ایک پیش گفتہ موت کی روداد از :گابرئیل گارشیا مارکیز


ایک پیش گفتہ موت کی روداد، عالمی شہرت یافتہ ناول نگار ”گابرئیل گارشیا مارکیز“ کا ناول ہے جس میں انھوں نے عزت کے نام پر ”سانتیا گو نصر“ کے سفاکانہ قتل کو بنیاد پر بنا کر معاشرے میں دندناتے ہوئے بھیانک اور غیر انسانی رویوں کو بے نقاب کرنے کی سعی کی ہے۔ سانتیاگو نصر کے قتل کی کہانی اس کے پڑوس میں ہونے والی انجلا ویکاریو اور بیاردوسان رومان کی شادی سے شروع ہوتی ہے۔ سہاگ رات کو جب یہ دونوں اکٹھے ہوتے ہیں تو بیاردوسان رومان پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اس کی بیوی باکرہ نہیں۔

لہٰذا پہلے سے جنسی اختلاط کی حامل ہونے کی پاداش میں وہ اسی رات انجلا سے اپنی راہیں جدا کر لیتا ہے۔ انجلا طلاق لے کر جب میکے پہنچتی ہے تو اس کی ماں اور دونوں جڑواں بھائی پیدرو اور پابلو ویکاریو اس پر تشدد شروع کر دیتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کون تھا جس نے آپ کی دوشیزگی کو تار تار کیا۔ وہ ڈر کے مارے یا شاید اپنے اصل آشنا کو بچانے کے لیے ”سانتیاگو نصر“ کا نام لیتی ہے۔ پابلو اور پیدرو ویکاریو اپنی بہن کے الزام کی تحقیق کیے بغیر اپنی عزت کا بدلہ لینے کے لیے سانتیا گو نصر کو قتل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور بالآخر وہ اپنے اس فعل میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ قتل کے بعد دونوں بھائی پکڑتے جاتے ہیں اور تین سال بعد عدالت ان کے اقدامِ قتل کو ان کا جائز حقِ دفاعِ عزت تسلیم کر کے رہا کر دیتی ہے۔

اس ناول میں یہ دکھایا گیا ہے کہ معاشرہ ایک غیر مرئی اور فعال ساخت رکھتا ہے۔ معاشرے کی فعالیت نے فرد سے اس کی اپنی مرضی کی ہر سرگرمی سرانجام دینے کا اختیار چھین لیا ہے جو معاشرے کی نام نہاد اقدار سے متصادم ہو۔ یہاں فرد جو بھی کرتا ہے درحقیقت وہ فرد نہیں کرتا بلکہ معاشرہ کرواتا ہے۔ بیاردوسان رومان انجلا کو طلاق نہ دیتا اگر معاشرے نے غیر باکرہ لڑکی کو بیوی بنانا باعث شرمندگی نہ بنایا ہوتا۔ لہٰذا بیاردوسان رومان سماج کی نام نہاد اور قبیح اقدار سے مجبور ہو کر اپنی اس محبت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جس کی تلاش میں وہ قریہ قریہ گھوما اور جس کے لیے اس نے انتہائی محبت سے گودی میں موجود سب سے قیمتی محل خریدا تھا۔

دوسری طرف پابلو اور پیڈرو ویکاریو کسی قیمت پر بھی سانتیا گو نصر کو قطعاً قتل نہ کرتے اگر معاشرے نے شادی سے پہلے کسی خاتون کے جنسی تعلق کو اس کے خاندان کی عزت اور ذلت سے نہ جوڑا ہوتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ وکاریو برادران سانتیاگو کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے وہ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ خود کو معاشرے کی ان ظالمانہ اقدار سے آزاد کر لیں۔ اسی لیے تو انھوں نے قتل سے پہلے ہی پورے معاشرے میں یہ خبر پھیلا دی اور سانتیا گو نصر کو خط بھی بھیجا کہ ہم تجھے قتل کرنے والے ہیں۔

اس پیشگی اطلاع کا یہی مقصد تھا کہ لوگوں خبر ہو جائے تاکہ لوگ ہمیں اس قبیح فعل سے باز رکھنے میں ہماری اعانت کرسکیں۔ صد افسوس کہ کلوتیلد ے آرمنتا کے علاوہ پورا معاشرہ ہی سانتیاگو نصر کے قتل ہونے پر راضی تھا۔ معاشرے کی بے حسی دیکھ کر وکاریو برادران سانتیاگو نصر کا بادل ناخواستہ قتل کرتے ہیں اور جیل چلے جاتے ہیں۔ تین سال بعد جب وہ جیل سے رہا ہوتے ہیں تو ایک مشتعل عرب گروہ سے بچنے کے لیے کلیسا میں پناہ لیتے ہیں۔

کلیسا نے نہ صرف ان کی سپہر اندوختگی کو نہایت باوقار عمل کے طور پر دیکھا بلکہ وکاریو برادران خود بھی یہی کہتے ہیں کہ: ”ہم نے اسے علانیہ قتل کیا ہے۔ ہم بے گناہ ہیں“ ۔ ان کا اس مقدس جگہ پر اقبالِ جرم کر کے بھی خود کو بے گناہ کہنا قولِ محال نہیں۔ کیونکہ گناہ صرف وہ فعل ہے جو یا تو مذہب سے تخالف رکھتا ہو یا سماج سے تفاوت۔ جبکہ یہاں سماج اور مذہب دونوں نے وکاریو برادران کے اقدامِ قتل کو بہت سراہا تھا۔ وکاریو برادران کا خود کو بے گناہ قرار دینا اس صورت میں بھی انتہائی بامعنی ہے کہ وہ خود یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قتل ہم نے نہیں بلکہ معاشرے کی مجرمانہ خاموشی نے کروایا ہے۔ لہٰذا دونوں صورتوں میں ان کا خود کو بے گناہ کہنا بالکل بجا ہے۔

