پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت اور شعبہ فلسفہ


شعبہ فلسفہ کا ایک امتیاز یہ بھی رہا ہے کہ سب اساتذہ مختلف خیالات و نظریات کے حامل ہونے کے باوجود شعبے کے معاملات اتفاق رائے سے طے کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی سازش میں ملوث نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ ہم لوگ اپنے فیصلوں کو منوانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ سب اساتذہ نے فیصلہ کیا کہ ہم اس فیصلے پر عمل درآمد کریں گے اور اس کے جو بھی نتائج ہوں گے ان کا سامنا کریں گے۔

اب حاضریوں کا حساب کیا گیا توکئی طلبہ و طالبات کے لیکچر مطلوبہ تعداد سے کم تھے اور ان میں جمعیت کے ناظم بھی شامل تھے۔ جن طلبہ کا داخلہ روکا جانا تھا جب ان کے نام نوٹس بورڈ پر آویزاں کیے گئے تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ تاہم ابتدا میں جمعیت نے ان سٹوڈنٹس کو یقین دلایا کہ ہمارے ہوتے کسی میں یہ جرآت نہیں ہو سکتی کہ وہ داخلہ روک سکے۔ انہی دنوں اساتذہ کے ایک گروپ کے ساتھ مجھے وائس چانسلر ڈاکٹر منیر الدین چغتائی کے ساتھ ملاقات کا موقع میسر آیا۔ چغتائی صاحب نے مجھے پوچھا کہ آپ کے شعبے میں کوئی مسئلہ ہے؟ میرا جواب تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔ فرمانے لگے کہ آپ لوگوں نے سٹوڈنٹس کے داخلے روکے ہیں جس پر میرا جواب ہاں میں تھا۔ چغتائی صاحب نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ یونیورسٹی کیلنڈر میں لکھا ہوا ہے۔ کہنے لگے وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ روایت نہیں ہے؛ آپ لوگ ایکسٹرا کلاسیں لے کر ان کے لیکچر پورے کروا دیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو اساتذہ کو سزا دینے والی بات ہے۔ اس پر انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ سٹوڈنٹس سے اسائنمنٹس لکھوا کر ان کے لیکچر پورے کر دیے جائیں۔ میں نے کہا کہ سر آپ ایک نوٹیفیکیشن نکال دیجیے کہ اسائنمٹس لیکچرز کا بدل ہو سکتی ہیں تو ہم ضرور ایسا کر لیں گے۔ اس پر وائس چانسلر صاحب خاموش ہو گئے۔

جب جمعیت والوں نے دیکھا کہ شعبے والے سچ مچ سیریس ہو گئے ہیں تو ہمارے خلاف پوسٹر لگنا شروع ہو گئے جن پر طرح طرح کے الزامات لکھے ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ گھی کا ایک خالی ٹین بھی ڈیپارٹمنٹ میں لٹکا دیا گیا۔ قصہ یہ تھا کہ اس وقت شعبے میں ایک طالب علم تھا جس کی گھی کی مل تھی اور اس نے کسی وقت دفتری سٹاف کو گھی کے ڈبے لا کر دیے تھے۔ مجھے تو خیر اس قسم کی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ زمانہ طالب علمی میں ان تماشوں سے بہت دوچار ہو چکا تھا مگر ہمارے صدر شعبہ انتہائی خلیق، مرنجاں مرنج انسان تھے جو ساری عمر تنازعات سے دور ہی رہے تھے۔ وہ اس طوفان بدتمیزی پر بہت پریشان ہوئے اور ایک دن مجھے کہنے لگے کہ پوسٹر اور ٹین اتروا نہ دیں۔ اس پر میرا جواب تھا کہ پوسٹر اتروانے سے انہیں یہ تاثر ملے گا کہ ہم ڈر گئے ہیں یا ان حرکتوں سے پریشان ہو رہے ہیں تو ان کو اور شہہ ملے گی ۔ ایک دن کیا ہوا کہ وہ ٹین کسی وجہ سے گر گیا۔ اگلی صبح جب ہم شعبے میں پہنچے تو ایک رسی کے ساتھ سات آٹھ ٹین لٹک رہے تھے۔ تب صدر شعبہ کو میری بات کا یقین آیا۔ میرا موقف یہ تھا کہ ہمیں ان شنیع حرکات کو نظر انداز کرنا چاہیے اور اپنی بات پر قائم رہنا چاہیے۔

