پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت اور شعبہ فلسفہ


خیر تقریباً ایک ہفتہ تک یہ کشمکش چلتی رہی۔ ایک دن مغرب کے وقت صدر شعبہ میرے پاس ہوسٹل نمبر دس، ٹیچرز ہوسٹل، میں تشریف لائے اور مجھے کہا کہ جمعیت والے کسی اور شعبے کے استاد کی معیت میں ٹرپ کل صبح لے جا رہے ہیں۔ اب کیا کیا جائے؟ میں نے مشورہ دیاکہ ہمیں یونیورسٹی کی انتظامیہ کو مطلع کر دینا چاہیے کیونکہ انہوں نے بعد میں ذمے داری ہمارے سر ڈال دینی ہے۔ ہم نیو کیمپس کی رہائشی کالونی میں آرٹس فیکلٹی کے ڈین صاحب کے گھر گئے اور انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ ہماری بات سن کر وہ کہنے لگے کہ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن میں آپ کو وائس چانسلر صاحب کے پاس لے چلتا ہوں اور آپ لوگ ساری صورت حال انہیں بتا دیجیے۔ وہ ہمیں اپنی کار میں وائس چانسلر ہاؤس لے گئے۔ وہاں دو تین اساتذہ اور بھی موجود تھے۔ صدر شعبہ نے وائس چانسلر کو تمام واقعات بیان کیے اور یہ بھی کہا کہ ہم نے طلبہ اور طالبات کے علیحدہ علیحدہ ٹرپ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات سن کر وائس چانسلر صاحب نے ایک استہزائیہ قہقہہ لگایا۔ ان کا مطلب تھا کہ یہ تو ٹرپ نہ لے جانے والی بات ہوئی۔ وائس چانسلر صاحب کا فرمانا تھا یہ مناسب نہیں لگتا کہ کسی اور شعبے کا استاد ٹرپ کے ساتھ جائے۔ آپ اپنے شعبے کے کسی استاد کی ڈیوٹی لگائیں کہ وہ ساتھ جائے۔ صدر شعبہ کے جواب دینے سے پہلے میں بول پڑا کہ سیر و تفریح کرانا ہماری ذمے داری نہیں ہے۔ ایک بہت جونیئر لیکچرر کی زبان سے یہ جواب سن کر ان کا چہرہ لال سرخ ہو گیا لیکن جہاں دیدہ اور فہیم انسان ہونے کی وجہ سے وہ غصے کو پی گئے۔ وائس چانسلر صاحب کا موڈ دیکھ کر وہاں موجود اساتذہ بھی ہاں میں ہاں ملانے لگے کہ آپ لوگ ٹرپ لے جائیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔

ابھی یہ بات ہو رہی تھی اور وائس چانسلر صاحب مسلسل یہی کہہ رہے تھے کہ شعبے کے کسی استاد کو ہی ساتھ جانا چاہیے کہ اتنے میں دروازہ کھلا اور امیر العظیم صاحب اندر داخل ہوئے۔ انہیں دیکھ کر وائس چانسلر صاحب کا چہرہ کھل اٹھا اور کہنے لگے کہ لیجیے آپ کا مسئلہ حل ہو گیا۔ انہوں نے امیر العظیم سے دریافت کیا کہ فلسفے کے ٹرپ کا کیا مسئلہ ہے؟ صدر یونین نے جواب دیا کہ کوئی مسئلہ نہیں، ٹرپ صبح جا رہا ہے۔ وائس چانسلر صاحب نے پوچھا کہ ساتھ کون جا رہا ہے تو صدر کا جواب تھا کہ فلاں استاد ساتھ جا رہے ہیں۔ اس پر وائس چانسلر صاحب نے کہا کہ نہیں وہ تو بہت ینگ ہے، کسی سینیر استاد کو ساتھ جانا چاہیے۔اس پر امیر العظیم نے ایک اور استاد کا نام لیا کہ پہلے ہم نے ان سے درخواست کی تھی۔ یہ نام سن کر وائس چانسلر صاحب بہت خوش ہوئے کہ بہت اچھی بات ہے۔ ان سے کہیں کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے جائیں جو طالبات کا خیال رکھے گی۔ میں نے جمعیت کے رعب اور دبدبے کے متعلق سن تو بہت کچھ رکھا تھا لیکن اس کا مظاہرہ اپنی آنکھوں سے پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ عبرت کا مقام تھا کہ وائس چانسلر صاحب ہمیں تو اصرار کر رہے تھے کہ شعبہ فلسفہ کے استاد کو ہی ساتھ جانا چاہیے مگر یہ بات انہیں صدر یونین سے کہنے کی جرآت نہیں ہوئی تھی۔ اگلے دن شعبہ فلسفہ کا ٹرپ صحافت کے ایک استاد کے ساتھ روانہ ہوا۔

1991 کا سال تھا جب شعبہ فلسفہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جن سٹوڈنٹس کے لیکچر مطلوبہ تعداد سے کم ہوں گے ان کا امتحانی داخلہ نہیں بھیجا جائے گا۔ تعلیمی سال کے آغاز پر اس فیصلے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں ایسی کوئی روایت نہیں تھی اس لیے کسی کو بھی یقین نہیں آیا کہ ایسا کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ ہم ہر مہینے تمام کلاس کی حاضریوں کو نوٹس بورڈ پر آویزاں کرتے رہے۔ سال کے اختتام پر جب سٹاف میٹنگ ہوئی تو میں نے تمام اساتذہ کو آئندہ پیش آنے والی صورت حال پر بریف کیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں آپ کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے اور آپ کو کس طوفان بدتمیزی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس لیے سب لوگ ٹھنڈے دل سے اس پر فیصلہ کریں کیونکہ قدم اٹھانے کے بعد واپسی کا میں قائل نہیں ہوں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3