مارکیز نے گودی نامی قصبے کی اس منافقت کی پردہ کشائی بھی کی ہے کہ یہ معاشرہ بظاہر سیکس کو جس طرح معیوب سمجھتا ہے درِ پردہ اتنے ہی جنسی اختلاط کو معمول کی سرگرمی بھی سمجھتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابراہیم نصر ( سانتیا گو نصر کے والد) اپنے اصطبل میں وکتوریا گزمان کی جوانی کے مزے لیتا ہے اور پھر جب اسے احساس ہوتا ہے کہ وکتوریا گزمان ڈھلتی عمر کے ساتھ اپنی تمام تر جنسی کشش کھو چکی ہے تو وہ اسے باورچی خانے کے سپرد کر دیتا ہے۔

جبکہ اس کے بطن سے جنم لینے والی دیوینا فلور سانتیاگو نصر کے بستر کا مقدر بن جاتی ہے۔ اسی طرح معاشرے کے اس دوغلے پن کو بھی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے کہ معاشرہ اقدار سازی تو کرتا ہے لیکن اسے مرد و زن پر یکساں نافذ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ مرد سینکڑوں عورتوں سے اختلاط کے باوصف بھی کنوارا اور معصوم ہے جبکہ عورت اپنی دوشیزگی کھونے کی وجہ سے قابل ِ گردن زدنی سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ معاشرہ بیاردوسان رومان کی شکل میں مردوں کو یہ حق تو دیتا ہے کہ وہ کئی قصبے گھوم پھر کر اپنی لیے من پسند رفیقہ حیات کا انتخاب کریں لیکن وہی معاشرہ انجلا کے انکار کے باوجود اسے بیاردوسان رومان کی جھولی میں پھینکنے پر مجبور کرتا ہے۔

اس منفرد کہانی کی پیش کش میں مارکیز نے جہاں شعور کی رو اور فلیش بیک کی تکنیک کا بھر پور استعمال کیا ہے وہاں انھوں نے ایک نئی تکنیک کا استعمال بھی کیا ہے جسے ہم تفتیشی تکنیک کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح کسی واردات کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ کر چشم دید گواہان کے بیانات قلم بند کرتی ہے اسی طرح مارکیز نے بھی چشم دید گواہان کے بیانات قلم بند کر کے سانتیا گو نصر کے قتل کی کہانی کو آگے بڑھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ناول میں کئی راویان نظر آتے ہیں۔

ایک راوی مستقل موجود رہتا ہے جو کرداروں کا غیر محسوس انداز سے تعارف کرواتا ہے جبکہ دیگر راویان موقع و محل کی مناسبت سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاَ: سانتیا گو نصر کے قتل ہونے کے دن اپنے کمرے سے باورچی خانے تک کا سفر اس کی ماں ”پلاسیدا لنیرو“ نے بیان کیا ہے جبکہ باورچی خانے سے باہر جانے تک کی کہانی کو باورچن وکتوریا گزمان اور اس کی بیٹی دیوینا فلور نے بیان کی ہے۔ گھر کے باہر جب پیدرو اور پابلو ویکاریو نے سانیتاگو نصر کو گھیر لیا تھا اور وہ اسے قتل کرنے والے تھے تو کلوتیلد ے آرمنتا کی منت سماجت پر انھیں اپنا ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔

اس منظر کو چشم دید گواہ دودھ فروش کلوتیلدے آرمنتا کی زبانی بیان کروایا ہے جبکہ شادی کی تقریب کے تمام واقعات انجلا کی زبانی بیان کروائے گئے ہیں۔ اسی طرح کہانی شعور کی رو کی تکنیک کی وجہ سے ماضی، حال اور مستقبل کے زمانوں میں بھی سفر کرتی رہتی ہے اور اپنے اختتام تک بیسیوں راویان بھی تبدیل کرتی رہتی ہے۔ یہ مارکیز کا جادوئی قلم ہی تھا جس نے اتنے کثیر راویان ِ قصہ کی مختلف آرا کو ایک ہی نکتے پر منتج کیا ہے۔

مارکیز نے خود کو روایتی ارسطویائی پلاٹ کا پابند نہیں کیا بلکہ انھوں نے پلاٹ کی روایتی ترتیب (ابتدا، وسط اور انتہا) کو توڑا ہے۔ کہانی کی ابتدا فلیش بیک سے کرتا ہے اور ماضی، حال اور مستقبل کے تینوں زمانوں میں برابر سفر کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح اس ناول میں مارکیز نے جادوئی حقیقت نگاری Magical realism) ) سے بھی بھر پور کام لیا ہے۔ اس تکنیک میں مصنف حقیقت پر بعید از قیاس اور جادوئی واقعات کی دبیز تہہ چڑھا دیتا ہے۔

ناول میں قدم قدم پر نئے نئے کردار سامنے آتے ہیں لیکن مارکیز نے ان کرداروں کو ناول کی ضرورت کے مطابق تخلیق کیا ہے۔ ناول کا ہر کردار اپنی موجودگی کا جواز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر کردار دوسرے سے مختلف ہے۔ مرکزی کردار سانتیاگو نصر کا ہے جس کے گرد ساری کہانی کا تانا بانا بُنا گیا ہے۔ وہ ابراہیم نصر نامی عرب کے بیٹے تھے۔ اپنے قتل ہونے سے قبل اس نے ایک شادی میں شرکت کی تھی اور شادی کی صبح وہ بشپ سے ملنے گئے تھے کہ واپسی پر وکاریو برادران کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

Facebook Comments HS