جمعیت کی قیادت کے افراد روزانہ ہمارے پاس آتے۔ گفتگو کا آغاز لجاجت سے کرتے اور انجام دھمکیوں پر ہوتا۔ زیادہ صدمے کی  بات یہ تھی کہ یونیورسٹی انتظامیہ مکمل طور پر جمعیت کا ساتھ دے رہی تھی اور صدر شعبہ پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ میں نے ان کو ابتدا میں بتا دیا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب وائس چانسلر صاحب آپ سے یہ کہیں گے کہ اگر آپ داخلے بھیجنے پر رضامند نہیں ہیں تو پھر آپ استعفیٰ دے دیں۔ اس صورت میں آپ نے استعفیٰ نہیں دینا بلکہ ان سے یہ کہنا ہے کہ آپ مجھے شعبے کی صدارت کے منصب سے ہٹا دیں۔

جمعیت کے رعب اور دبدبے کے پیش نظر کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ ہم اپنے اس اقدام میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ایک بہت ذہین طالب علم تھا، جو ہوسٹل میں جمعیت کے تشدد کا نشانہ بن چکا تھا، مجھے کہنے لگا کہ سر داخلہ تو جانا ہی ہے، بس اتنا ہے کہ آپ کچھ رلا کر بھیجیں گے۔میں نے کہا کہ تم یہی سمجھتے ہو۔ اس نے کہا کہ یہاں جمعیت کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ اچھا بس دیکھتے جاؤ۔ ایک دن آرٹس فیکلٹی کے ڈین صاحب راستے میں مل گئے۔ مجھے کہنے لگے کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔ یہاں وہی ہوتا ہے جو جمعیت چاہتی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ سر آپ بس انتظار کیجیے، اس بار کچھ مختلف ہو گا۔

جب تمام دھمکیوں اور دھونس کا کوئی نتیجہ نہ نکلاتو بالآخر ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی لیکن وہ رٹ بھی پہلی ہی پیشی پر خارج ہو گئی کیونکہ ہماری کاغذی کارروائی مکمل اور قانون کے مطابق تھی۔ جب امتحان میں دو دن رہ گئے تو وائس چانسلر صاحب نے ایک حکم جاری کیا کہ ان طلبہ کے داخلہ فارم بھیج دیے جائیں لیکن صدر شعبہ نے اس حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے وائس چانسلر صاحب کو ایک پیغام بھیجا کہ عدالت میں جو رٹ فائل کی گئی تھی اس میں آپ کا نام جواب دہندگان میں پہلے نمبر پر تھا اور عدالت میں جو بھی بیان دیا گیا تھا وہ یونیورسٹی کی جانب سے تھا۔ اب اگر آپ اس قسم کا حکم دیں گے تو میں آپ پر توہین عدالت کا کیس دائر کر دوں گا۔ چغتائی صاحب نے بعد میں میرے ایک سینیردوست کے ساتھ بہت گلہ کیا کہ میں نے انہیں اس قسم کا غیر معقول اور نامناسب پیغام بھیجا تھا۔

اس وقت یہ جمعیت کی پہلی بڑی شکست تھی۔ وہ تمام تر حربے آزمانے کے باوجود بھی شعبہ فلسفہ کے اساتذہ کو جھکانے، ڈرانے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ اگر چہ اس کا خمیازہ مجھے اورایک اور رفیق کار کو بہت زیادہ بھگتنا پڑا تھا۔ اسے تو نوکری سے نکلوانے کا پورا بندوبست کر لیا گیا تھا لیکن انہیں اس میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ تاہم شعبہ فلسفہ کی دھاک پوری یونیورسٹی پر بیٹھ گئی تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3