتے اور ایسی ایسی کہانیاں سنا کر خوف دلایا جاتا ہے کہ انہیں اپنا مستقبل لڑکھڑاتا محسوس ہوتا ہے۔
جس کی بدولت وہ اپنے لیے بات منوانا تو کیا اپنے لئے بولنا بھی مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔ یوں اساتذہ اپنی نوکریوں اور روزگار کو بچانے کے لئے طلبہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی طرح طلبہ دن بہ دن ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں اور اساتذہ کو نوکریاں چھن جانے یا عہدوں سے برخاستگی کا خوف ذہنی مریض بنا رہا ہے۔ یوں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کے پاس نوکریوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور طلبہ کے پاس نوکریوں کا حصول نہیں۔ لہٰذا دونوں طرف ہی نفسانفسی کا عالم ہے طلبہ کے پاس چونکہ اتھارٹی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ زیادتی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ دور کی ڈیمانڈ ماضی کی شرائط کی نسبت روشنی کی رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ دونوں کو اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جہاں طلبہ کو اپنی خامیوں پہ توجہ دینے کا عمل لا حق ہے وہیں اساتذہ کو بھی روایتی سوچ سے نکلنے کا عندیہ درکار ہے۔ لہٰذا ایک دوسرے کو بھینٹ چڑھانے اور الزام تراشی سے باہر نکل کر دونوں یکجا ہو کر کام کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اگر جامعات واقعی ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار نبھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تو دونوں مل کر ان عوامل پر کام کریں جس کی آج کے دور میں ضرورت ہے نا کہ رٹّا سسٹم کے تحت امتحانی نظام سے گزار کر سولہ سالہ طوطوں کو ریاست کے ماتھے پر چمکا دی جائے۔ جب تخلیقی صلاحیتوں اور تنقیدی سوچ کو بروئے کار لایا جائے گا، معمول کا حصہ بنایا جائے گا تب نوکریوں کا حصول بھی مشکل نہیں ہو گا۔ اسی طرح بڑھتے ہوئے پریشر اور حالات حاضرہ کے چیلنجز کا سامنا کرنے میں بھی دقت نہیں ہوگی۔


